09:17 am
چین کی معاشی عالمی برتری

چین کی معاشی عالمی برتری

09:17 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
یورپی یونین کے حکام بھلے ہی کہتے رہیں کہ یورپی یونین کے اقدامات کے سیاسی نتائج برآمد نہیں ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ اب بعض یورپی ممالک نے انفرادی سطح پر اور یورپی یونین نے اجتماعی سطح پر چین کو ایک بڑے حریف کے روپ میں دیکھنا شروع کردیا ہے۔ چین کی میڈ اِن 2025حکمت عملی نے یورپ کی ہائی ٹیک انڈسٹری کیلئے
بیداری کا کردار ادا کیا ہے۔
یورپ اور بھارت دونوں ہی چین کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ دونوں کیلئے چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی، عسکری اور معاشی قوت نے ویک اپ کال کی سی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ ایسے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کا یوا شکتی آدرش اور یورپین ڈریم متصادم ہوں گے؟ دسمبر 2018 میں یورپین کونسل نے ای یو اسٹریٹجی آن انڈیا کے حوالے سے اخذ کیے جانے والے خیالات کو قبول کیا۔ کیا اِس سے یورپی یونین اور بھارت کے تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوگا؟ اب تک عام خیال یہ تھا کہ یورپی یونین نے چین کو زیادہ اہمیت دی ہے اور بھارت کو مجموعی طور پر نظر انداز کیا ہے ۔ بھارت کے حوالے سے نئی حکمت عملی اپنانے سے یہ تاثر ابھرے گا کہ یورپی یونین بھارت کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے نئے عالمی نظام کو پروان چڑھانے کے حق میں ہے، جو اصولوں کی بنیاد پر کام کرتا ہو۔ علاوہ ازیں یورپی یونین سلامتی سے متعلق سیٹ اپ کو بہتر بنانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس وائٹ پیپر کے مندرجات کی بنیاد پر چینی قیادت کس نوعیت کے اقدامات کی راہ ہموار کرتی ہے۔
فروری 2017 میں فرانس، اٹلی اور جرمنی نے یورپی یونین سے کہا کہ وہ یورپ میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی اسکریننگ سے متعلق سفارشات مرتب کرنے کیلئے کمیشن قائم کرے۔ تینوں یورپی طاقتوں نے اگرچہ کسی ملک کا نام نہیں لیا تاہم یہ بات طے ہے کہ وہ چینی باشندوں کی طرف سے کی جانے والی براہِ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے غیر معمولی تشویش میں مبتلا تھے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یورپ کے بعض ممالک میں چینیوں کی سرمایہ کاری اِتنی زیادہ ہے کہ فرانس، اٹلی اور جرمنی کی تجویز پر کھل کر بحث نہیں کی جاسکی۔ یورپی کونسل، یورپی کمیشن اور یورپی پارلیمان تینوں ادارے اس حوالے سے باضابطہ مذاکرات اور بحث کی منزل سے دور رہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس حوالے سے پائی جانے والی موجودہ دستاویز میں ذرا بھی دم نہیں کیونکہ اس کی ساری طاقت ختم کردی گئی ہے۔
یورپ میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی اسکریننگ کے حوالے سے تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب یورپی یونین کے بہت سے رکن ممالک کے لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ یورپی ممالک میں تو براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت ہے تاہم اس کے مقابلے میں چین میں سرمایہ کاری کی گنجائش دی جاتی ہے نہ کھلی منڈی تک رسائی ہی دی جاتی ہے۔ چین کے بیشتر کاروباری ادارے دراصل ریاستی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ یورپ میں چینیوں کی سرمایہ کاری 2008 میں 70 کروڑ ڈالر تھی۔ 2017 میں یہ 30ارب ڈالر کی منزل تک پہنچ چکی تھی۔یونان کی بندر گاہ پیراس میں چینیوں کی سرمایہ کاری اصل بلغراد اور بڈاپیسٹ سے ہوتے ہوئے باقی یورپ تک راہداری کو معرضِ وجود میں لانے کیلئے تھی، مگر اب صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس سرمایہ کاری کے شدید اثرات یونان اور ہنگری محسوس کر رہے ہیں۔ ویسے چینیوں کی بیشتر سرمایہ کاری جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں ہے اور زور اس بات پر ہے کہ جو ٹیکنالوجی امریکا سے حاصل نہ کی جاسکتی ہو وہ یورپ سے حاصل کرلی جائے۔دو طرفہ سرمایہ کاری کے حوالے سے معاملہ اس وقت زیادہ اجاگر ہوا جب جرمنی کے معروف روبوٹکس میکر Kuka کو چینی ملکیت کے ادارے Midea نے خریدا۔ تجزیہ کاروں کو معلوم ہوا کہ جرمن انجینئر اب پیپلز لبریشن آرمی کیلئیروبوٹکس تیار کرتے ہیں۔ 
