08:32 am
انسانی حقوق اور اسلام

انسانی حقوق اور اسلام

08:32 am

 آج میں یومِ مئی کے حوالے سے کچھ بات کرنا چاہ رہا ہوں اور اس ضمن میں، میں نے سورۃ الحدید کی آیت 25 پیش نظرہے یہ قرآن مجید کی سب سے بڑی انقلابی آیت ہے، لیکن یومِ مئی کے ساتھ بھی اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔فرمایا:  ’’ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہو جائیں۔‘‘



یہاں تین چیزوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھیجی گئیں : (1)بینات (2) کتاب‘ (3) میزان۔ ’’بینات‘‘کا لفظ عام طور پر رسولوں کے تذکرے میں معجزات کے لیے آتا ہے،’’کتاب‘‘کا مفہوم واضح ہے جبکہ’’ میزان‘‘کو اردو میں ترازو کہتے ہیں۔ اس میزان کو پوری دنیا میں عدل و انصاف کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتوں کے اوپر ایک ترازو نصب کیاجاتا ہے۔ اصطلاحی معنی میں میزان سے مرادعادلانہ نظام ہے،یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو ایک مکمل عادلانہ نظام دے کر بھیجا ہے تاکہ اللہ کی زمین پر ایسا نظام قائم ہوجس سے تمام لوگوں کو ان کے حقوق پورے عدل وانصاف کے ساتھ ملیں اور کسی کا استحصال نہ ہو۔
 اس نظامِ عدل و قسط کے حوالے سے یہ حقیقت مدنظر رہنی چاہیے کہ معاشرے کے مراعات یافتہ طبقات کے لیے یہ نظام کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہوتا ۔ اس لیے جونہی اس کے قیام کے لیے ٹھوس کوششوں کا آغاز ہو گا، یہ طبقات ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے آموجود ہوں گے۔چنانچہ آیت کے اگلے حصے میں ایسے عناصر کی سرکوبی کا نسخہ بتایا جا رہا ہے :’’اور ہم نے لوہا بھی اُتارا ہے ‘اس میں شدید جنگی صلاحیت ہے اور لوگوں کے لیے دوسری منفعتیں بھی ہیں۔‘‘
 اس نظام کو قائم کرنے کے لیے فولاد کی قوت استعمال کرنی پڑے گی اس لیے کہ مراعات یافتہ طبقات (جو غریبوں کا خون چوس رہے ہوتے ہیں) وہ کبھی انصاف پر مبنی نظام کو نہیں آنے دیں گے۔آیت کے آخری حصہ میں فرمایا گیا :’’تاکہ اللہ جان لے کہ کون مدد کرتا ہے اُس کی اور اُس کے رسولوں کی غیب میں ہونے کے باوجود۔یقینا اللہ بہت قوت والا‘ بہت زبردست ہے۔‘‘گویااس نظام کے نفاذ کی کوششوں سے پتا چلے گا کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے سچے وفادار کون ہیں جو اس نظام کو قائم کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دیں گے، اور کون ہے جو باطل نظام کا وفادار بن کر اسلام کے غلبے کا راستہ روکنے کے لیے فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے۔
