08:33 am
مفتی منیب الرحمن ‘ پیغام پاکستان اور این جی اوز

مفتی منیب الرحمن ‘ پیغام پاکستان اور این جی اوز

08:33 am

رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین  مفتی منیب الرحمن  اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ’’ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈاکٹر ضیاء الحق صاحب ’’پیغام پاکستان‘‘ کے کسٹوڈین بن گئے اور اس کی مارکیٹنگ شروع کر دی … کوئی لاکھ دعویٰ کرتا رہے‘ ہمارا کہنا یہ ہے کہ پیغام پاکستان بیانیے کا ابتدائی مسودہ اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان نے مرتب کرکے دیا تھا‘ اس کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اور اخبارات میں شائع بھی ہوچکا ہے‘ ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب تمام اقسام کی این جی اوز کے مشترکہ دوست ہیں‘ کیری لوگر بل کی چار ارب ڈالر گرانٹ کا ایک معقول حصہ تو امریکہ نے خود سوشل سیکٹر کے لئے مختص کر دیا تھا۔


وہ مزید لکھتے ہیں کہ اگر2002 ء سے اسلام آباد کے تھری سٹار سے فائیو سٹار ہوٹلوں کا ریکارڈ کھنگالہ جائے تو پتا چلے گا کہ ان این جی اوز کی برکات سے کون کون مستفید ہوچکا؟ ان لبرل این جی اوز کو جن مقاصد کے لئے مالی وسائل دیئے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے ‘ یہ لوگ امریکہ اور اہل مغرب کو یقین دلاتے ہیں کہ دینی مدارس و جامعات اور ’’ملا‘‘ نامی مخلوق ساری خرابیوں کی جڑ ہے اور ہم ان کو ترغیب و تربیت کے ذریعے دام میں لارہے ہیں۔
پنجابی محاورے کے مطابق ’’بندے دا پتر‘‘ اور اردو محاورے کے مطابق اچھے بچے بنارہے ہیں‘ شروع میں ہم نے چند پروگراموں میں شرکت کی مگر جب ان کے مالی ذرائع معلوم ہوئے تو پتہ چلا کہ ان کی دم امریکہ‘ یورپ اور کسی نہ کسی مغربی دارالحکومت میں پھنسی ہوئی ہے ‘ بعض کی کار گذارئیاں وائٹ ہائوس کی ویب سائٹ پر سامنے آئیں‘ چنانچہ ہم نے اپنی عزت بچانے کے لئے توبہ کرلی‘‘ مفتی منیب الرحمن کا کالم پڑھنے کے بعد بے اختیار ہوکر میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ ’’بات تو سچ ہے  مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے… یادش بخیر نائن الیون کے بعد جب ایک فرعون قصر سفید سے کروسیڈی جنگ کا اعلان کر رہا تھا اور ڈالر خور این جی اوز اسلام آباد‘ کراچی وغیرہ میں خور رو گھاس کی طرح منظر عام پر آنا شروع ہوئی تھیں‘ تو یہ روزنامہ اوصاف ہی تھا کہ جس نے سب سے پہلے این جی اوز کے اس فتنے کو بے نقاب کیا تھا‘ نائن الیون کے بعد جب این جی اوز کے خرکار مختلف دینی مدارس میں نقب لگانے کی کوششوں میں مصروف تھے اور بدقسمتی سے کئی مدارس کے مہتمین نے ان امریکی اور مغربی این جی اوز کو اپنے مدارس کے پلیٹ فارم مہیا کرنے شروع کر دیئے تھے ‘ کبھی بین المذاہب ہم آہنگی ‘ کبھی  فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘ کبھی مختلف مذاہب کے درمیان ڈائیلاگ اور کبھی امن اور اعتدال پسندی کے نام پر پھیلائے گئے جال میں بعض ٹھیک ٹھاک قسم کے علماء اور مدارس کے مہتمین جان بوجھ کر پھنس رہے تھے ‘ تب ہی اس خاکسار نے اللہ کی توفیق اور اپنے چیف ایڈیٹر مہتاب خان کی ہدایت پر ان ڈالر خور این جی اوز کے مکروہ کردار کے خلاف پہ در پہ کالم لکھ کر علماء کرام اور مسلمان عوام کو اس مکروہ فتنے سے روشناس کروانا شروع کر دیاتھا۔