اس بات کو سمجھنا اب کچھ دشوار نہیں کہ چینی قیادت اور پوری قوم چینی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ یورپ کے اپنے آنگن کے نزدیک بحیرہ اسود اور بحیرہ روم میں روس کے ساتھ جنگی مشقوں کا پروگرام ہے اور ساتھ ہی ساتھ بحیرہ بالٹک میں بھی مشقوں کا پروگرام، جس کے نتیجے میں متعدد یورپی ریاستیں بھی لرزش محسوس کیے بغیر نہ رہ سکیں گی۔
یورپی یونین کے حکام بھی اس بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ چین اب روس کے ساتھ مل کر یورپ کو متاثر کرنے والے ماحول میں کام کر رہا ہے۔ فروری 2018 میں جرمنی کے دو تھنک ٹینکس نے بھی اپنی رپورٹس میں بتایا کہ چین اب یورپ کے معاملات پر غیر معمولی حد تک اثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ اس قدر واضح ہے کہ یورپی یونین کے پالیسی ساز اسے کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتے۔
جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بلقان کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میونخ سیکورٹی کانفرنس 2018 میں جرمن وزیر خارجہ سگمار گیبریل نے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین ایک ایسا نظام تیار کر رہا ہے، جو ہمارے نظام کی طرح جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے اصولوں کی بنیاد پر استوار نہیں۔بہرکیف، چین نے اپنی بھرپور معاشی قوت کو بروئے کار لاکر یورپ میں اختلاف رائے پیدا کردیا ہے۔ اب بہت سے معاملات پر تمام یورپی طاقتیں ہم آہنگ ہوکر بات نہیں کر رہیں۔ مثلا مارچ 2017 میں ہنگری نے ایک ایسے مشترکہ خط پر دستخط سے انکار کیا، جو زیر حراست وکلا پر تشدد کے حوالے سے تھا۔ جون 2017 میں یونان نے اقوام متحدہ میں ایک ایسے بیان کی راہ مسدود کردی، جس میں چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کی مذمت کی گئی تھی ۔ جولائی 2016 میں یورپی یونین کے ایک ایسے بیان کو ہنگری، یونان اور کروشیا نے ویٹو کیا، جس میں بحیرہ جنوبی چین میں چین کے ملکیتی دعوئوں پر تنقید کی گئی تھی۔ ان تمام مثالوں سے یورپی یونین کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے سے متعلق چین کی صلاحیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
کئی شعبے ایسے ہیں جن میں یورپ اب بھی واضح طور پر برتری کا حامل ہے۔ نئی ہائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے یورپ کو اپنی برتری برقرار رکھنے پر متوجہ رہنا چاہیے۔ ایسا کرنا ترقی اور سلامتی کے حوالے سے مستقبل کو محفوظ بنانے کی خاطر لازم ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے یورپ کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یورپی یونین کے حکام کو اپنے آپشن بہت زیادہ پرکشش محسوس نہ ہوتے ہوں مگر وقت آگیا ہے کہ وہ محض تماشائی بنے رہنے کی روش ترک کریں اور میدانِ عمل میں نکلیں۔ یورپ کو اب طے کرنا پڑے گا کہ مابعدِ جدیدیت کے دور میں سلامتی اور ترقی دونوں حوالوں سے مل جل کر کام کرنے کا طریقہ درست تھا یا یہ طریقہ ترک کرنا پڑے گا۔ اور یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ یورپی طاقتوں کا مل جل کر چلنا نئے عالمی نظام کو کسی حد تک بہتر بناسکے گا یا نہیں۔ 


 

تازہ ترین خبریں