 اللہ عزوجل نے یہ کامل عادلانہ نظام اس لیے دیا تھا تاکہ دنیا سے بے انصافی اور استحصال کا خاتمہ ہو، جو آج قدم قدم پر موجود ہے ۔ اللہ کے اس نظام کے علاوہ کوئی نظام بھی اس استحصال کو ختم نہیں کر سکتا۔ آج کے نظام ’’جمہوریت‘‘ کو انسانی سوچ اور فکر کی بلندی کا آخری لیول سمجھا جاتا ہے‘لیکن یہ بدترین استحصالی نظام ہے ۔یہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام‘ سود کی بنیاد پر قائم ہے لیکن دکھایا یہ جا رہا ہے کہ یہ نظام انسانیت کی معراج ہے۔ چنانچہ انہوں نے یہ طریقہ نکالا کہ جن طبقات کا استحصال ہو رہا ہے ان کے لیے ایک دن مخصوص کردوتاکہ وہ خوش ہوجائیں اورلوگ بھی کہیں کہ کتنا اچھا نظام ہے جس میں غریب طبقے کے لیے بھی دن مخصوص ہیں۔
اس ضمن میں یہ سمجھئے کہ حقیقت کے اعتبار سے  یومِ مزدور کیاہے اور اس کی نوبت کیوں آئی تھی۔ 1886ء میں شکاگو میں احتجاج کے دوران مزدوروں کے اوپر ظلم و تشدد ہوا تھا۔ ان کے مطالبات یہ تھے کہ ہم سے جبری مشقت نہ لی جائے اور اوقات کار کا تعین کیا جائے۔ شروع شروع میں جب انڈسٹریلائزیشن ہوئی تو مزدور کا استحصال بھی آخری درجے پر تھا۔ سارے وسائل ایک خاص طبقے کے ہاتھ میں تھے۔ حکومتیں مزدوروں کے حقوق کا ذمہ لینے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ وہ ایک طبقہ جو سارے اختیارات اور وسائل پر قابض ہوتا ہے‘وہ باقیوں کا خون چوستا ہے۔ حکومت تو نام ہی اسی کا ہے۔ شہنشاہیت  بھی اسی کا نام تھا اور اسی نے پھرمختلف شکلیں بدلیں۔اس حوالے سے اقبال کا شعر یاد آ گیا۔ ابلیس اپنے چیلوں سے کہہ رہا ہے:
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
اس کا پس منظر بھی دلچسپ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں مزدور کو حقوق نہیں مل رہے تھے تواس کے ردعمل میں اشتراکیت پوری قوت کے ساتھ پھیلا۔یہ پہلے روس میں آیا، پھر مشرقی یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ تک پہنچا۔  اس تناظر میں اقبال کہہ رہے ہیں کہ نظام کی تبدیلی کے بعد ابلیس اپنی مجلس شوریٰ منعقد کرتا ہے اور اس کے چیلے چانٹے کہتے ہیں کہ اشتراکیت تو عدل و انصاف والا نظام معلوم ہوتاہے جس کے بعد اب ہمارے شیطانی کھیل کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں تو ہم اپنی شیطنت کا کھیل بھرپور کھیلتے تھے۔ اشراکیت    میں تو انفرادی ملکیت ہے ہی نہیں‘بلکہ سارا کچھ سرکاری انتظام میں ہو گا۔ سرمائے کی دوڑ ختم ہو جائے گی تو پھر ہمارے لیے کیا بچے گا؟ اس کے بعد شیطان صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اشتراکیت اور مزدکیت ہمارے لیے خطرہ نہیں ہے:
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار ‘ آشفتہ مغز ‘ آشفتہ ہُو
تم سمجھتے نہیں ہو،یہ اشتراکیت بھی سرمایہ دارانہ نظام ہی کی  ایک شکل ہے۔یہ بھی فطری نظام نہیںہے۔ اصل خطرہ تو مجھے اسلام اور اُمت مسلمہ سے ہے:
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس اُمت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو!
خال خال اِس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو!
جانتا ہے جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنۂ فردا نہیں‘ اسلام ہے!
(جاری ہے)

