09:20 am
انسانی حقوق اور اسلام

انسانی حقوق اور اسلام

09:20 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
ابلیس کا کہنا تھا کہ اسلام نے عدل و انصاف کا جو نظام دیا ہے اس نے سرمایہ داری کی جڑ کاٹی ہے ۔ اگروہ نظام قائم ہو گیا تو پھر ہمارے لیے کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ اسی خطاب میں اس نے جمہوریت کے حوالے سے بھی یہ بات کہی کہ: 
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خودشناس و خودنگر
یہ ہے جمہوری نظام کے بارے میں اقبال کی رائے! اصل میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لیے جو سیاسی نظام وضع کیا گیا ہے وہ جمہوریت ہے‘جبکہ اصل فتنہ سرمایہ داری نظام ہے۔
 والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ تین مسائل ایسے ہیں جن میں انسانی عقل سو فیصد عاجز ہے۔ ان میں ہمیں آسمانی ہدایت لازماً چاہیے، اس لیے کہ انسان اپنی عقل سے ان میں معتدل راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ (1) پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟ اس میں ہمیشہ انسانی تاریخ میں دو انتہا ئیں رہی ہیں۔ زیادہ تر تو عورت کو اس بری طرح کچلا گیا ہے کہ اس کا استحصال ہوا ہے‘ لیکن کبھی کبھی عورت اس طور سے اُبھری ہے کہ وہ قلوپطرہ بنی ہے۔ اسی طریقے سے آج بھی عورت کو آزادی کے نام پرسبز باغ دکھا کر باہر نکالا گیا ہے‘ جس نے پورے معاشرے کو تلپٹ کر کے رکھ دیاہے۔ عورت کو جتنا بے وقوف اس زمانے میں بنایا گیا ہے، اس سے پہلے ایسا کبھی نہ تھا۔ عورت سمجھ رہی ہے کہ اس نے کامیابی کے بڑے اونچے اہداف حاصل کر لیے ہیں‘جبکہ حقیقت میں اسے دو طرف سے کچلا جارہا ہے۔ لہٰذا مرد اور عورت
کے درمیان کسی طور پر بھی انسانی عقل توازن قائم نہیں کرسکتی۔
(2)دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ فرداور اجتماعیت میں توازن کیسے قائم کیا جائے؟ آسان مثال سے اس کو یوں سمجھئے کہ امریکہ‘ یورپ اور بہت سے دوسرے ملکوں میں موت کی سزا کو انسانیت کے ساتھ ظلم سمجھا گیاہے،اس میں وہ فرد کا لحاظ رکھ رہے ہیںلیکن اسلام نے بعض جرائم پر موت کی سزا رکھی ہے اور یہ اجتماعیت کے مفا دمیں ہے بایں طور کہ جب جرائم پیشہ افراد کو موت کی سزا دی جائے گی تو پھر اجتماعیت اچھے طریقے سے آگے بڑھے گی۔ اس معاملے میں بھی انسان توازن قائم کر ہی نہیں سکتا۔ 
(3)تیسرا مسئلہ سرمایہ اور محنت کے توازن کا ہے کہ مزدور کا حق کتنا ہے اور سرمایہ دار کا کتنا ہے۔ انسانی ذہن اس حوالے سے بھی اپنی صلاحیت کی بنیادپر کبھی بھی متوازن نظام بنا ہی نہیں سکتا۔ اقبال کا ایک شعر سنا دیتا ہوں: 
زمان کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہوں پھر کیا
طریق کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
یہ صرف اللہ ہے جو سب کا خالق ہے اور وہی باقی معاملات کی طرح ان تینوں معاملات میں بھی توازن قائم کر سکتا ہے۔چنانچہ مزدوروں کے حقوق کا مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ کا دیا ہوا نظام قائم نہ ہو جائے۔ 
