08:35 am
پاکستان کے دشمنوں کو افواج کاسخت انتباہ

پاکستان کے دشمنوں کو افواج کاسخت انتباہ

08:35 am

٭پاک افواج کی جانب سے ملک دشمنوں کو سخت انتباہ، آئی ایم ایف کے مطالبات ، ملک سنبھالنے کا منصوبہ O بجلی حسب معمول 9 بجے سے بند ہے، چھ سات گھنٹے بند رہے گیOپٹرول بم،مہنگائی میں مزید ناقابل برداشت اضافہ O زرداری خاندان کا ایک اور گواہ منحرف۔


٭پاک افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں پشتون تنظیم پی ٹی ایم (پشتون تحفظ موومنٹ) کی واضح ملک دشمنی کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں بعض سنسنی خیز اہم انکشافات کئے گئے یہ کہ اس تنظیم کو افغانستان اور بھارت کی پاکستان دشمن ایجنسیاں مالی امداد دے رہی ہیں، قندھار کا بھارتی قونصل خانہ پاکستان کے خلاف سرگرمیو ںکا مرکز بنا ہوا ہے، اس قونصل خانے کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے پی ٹی ایم کے لیڈر منظور پشتین کاایک رشتہ دار آتا جاتا ہے، اس تنظیم اور کالعدم طالبان کا یکساں ایجنڈا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جنرل آصف غفور نے انتباہ کیا کہ ان لوگوں کو اب مزید چھوٹ نہیں دی جائے گی اور سخت کارروائی کی جائے گی اس کے لئے قانون کا راستہ اختیارکیا جائے گا۔ اس سے پہلے کبھی پاک افواج کی طرف سے اتنا سخت انتباہ نہیں آیا۔ ممکن ہے اب تک کوئی کارروائی ہو بھی چکی ہو۔ ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم کے کراچی اور لندن میں بعض پاکستان دشمن تنظیموں اور اینکر پرسنوں سے بھی رابطے ہیں۔ قارئین کرام جانتے ہیںکہ اس تنظیم کے جلسوں میں پاکستان کے خلاف کھلے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ ایک جلسے میں پاکستان کے پرچم کو قدموں کے نیچے روند دیا گیا، ایک نوجوان نے روکنا چاہا تو اسے سخت زدوکوب کر کے دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا۔ پاکستان کے اندر عام مسافروں کے علاوہ فوجی قافلوں پر بم باری اور فائرنگ شروع ہو گئی ہے۔
اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ملک کی سلامتی کے خلاف پیدا ہونے والے اس فتنے کو پہلے روز ہی کیوں نہ دبا دیا گیا؟ اسے ہر قسم کی تباہ کن سرگرمیوں کی کھلی چھٹی کیوں دی گئی؟یہ کینسر کی طرح پھیلتا رہا اور حکومتیں خاموش رہیں۔ حکمرانوں کو بیرون ملک کھربوں کے اثاثے بنانے سے ہی فرصت نہیں تھی۔ محمود خان اچکزئی نے ان لوگوں کو ’ہمارے بچے‘ کہہ کر تحفظ دیا اور یہاں تک پاکستان کے ساتھ ’وفاداری‘ کا اظہار کیا کہ اٹک تک پختونخواہ کا سارا علاقہ افغانستان کی ملکیت ہے اور اس علاقے میں موجود لاکھوں مہاجرین اپنے ہی ملک میں رہ رہے ہیں یہ بات بھی اہم ہے کہ محمود اچکزئی نے کبھی پی ٹی ایم کی پاکستان دشمن سرگرمیوںکے خلاف ایک لفظ نہیں کہا۔ ستم تو یہ ہے کہ خود پاکستان کے وزیراعظم کیا کہہ رہے ہیں! یہ کہ پی ٹی ایم کے خیالات اورہمارے خیالات یکساں ہیں صرف لہجے کا فرق ہے۔ مزید فرمایا ہے کہ میں پشتونوںکے علاقوں (وزیرستان وغیرہ) میں فوجی کارروائی کے خلاف تھا! یہ کارروائی دہشت گردوں کے خلاف تھی اور وزیراعظم صاحب اس کے مخالف تھے؟ کیا بات کی جائے؟ ایک بات یہ ہے کہ آئین میں واضح الفاظ میں پاکستان کی افواج کو ملکی سلامتی کی محافظ قرار دیا گیا ہے۔ انہیں سیاست دانوں کی اجازت کے بغیر ملک دشمنوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ اس ضمن میں بعض معتبر ذرائع کی یہ خبر بھی تشویشناک ہے کہ قندھار کے بھارتی قونصل خانے میں پاکستان کے اندر تخریب کاری کا نیا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں ’را‘ ،افغان ایجنسی ’این ڈی ایس‘، پی ٹی ایم اور طالبان کے نمائندے موجود تھے۔ اس منصوبے کے مطابق پشتون علاقوں کے کچھ پشتون افراد غائب کئے جائیں گے، کسی کی جان بھی لی جا سکتی ہے۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان میں پشتون بغاوت کی تحریک شروع کی جائے گی۔ پشتون تحفظ تحریک اس حد تک آگے چلی گئی ہے کہ پاکستان کی فوج کو الٹا دینے کی دھمکی بھی دے دی۔ اس پر فوج کا برہم ہونا قدرتی بات تھی۔ اسی پریس کانفرنس میں جنرل آصف غفور نے بھارت کو متنبہ کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرے گا۔ اس صلاحیت کا اشارہ واضح طور پر ایٹمی طاقت کی طرف ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تین روز قبل پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ’’ہم نے ایٹمی ہتھیار‘‘ دیوالی میں پٹاخوں کی طرح استعمال کرنے کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔‘‘ ظاہر ہے یہ بیان صرف انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے تھا ورنہ کیا بھارت ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا سوچ سکتا ہے جب کہ پاکستان کے پاس بھارت کے آخری صوبوں آسام تامل ناڈو اور کرناٹک تک مار کرنے والے انتہائی طاقت ور ایٹمی میزائل موجود ہیں۔
٭آئی ایم ایف پر بھارت کا دبائو کامیاب ہو گیا۔ بھارت نے پہلے تو پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کی امداد رکوانے کی بھرپور کوشش کی۔ اس میں کامیابی نہ ہو سکی تو آئی ایم ایف کو نئی ترکیب سمجھائی کہ پاکستان کو قرضہ دیتے وقت اتنی سخت شرائط لگا دو کہ پاکستان کا سارا نظام آئی ایم ایف کے کنٹرول میں آجائے۔ سو یہی منظر سامنے آ رہا ہے۔ میڈیا میں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سامنے آ چکی ہیں۔ تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ مختصر یہ کہ چھ ارب ڈالر قرضہ کے لئے 600 ارب (چھ کھرب) روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں، ڈالر 150 روپے کا کیا جائے، منافع بخش ادارے فروخت کئے جائیں، سرکاری ملازمین کی پنشن اور انکم ٹیکس میں چھوٹ ختم کر دی جائے۔ وغیرہ وغیرہ! اور یہ کہ آئی ایم ایف ان شرائط پر عملدرآمد کی خود نگرانی کرے گا، یعنی ملک کا نظام خود سنبھال لے گا! بھیک اور غلامی بھی کیسا عذاب ہے! ملک کو وحشیوں کی طرح لوٹنے والوں نے وسیع لوٹ مار کے سرمائے سے دبئی، لندن، بلجیم، فرانس، امریکہ وغیرہ میں محل، محل نما فلیٹس اور فیکٹریاں بنا لیں، بڑی بڑی جاگیریں خرید لیں، اب بھی خونخوار شارکوں کیطرح ملک کی معیشت پر سوار ہیں۔
٭پٹرول کی قیمتوں میں 14 روپے 37 پیسے کے اضافہ کی سفارش کی گئی۔ اب تک نئے نرخ سامنے آ چکے ہوں گے۔ عوام پہلے ہی تباہ کن مہنگائی تلے پس رہے ہیں۔ ایک طرف اشیائے صرف کے نرخ دو تین گنا بڑھ چکے ہیں، دوسری طرف گیس اور بجلی کے بلوں میں بھاری جعلی اضافہ کر کے غریب عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔ راولا کوٹ سے ایک قاری ذاکر شوکت نے شکائت کی ہے کہ عوام میں بجلی کے فرضی بھاری بل تقسیم کئے گئے ہیں ان کی ادائیگی ممکن نہیں۔ ساتھ ہی عدم ادائیگی پر بجلی کاٹنے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔
٭آصف زرداری کے خلاف ملکی وسائل کی مبینہ وسیع لوٹ مار (10 پرسنٹ سے 100 پرسنٹ تک؟) کے بارے میں نیب کی طرف سے عدالتوں میں 16 ریفرنس دائر ہو چکے ہیں۔ ضمانتوںمیں 15 مئی تک مزید توسیع مل گئی ہے (کب تک؟) پرانا محاورہ ہے ’’بد سے بدنام بُرا!‘‘ زرداری خاندان کے لئے مزید وحشت ناک خبریں کہ ان کا ایک اور قریبی رازدان فرنٹ مین بھی منحرف ہو گیا ہے اور نیب کو بہت سے اندرونی راز اور ثبوت فراہم کر دیئے ہیں۔ مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا ہے۔ ایوب خاں کے مارشل لاسے پہلے راتوں رات بننے والی ری پبلکن پارٹی حکومت نے پارٹی کے لئے ایک سابق بینکار مرزا یعقوب بیگ کو خزانچی مقرر کر دیا۔ ایوب خاں نے جس روز مارشل لا لگایا، اسی روزمرزا یعقوب بیگ ری پبلکن پارٹی کا سارا ریکارڈ اور رقم اٹھا کر مارشل لا کے لاہور کے ہیڈ کوارٹر میں پہنچ گیا، اور مارشل لا حکام کو ریکارڈ پیش کرتے ہوئے کہ ’’حضور یہ سارے لوگ بے ایمان تھے!‘‘

 

تازہ ترین خبریں