اللہ محدث اعظم حضرت مولانا سلیم اللہ خان ؒ کی قبر کو نور سے بھر د ے کہ جنہوںنے اپنی وفات سے چند ہفتے قبل  ماہنامہ وفاق المدارس کے اداریئے میں نہ صرف دینی مدارس کی طرف بڑھتے ہوئے خطرات اور این جی اوز کی سیاہ کاریوں کی نشاندہی کی بلکہ دینی مدارس کے مہتمین ‘ وفاق المدارس کے اکابرین اور دینی مدارس کے علماء‘ اساتذہ اور طلباء کو بھی این جی اوز کے فتنے سے بچنے کی تلقین کی‘ میرے جیسے طالبعلم کے لئے یہ بات کسی خبر سے کم نہیں کہ مفتی منیب الرحمن جیسے نامور عالم دین بھی این جی اوز کے پھیلائے ہوئے دام فریب میں الجھتے الجھتے رہ گئے اور انہوں نے  بروقت توبہ کرلی۔
بہرحال یہ مفتی صاحب کا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے اپنے کالم میں نہ صرف این جی اوز کے چند پروگراموں میں شرکت کو تسلیم کیا بلکہ توبہ تائب ہونے کی نوید سنانے کے ساتھ ساتھ کفارے کے طور پر این جی اوز کی مکروہ وارداتوں کی نقاب کشائی بھی کر دی ‘ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر نائن الیون کے بعد اتحاد تنظیمات دینی مدارس اور دیگر تمام دینی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین خور د رو گھاس کی طرح اچانک منظر عام پر آنے والی ان این جی اوز کی اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا بروقت ادراک کرکے توڑ کرنے کی کوشش کرتے تو ممکن ہے کہ بعض مولوی نما حضرات نہ صرف لبرل بننے سے بچ جاتے بلکہ اسلام آباد‘ مدرسہ بھگوڑے دانش فروشوں کے بوجھ سے بھی محفوظ رہتا۔
دینی مدارس کے علماء‘ طلباء‘ اساتذہ‘ جہادی  جماعتوں کے کارکنوں کو لبرل اور سیکولر بنانے کی کوششیں کرنے کے نام پر ڈالروں کی بہتی گنگا میں کس کس نے ہاتھ دھوئے؟ مغربی این جی اوز سے ٹکٹیں لے کر کون مغربی فضائوں میں آسودگی کی تلاش میں سرگرداں رہا؟ اعتدال پسندی‘ علم اور امن کے نام کو استعمال کرکے کس کس نے صلیبی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی کوششیں کیں؟ این جی اوز کے ایماء پر مدارس کے طلباء اوردینی مدارس کی طالبات کو ہوٹلوں میں اکٹھا کرنے کی کوششوں میں منہ کالا کرنے والوں میں کون کون شامل رہا؟ اس کی تفصیلات ’’داستان ضمیر فروشوں‘‘ میں پڑھنے کو ملیں گی جس کا مسودہ یہ خاکسار تیار کررہا ہے۔مجھے مفتی منیب الرحمن کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ پیغام پاکستان بیانیے کا ابتدائی مسودہ اور اس کے لئے پیش رفت اتحاد تنظیمات مدارس کے اکابرین نے ہی کی تھی‘ پیغام پاکستان کے بیانیئے سے اگر علماء کے فتوئوں کو نکال دیا جائے تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ میں ڈاکٹر ضیاء الحق کو ذاتی طور پر نہیں جانتا لیکن اگر مفتی منیب جیسے جید عالم دین نے ان کے حوالے سے کسی شک کا اظہار کیا ہے تو ان کے شک کو  دور کرنا لازم ہے‘ پاکستان کے 98 فیصد مسلمانوں میں جاوید غامدی کی شخصیت اور ان کے نظریات  انتہائی متنازعہ ہیں‘ اگر پیغام پاکستان کے بیانیئے کو غامدی سکول آف تھاٹ کے متنازعہ دانشوروں کے حوالے کر دیا جائے گا تو اس سے ’’بیانیہ‘‘ کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھیں گے‘ میری ریاست پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ پیغام پاکستان کے متفقہ بیانیے کو کسی تنازعے سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

 

تازہ ترین خبریں