آج سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیاپر حاوی ہے۔ فرانس کے انقلاب کے بعد سودی نظام شروع ہوا۔ اس کوپھیلانے والے اور آج پوری دنیا کو سود کے ذریعے کنٹرول کرنے والے یہود ہیں۔مٹھی بھر یہود نے پوری دنیا کے سرمایہ کو اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔ امریکہ میں ڈالر کا کنٹرول حکومت امریکا کے پاس نہیں ہے‘ بلکہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طریقے سے بینک آف انگلینڈ، بینک آف جاپان اور یورپ کے تمام سنٹرل بینک یہودیوں کے زیرانتظام ہیں۔پھر اسی سرمایہ دارانہ سودی نظام کو تحفظ دینے کے لیے انہوں نے جمہوری نظام وضع کیا۔ جسے اقبال نے اس وقت دیکھ کے کہا تھا 
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن‘ اندروں چنگیز سے تاریک تر!
چنانچہ اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آوازیں بھی اٹھیں اور احتجاج بھی ہوا۔ اس ضمن میں سوچا گیا کہ اس طریقے سے تو پورا سرمایہ دارانہ نظام ختم ہو جائے گااور اشتراکی سیلاب ہمارے اس سارے نظام کو بہا کے لیے جائے گا۔لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ مزدور کو تھوڑے بہت حقوق دو اور بیروزگاروں کووظیفہ بھی دو، ورنہ یہ کل کو امیروں کے پیٹ پھاڑیں گے۔اصل میں اس ڈر سے مزدوروں کو کچھ نہ کچھ حقوق دیے گئے ہیں۔ 
الغرض یہ یومِ مزدور کوئی سادہ سا مسئلہ نہیں ہے ‘ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اصل میں یہ اس جمہوری نظام اور سرمایہ دارانہ نظام کے امتزاج کا ایک نتیجہ ہے جس کوآج آئیڈیل بنا کر پوجا رہا ہے۔اس کواصل اور حقیقی خطرہ صرف اور صرف اسلام کے نظامِ عدل وقسط سے ہے۔موجودہ دور میںwar on terror بھی ان مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی ہے جو اس نظام کو نافذکرنے کی بات کرتے ہیں‘ورنہ امریکاکو ایسے مسلمانوں سے کوئی پریشانی نہیں جو صرف نماز، روزے اور وظیفے میں رہیں۔یہودی اس وقت ابلیس کے سب سے بڑے ایجنٹ ہیں۔ حضرت آدم ؑ کے خلاف جو کردار ابلیس کا تھا، آج پوری نوع انسانی کے حوالے سے وہ یہود کا ہے۔
 اسلام نے نہ صرف یہ کہ مزدور اور سرمایہ دار کے حقوق کا تحفظ کیا ہے بلکہ اسی تحفظ کے لیے ہی سود اور جوئے کو حرام قرار دیا ہے۔اسلام میں سرمایہ کاری پسندیدہ ہے‘لیکن سرمایہ داری غلط ہے۔اسلا م نے ایسا نظام دیا ہے کہ جس میںکسی طبقے کا استحصال نہ ہو۔اس کے ساتھ محنت کی عظمت کے حوالے سے آنحضورﷺ کے جو اقوال ہیں اور آپﷺ کے طرزِ عمل سے جو رہنمائی ملتی ہے‘ وہ اضافی ہے۔آپﷺ نے فرمایا:’’ ہاتھ سے کمائی کرکے کھانے والا شخص اللہ کا دوست ہے‘‘۔ایک صحابی حضرت سعدؓ سے آپﷺ نے مصافحہ کیا۔ آپﷺ نے محسوس کیا کہ ان کے ہاتھ کھردرے (سخت) ہیں۔ پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ کہنے لگے کہ میں محنت مزدوری کر کے کمائی کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ چوم لیے۔ اسی طرح حضورﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی اور ہر رسول نے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں اور میں بھی حقیر سی اُجرت پر قریش کی بکریاں چراتا رہا ہوں۔ ہم مزدورو ںکے حوالے سے جو بھی اقدامات اٹھالیںلیکن جب تک اللہ کے دیے ہوئے نظام عدل و قسط کو نافذ نہیں کرتے‘ان کا استحصال کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتا اور مزدور کو اس کا حق مل ہی نہیں سکتا۔ کسی نہ کسی طریقے سے سرمایہ دار اس کے ساتھ نا انصافی کرتا ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کا نظامِ عدل وقسط نافذکرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین!
 

تازہ ترین خبریں