ابلیس کا کہنا تھا کہ اسلام نے عدل و انصاف کا جو نظام دیا ہے اس نے سرمایہ داری کی جڑ کاٹی ہے ۔ اگروہ نظام قائم ہو گیا تو پھر ہمارے لیے کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ اسی خطاب میں اس نے جمہوریت کے حوالے سے بھی یہ بات کہی کہ:
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خودشناس و خودنگر
یہ ہے جمہوری نظام کے بارے میں اقبال کی رائے! اصل میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لیے جو سیاسی نظام وضع کیا گیا ہے وہ جمہوریت ہے‘جبکہ اصل فتنہ سرمایہ داری نظام ہے۔
 والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ تین مسائل ایسے ہیں جن میں انسانی عقل سو فیصد عاجز ہے۔ ان میں ہمیں آسمانی ہدایت لازماً چاہیے، اس لیے کہ انسان اپنی عقل سے ان میں معتدل راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ (1) پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان توازن  کیسے قائم کیا جائے؟ اس میں ہمیشہ انسانی تاریخ میں دو انتہا ئیں رہی ہیں۔ زیادہ تر تو عورت کو اس بری طرح کچلا گیا ہے کہ اس کا استحصال ہوا ہے‘ لیکن کبھی کبھی عورت اس طور سے اُبھری ہے کہ وہ قلوپطرہ بنی ہے۔ اسی طریقے سے آج بھی عورت کو آزادی کے نام پرسبز باغ دکھا کر باہر نکالا گیا ہے‘ جس نے پورے معاشرے کو تلپٹ کر کے رکھ دیاہے۔ عورت کو جتنا بے وقوف اس زمانے میں بنایا گیا ہے، اس سے پہلے ایسا کبھی نہ تھا۔ عورت سمجھ رہی ہے کہ اس نے کامیابی کے بڑے اونچے اہداف حاصل کر لیے ہیں‘جبکہ حقیقت میں اسے دو طرف سے کچلا جارہا ہے۔ لہٰذا مرد اور عورت کے درمیان کسی طور پر بھی انسانی عقل توازن قائم نہیں کرسکتی۔
(2)دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ فرداور اجتماعیت میں توازن کیسے قائم کیا جائے؟ آسان مثال سے اس کو یوں سمجھئے کہ امریکہ‘ یورپ اور بہت سے دوسرے ملکوں میں موت کی سزا کو  انسانیت کے ساتھ ظلم سمجھا گیاہے،اس میں وہ فرد کا لحاظ رکھ رہے ہیںلیکن اسلام نے بعض جرائم پر موت کی سزا رکھی ہے اور یہ اجتماعیت کے مفا دمیں ہے بایں طور کہ جب جرائم پیشہ افراد کو موت کی سزا دی جائے گی تو پھر اجتماعیت اچھے طریقے سے آگے بڑھے گی۔ اس معاملے میں بھی انسان توازن قائم کر ہی نہیں سکتا۔
(3)تیسرا مسئلہ سرمایہ اور محنت کے توازن کا ہے کہ مزدور کا حق کتنا ہے اور سرمایہ دار کا کتنا ہے۔ انسانی ذہن اس حوالے سے بھی اپنی صلاحیت کی بنیادپر کبھی بھی متوازن نظام بنا ہی نہیں سکتا۔ اقبال کا ایک شعر سنا دیتا ہوں:
زمان کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہوں پھر کیا
طریق کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
یہ صرف اللہ ہے جو سب کا خالق ہے اور وہی باقی معاملات کی طرح ان تینوں معاملات میں بھی توازن قائم کر سکتا ہے۔چنانچہ مزدوروں کے حقوق کا مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ کا دیا ہوا نظام قائم نہ ہو جائے۔
آج سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیاپر حاوی ہے۔  فرانس کے انقلاب کے بعد سودی نظام شروع ہوا۔ اس کوپھیلانے والے اور آج  پوری دنیا کو سود کے ذریعے کنٹرول کرنے والے یہود ہیں۔مٹھی بھر یہود نے پوری دنیا کے سرمایہ کو اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔ امریکہ میں ڈالر کا کنٹرول حکومت امریکا کے پاس نہیں ہے‘ بلکہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طریقے سے بینک آف انگلینڈ، بینک آف جاپان اور یورپ کے تمام سنٹرل بینک یہودیوں کے زیرانتظام ہیں۔پھر اسی سرمایہ دارانہ سودی نظام کو تحفظ دینے کے لیے انہوں نے جمہوری نظام وضع کیا۔ جسے اقبال نے اس وقت دیکھ کے کہا تھا   ؎
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن‘ اندروں چنگیز سے تاریک تر!
چنانچہ اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آوازیں بھی اٹھیں اور احتجاج بھی ہوا۔ اس ضمن میں سوچا گیا کہ اس طریقے سے تو پورا سرمایہ دارانہ نظام ختم ہو جائے گااور اشتراکی سیلاب ہمارے اس سارے نظام کو بہا کے لیے جائے گا۔لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ مزدور کو تھوڑے بہت حقوق دو اور بیروزگاروں کووظیفہ بھی دو، ورنہ یہ کل کو امیروں کے پیٹ پھاڑیں گے۔اصل میں اس ڈر سے مزدوروں کو کچھ نہ کچھ حقوق دیے گئے ہیں۔
