08:29 am
منظور پشتین کی پی ٹی ایم اوربھارت

منظور پشتین کی پی ٹی ایم اوربھارت

08:29 am

’’میرے محترم پختون بھائیو، بہنو، ماؤ، بزرگو اور نوجوانو،سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں،میں پاک فوج کے نمائندے کی حیثیت سے آپ سب کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاک فوج آپ کی ہے، جیسے پاکستان ہم سب کا ہے،اگر پاکستان خوشحال اور آباد ہوگا تو ہم سب بشمول پختون خوشحال ہوں گے،اور اگر خدانخواستہ پاکستان کو کوئی نقصان ہوگا تو یہ ہم سب بشمول پختونوں کا نقصان ہو گا،آپ کو علم ہے کہ کچھ لوگ کسی کے ورغلانے پر آپ لوگوں کو پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف اُکسانا چاہتے ہیں،میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مملکت پاکستان کو آپ کی قربانیوں کا احساس ہے،ریاست اس سلسلے میں دن رات مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ آپ کے مسائل حل کر دیںاور میں آپ سب کویہ بتاناچاہتا ہوں کہ پاک فوج اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک آپ کے مسائل حل نہہوں،ہم آپ سے بھی امید رکھتے ہیں کہ آپ لوگ نہ صرف ان کی باتوں میں نہیں آئینگے بلکہ ایسے ملک دشمن قوتوں کا راستہ بھی روکیں گےاور پاکستان کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔‘‘


