09:16 am
سری لنکا میں کیا ہوا؟ 

سری لنکا میں کیا ہوا؟ 

09:16 am

20 اپریل 2019 ء میں کولمبو میں واقع تامل چرچ اورتین بڑے ہوٹلوں پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں اب تک سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 300 سے زائد افراد مارے گئے ہیں جس میں خواتین ، نوجوان اور بزرگوں کے علاوہ 45 بچے بھی مرے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں کے بعد سری لنکا میں یہ ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے حکومت اور عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس خود کش حملہ میں داعش کے کارکن زعران ہاشم کو سرغنہ قرار دیا گیا ہے جس کو بعد میں سری لنکا کی سیکیورٹی فورسز نے قتل کر دیا ۔ ہاشم کا تعلق بعض اخباروں کے مطابق بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را ــ‘‘سے بتایا جارہا ہے ۔
 
 ہاشم دو سال سے تامل ناڈو میں مقیم تھا جہاں اس کو دہشت گردی کی تربیت مل رہی تھی بعد وہ سری لنکا آیا اور اس نے سری لنکا کے مسلمانوں کو مرکزی حکومت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوا ، تاہم سری لنکا کے مسلمانوں نے اجتماعی طور پر سری لنکا کی حکومت کو آگاہ کیا کہ زعران ہاشم کسی وقت بھی اس ملک کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے لیکن سری لنکا کی حکومت نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ ہاشم نے تاملز کو بھی دوبارہ مرکزی حکومت کے خلاف ہتھیا ر اٹھانے کی ترغیب دینے کی کوشش کی واضح رہے کہ تاملز نے گزشتہ دس سال قبل سری لنکا میں پچیس سال تک مرکزی حکومت کے خلاف جنگ کی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
سری لنکا کی حکومت کو بعض غیر ملکی سفارت خانوں نے بھی آگا کیا تھا کہ کولمبو میں کوئی بڑا خود کش حملہ ہونے والا ہے لیکن سری لنکا کے خفیہ اداروں نے اس اطلاع کے باوجود بھی اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ اس خبر کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ چنانچہ 20 اپریل یعنی ایسٹر کے موقع پر تامل چرچ اور تین بڑے ہوٹلوں پر خود کش حملے کیے گئے جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیںہوئیں ان میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔چنانچہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھارت نے داعش کے ساتھ مل کے سری لنکا کے خلاف یہ قدم کیوں اٹھایا ؟اس کا جواب بہت آسان ہے بھارت ، سری لنکا اور پاکستان کے درمیان قائم خوشگوار تعلقات کے خلاف ہے اور وہ ان تعلقات کو سبو تاژ کرنا چاہتا ہے اس کے علاوہ وہ سری لنکا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف ہے ، چین سری لنکا میں بندر گاہوں کی تعمیرے کے علاوہ انفراسٹرکچر کو بھی بہتر بنانے کے سلسلے خاصی سرمایہ کاری کر رہا ہے پاکستان بھی اس سلسلے میں سری لنکا کی حکومت کے ساتھ تعاون کررہا ہے ‘ چین اور پاکستان کے ان اقدامات کو بھارت انتہائی ناپسندیدگی سے دیکھتا ہے اور وہ ان تعلقات کو دہشت گردی اور خانہ جنگی کے خراب کرنا چاہتا ہے جیساکہ ماضی میں اس نے کیا تھا ۔
بھارت کا پاکستان کے خلاف جو بیانیہ ہے اس کو سری لنکا کے صدر نے مسترد کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی طرح ان خود کش حملوں میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان ہمارا قابل اعتماد دوست ہے اور یہ دوستی ہمیشہ قائم رہے گی ۔ بھارت کبھی بھی سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو خراب نہیں کرا سکتا جو کچھ بھی ہوا ہے وہ افسوس ناک ہے لیکن سری لنکا اپنے دوست ملکوں کے تعاون سے دہشت گردوں کے اس نیٹ ورک کو ختم کر دے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں سری لنکا میں ہونے والی خانہ جنگی کو ختم کرانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا اس دفعہ بھی اگر ضرورت پڑی تو پاکستان سے مدد لی جائے گی ۔
اس وقت سری لنکا میں خوف وہراس پایا جا رہا ہے کچھ وقت کے لیے کرفیو بھی لگا دیا گیا تھا لیکن اب کرفیو ہٹالیا گیا ہے مسلمان عورتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ برقع پہن کر یا چہرہ چھپا کر باہر نہ نکلیں۔سری لنکا کے علماء نے حکومت کے اس اعلان کی حمایت کی ہے اور مسلمان عورتوں سے درخواست کی ہے وہ حکومت کے اس ہدایت نامہ پر عمل پیرا ہوں جو خود ان کے مفاد میں ہے۔ اس ضمن یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ ان خود کش حملوں کی وجہ سے سری لنکا کی سیاحت کی انڈسٹری سخت متا ثر ہوئی ہے۔ سیاحت کی انڈسٹری سری لنکا میں ریٹرھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے بہت عرصہ تک غیری ملکی سیاح خوف کی بنا پر سری لنکا کا رخ نہیں کریں گے لیکن سری لنکا کی حکومت غیر ملکی سیاحوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ حالات حکومت اور فوج کے کنڑول میں ہیں اس لیے گھبرانے ضرورت نہیں ۔سری لنکا ماضی کی طرح غیر ملکی سیاحوں کی مدد کرتا رہے گا ۔ پاکستان اور چین کی حکومت نے بھی سری لنکا کی ہر قسم کی مدد کرنے کا اعادہ کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے سری لنکا کے بہادر عوام حکومت اور فوج مل کر سری لنکا میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 

تازہ ترین خبریں