کچھ ہی عرصے پہلے سرمایہ دارانہ سودی نظام کے خلاف امریکہ میں Occupy Wall Street تحریک شروع ہو گئی تھی اور اس تحریک کوکچلنے کے لیے پولیس نے بے انتہا مظالم ڈھائے۔ سود کے شکنجے میں پھانس کر ایک شخص کوبنک نادہندہ قرار دے کر اس سے اس کا گھربھی چھین لیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس تحریک کو کچلنے کے لیے ایسے لوگوں کو ان کے مکانات سے زبردستی    بے دخل کیا گیا جو بنک نادہندہ تھے اور سودی قسط پوری نہیں کر سکے تھے۔اورپھر امریکا جیسے ملک میں بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس قسم کی ایک فضا پیدا کر دی جاتی ہے کہ انہوں نے اگر سود نہیں دیا تھا تو اب ان کو اس گھر سے محروم ہونا چاہیے، اس لیے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے کچھ تقاضے ہیں۔اس ضمن میں مجھے اقبال کے ا شعار یاد     آ رہے ہیں   ؎
ایں بنوک ‘ ایں فکرِ چالاکِ یہود
نورِ حق از سینۂ آدم ربود
تا تہ و بالا نہ گردد ایں نظام
دانش و تہذیب و دیں سودائے خام
یعنی اس سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں ایک تو استحصال ہو رہا ہے اور دوسرا لوگوں کے دلوں سے وہ نورِ حق( جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتا ہے) جاتا رہتا ہے اور اس سے محروم ہو کر انسان نرا حیوان بن جاتا ہے۔ جب تک  اس سودی اور بینکاری نظام کو جڑ سے نہیں اُکھاڑا جاتا تب تک انسان اپنی حقیقت پرکبھی آہی نہیں سکتا۔اس وقت تک کہاں کی دانش‘کون سی تہذیب اور کیسا دین!
الغرض یہ یومِ مزدور کوئی سادہ سا مسئلہ نہیں ہے ‘ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اصل میں یہ اس جمہوری نظام اور سرمایہ دارانہ نظام کے امتزاج کا ایک نتیجہ ہے جس کوآج آئیڈیل بنا کر پوجا رہا ہے۔اس کواصل اور حقیقی خطرہ صرف اور صرف اسلام کے نظامِ عدل وقسط سے ہے۔موجودہ دور میںwar on terror  بھی ان مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی ہے جو اس نظام کو نافذکرنے کی بات کرتے ہیں‘ورنہ امریکاکو ایسے مسلمانوں سے کوئی پریشانی نہیں جو صرف نماز، روزے اور وظیفے میں رہیں۔یہودی اس وقت ابلیس کے سب سے بڑے ایجنٹ ہیں۔ حضرت آدم ؑ کے خلاف جو کردار ابلیس کا تھا، آج پوری نوع انسانی کے حوالے سے وہ یہود کا ہے۔
 اسلام نے نہ صرف یہ کہ مزدور اور سرمایہ دار کے حقوق کا تحفظ کیا ہے بلکہ اسی تحفظ کے لیے ہی سود اور جوئے کو حرام قرار دیا ہے۔اسلام میں سرمایہ کاری پسندیدہ ہے‘لیکن سرمایہ داری غلط ہے۔اسلا م نے ایسا   نظام دیا ہے کہ جس میںکسی طبقے کا استحصال نہ ہو۔اس کے ساتھ محنت کی عظمت کے حوالے سے آنحضورﷺ کے جو اقوال ہیں اور آپﷺ کے طرزِ عمل سے جو رہنمائی ملتی ہے‘ وہ اضافی ہے۔آپﷺ نے فرمایا:’’ ہاتھ سے کمائی کرکے کھانے والا شخص اللہ کا دوست ہے‘‘۔ایک صحابی حضرت سعدؓ سے آپﷺ نے مصافحہ کیا۔ آپﷺ نے محسوس کیا کہ ان کے ہاتھ کھردرے (سخت) ہیں۔ پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ کہنے لگے کہ میں محنت مزدوری کر کے کمائی کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ چوم لیے۔ اسی طرح حضورﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی اور ہر رسول نے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں اور میں بھی حقیر سی اُجرت پر قریش کی بکریاں چراتا رہا ہوں۔ ہم مزدورو ںکے حوالے سے جو بھی اقدامات اٹھالیںلیکن جب تک اللہ کے دیے ہوئے نظام عدل و قسط کو نافذ نہیں کرتے‘ان کا استحصال کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتا اور مزدور کو اس کا حق مل ہی نہیں سکتا۔ کسی نہ کسی طریقے سے سرمایہ دار اس کے ساتھ نا انصافی کرتا ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کا نظامِ عدل وقسط نافذکرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین!


 

تازہ ترین خبریں