آئی ایس پی آر کی تاریخ میں پہلی با رفوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور باجوہ نے پشتو زبان میں کے پی کے اور قبائلی علاقہ جات کے عوام سے پریس کانفرنس میں مخاطب ہوئے ہیںاور انہوں نے اتنی روانی کیساتھ پشتو زبان میں فاٹاکے عوام کو پاکستان کا پیغام دیا کہ ملکی اور غیر ملکی صحافی بھی حیران ہو کر رہ گئے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پشتو زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔
پی ٹی ایم کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم کیلئے اب چھوٹ ختم،پی ٹی ایم بتائے وہ پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا؟بھارتی و افغان ایجنسیاںانہیں پیسہ دے رہی ہیں، دھرنے کیلئے ’’را‘‘ نے کتنے پیسے دیئے؟منظور پشتین کا کونسا رشتےدار بھارتی قونصلیٹ گیا؟جو شخص فوج کے حق میں بولتا ہے وہ کیوں مارا جاتا ہے؟ پیٹی ایم اور ٹی ٹی پی کا بیانیہ ایک کیوں ہے؟بتایا جائے پی ٹی ایم فوج کے خلاف چندہ کیوں جمع کر رہی ہے؟کیا پی ٹی ایم کے مسائل مودی نے حل کرنا ہیں؟آئین پاکستان مسلح افواج پر تنقید سے منع کرتا ہے، ریاست ماں ہوتی ہے آپ فوج سے کس بدلے کی بات کررہے ہیںکہ ہم بدلہ لیںگے کیا آپ لیٹا سکتے ہیں فوج کو؟کوئی بھی ریاست سے جنگ نہیں کرسکتا،آرمی چیف نے پہلے ہی دن کہا تھا کہ بیٹا ان کے ساتھ پیار سے ڈیل کرنا ہے ، جن لوگوں کو آپ ورغلا رہے ہیں ہمیں ان کا خیال ہےورنہ آپ سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں۔  میجر جنرل آصف غفور کا  بھارت کی طرف سے شرپسندی ،پاکستان کا ایف سولہ طیارہ مار گرانے ،سرجیکل اسٹرائیکس کے جھوٹ کے پلندے اور دیگر بھارتی دروغ گوئی پر دیا جانے وال جواب تاریخی کہا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 4 ایسی وجوہات ہیں جس سے یہ سب ہوا، پہلا یہ کشمیر کا معاملہ کیونکہ کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے اور یہ ہمارے نظریے کے ساتھ ہے، ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ کشمیر کو ہم نے آزاد کرانا ہے، اس کے لیے کئی جنگیں ہوئیں، دوسرا یہ پاکستان کی ایک جغرافیہ ہے۔ خطے میں افغانستان میں 40 سال سے پہلے سوویت یونین آئی پھر نائن الیون کے بعد امریکی فورسز آئیں تو خطے کے اندر بین الاقوامی پراکسیز چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں 1979 کے بعد افغان جنگ کے ساتھ ایک جہاد کی ترویج شروع ہوئی، ساتھ ہی ایران میں انقلاب آیا جس کا ہمارے معاشرے پر یہ اثر ہوا کہ مدرسے بڑھنے شروع ہوگئے ان میں جہاد کی تر ویج زیادہ ہوگئی۔ افغانستان میں جو جنگ چل رہی تھی اسے جائز قرار دے کر اس حساب سے فیصلے لیے گئے اور اس طریقے سے پاکستان میں ایک جہاد کی فضا قائم ہوگئی، اس کے علاوہ خطے میں دوسری پراکسیز تھیں، سعودی عرب اور ایران ان کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے اور عسکریت پسندی اور انتہا پسندی ہمارے معاشرے میں شامل ہونا شروع ہوگئی۔
 آج 27فروری کو گزرے 2ماہ ہوگئے لیکن بھارت ان گنت جھوٹ بولے جارہا ہے، ہم نے ذمہ دار ملک کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا، یہ نہیں کہ ہم جواب نہیں دے سکتے، وہ جھوٹ بولیں اور ہم ان کا جواب دیں، جھوٹ کو سچ کرنے کے لیے بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے جبکہ سچ ایک مرتبہ کہا جاتا ہے تو ہم نے ان کے ان جھوٹوں کا بھی جواب نہیں دیا اور ذمہ دار رہے۔ اسی لیے ان کو بار بار جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے، حقیقت یہ تھی کہ پلواما میں ایک واقعہ ہوا اور وہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا پولیس کے خلاف اس قسم کے حملے وہاں 3، 4سال سے جاری ہیں،اسی قسم کے واقعات ایک مقامی ایکشن کے طور پر پولیس کے خلاف پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ ہم نے بھارت کی فضائی کارروائی ناکام بنائی، نہ ہمارا کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی انفرااسٹرکچر کو کوئی نقصان پہنچا، یہ صرف مقامی میڈیا نے نہیں بلکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی دیکھا بلکہ ہم نے تو میڈیا کو بھی اس جگہ کا دورہ کروایا اور بین الاقوامی میڈیا سے کہا کہ بھارت جو یہ کہتا ہے کہ ہم نے انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا اور 300 لوگوں کو ماردیا تو اس سے کہیں کہ ایک مرتبہ اس کا ڈیمو دے دیں اگر ایسا ہوگیا تو ہم مان لیں گے۔
  جنرل باجوہ نے درست کہا کہ اگر انہیں اب بھی تسلی نہیں ہوئی تو ہم کہتے ہیں کہ اپنا میڈیا  ہی پاکستان بھیج دیں، میں انہیں سہولت دوں گا کہ جاکر دیکھیں کہ کہاں اسٹرائیک کی ،تاہم پاک فضائیہ نے بھارت کے 2 طیارے گرائے اور اس کا ملبہ پوری دنیا نے زمین پر دیکھا جبکہ بھارتی فضائیہ نے ہماری فضا ئیہ کے ڈر سے اپنا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گرادیا اور اس کا بلیک باکس بھی گم کردیا۔بھارت نے اسٹوری بنائی کہ پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے 2 پائلٹ بتائے جو بعد میں ایک ہوگیا تو میں بتادوں کہ جنگ کے دوران ایسی رپورٹس آتی ہیں اور اس وقت 2 کی رپورٹس تھیں تاہم بعد ازاں یہ بتایا گیا کہ ایک ہی پائلٹ کی رپورٹ 2 جگہ سے ہوئی اور میں نے بعد میں اس کی تصحیح بھی کی لیکن بھارت دوسری بات کو ہی لے کر بیٹھا ہوا ہے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کا ایف 16 گرایا ہے، آج کل موٹرسائیکل گرجائے تو خبر نہیں چھپتی ایف 16 تو بہت بڑی بات ہے۔بعد ازاں امریکا نے پاکستان کے ایف 16 کی گنتی کی جو سب نے پڑھی، لہٰذا جھوٹ کے کوئی پائوں نہیں ہوتے۔بالاکوٹ پر بھارتی دعوئوں پر ان کا کہنا تھا کہ آپ نے رات میں کارروائی کی کوشش کی ہم نے دن میں کارروائی کی۔ بھارتی میڈیا نے جو کردار ادا کیا اگر وہ نہ کرتا تو آج مشرق پاکستان الگ نہ ہوتا جبکہ ہمارے میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت دیا لیکن آپ کے میڈیا کو رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

 

تازہ ترین خبریں