09:21 am
  تھانیداری کا خواب  

  تھانیداری کا خواب  

09:21 am

 سری لنکا میں دہشت گرد حملوں کے تناظر میں گذشتہ کالم میںبات جہاں ختم ہوئی تھی وہیں سے آغاز کرتے ہیں ۔ برصغیر میں خودکش حملہ آوروں کی پہلی تربیت گاہ بھارت کی سرزمین تامل ناڈو پر قائم ہوئی اور سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو خود کش حملے میں شکار کرنے والی تھنموزی راج رتنم نے یہیں سے تربیت لی تھی ۔ ایل ٹی ٹی ای ( لبریشن آف تامل ٹائیگرز ایلام) کی سرپرستی کر کے جب بھارت سرحد پار دہشت گردی کے ہتھیار سے سری لنکا کو زخمی کر رہا تھا تو اُس مصیبت کی گھڑی میں پاکستان نے تعاون کی مرہم فراہم کی تھی ۔ چھبیس برس تک دہشت گردی کے خلاف جاری رہنے والی اعصاب شکن جنگ میں پاکستانی تعاون کا اعتراف سری لنکا برملا کرتا ہے۔ پاک سری
لنکا دوستانہ ریاستی تعلقات کی تاریخ تین عشروں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔
 سری لنکن آرمی کے آفیسرز کی قابل ذکر تعداد پاک فوج کی تربیت یافتہ ہے ۔ بھارت سرکار کو تعلقات کی یہ گرمجوشی ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ اس کی دو واضح وجوہات ہیں ۔ اول، بھارت کی روایتی پاک دشمن سوچ ۔ دوم، جنوبی ایشیا ئی ممالک پر دھونس جما کر علاقے کا تھانیدار یا منی سپر پاور بننے کی بھارتی خواہش۔ اسی توسیع پسندانہ سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھارت نے ہر چھوٹے بڑے پڑوسی ملک سے تنازعات کو فروغ دے کے خطے کے امن کو دائو پر لگائے رکھا ہے ۔ پاکستان سے تنازعات اور جنگوں کی تاریخ دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ چین سے کشیدہ تعلقات اور ساٹھ کی دہائی میں شرمناک جنگی شکست بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ 
نیپال جیسا چھوٹا اور بے ضرر ملک بھی بھارت کی چیرہ دستیوں کا شکار بنتا رہا ہے۔ چار برس قبل نیپال کے نئے آئین کی تشکیل کے موقع پر نام نہاد سیکیولر بھارت نے اس امر کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ ہندومت اس چھوٹی سی ریاست کا سرکاری مذہب بن جائے۔ نیپال کی مزاحمت پر مودی سرکار اتنی برہم ہوئی کہ خشکی میں گھرے ملک کو زمینی راستے سے ضروری اشیاء کی ترسیل بند کردی ۔ بات اتنی بڑھی کہ نیپال بھارت کے خلاف یہ شکایت لے کے اقوام متحدہ جا پہنچا۔ اس سے قبل بھارتی ایجنسی را نیپال میں شاہی خاندان کے خلاف بغاوت کروا کے حکومت کا تختہ الٹنے میں بھی ملوث رہی ۔ سری لنکا کو بھارت کا دست نگر بنا کے رکھنے کی خواہش بھی بہت پرانی ہے۔ 
ابتداء میں تامل باغیوں کو اکثریتی سنہالی آبادی کے خلاف دہشت گردی کی ترغیب دے کے علیحدگی کی تحریک چلوائی گئی ۔جس بد ترین دہشت گردی نے ڈھائی عشروں تک سری لنکا کو خون میں نہلائے رکھا اُس کا مرکز بھارت کی ریاست تامل ناڈو تھی ۔ بعدازاں منی سپر پاور بننے کی دھن میں راجیو گاندھی نے تامل باغیوں کی سرکوبی کی آڑ میں بھارتی فوج کو امن فورس کا نقاب اُوڑھا کے سری لنکا میں بھیج دیا ۔ اس اقدام پر تمام سری لنکا میں بھارت کے خلاف شدید نفرت اور غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ تیس جولائی ستاسی کو راجیو گاندھی کے سری لنکا کے سرکاری دورے کے دوران گارڈ آف آنر کے موقع پر اس نفرت کا ایسا اظہار سامنے آیا جو شائد ہی پہلے کبھی دیکھا گیا ہو۔ 
گارڈ آف آنر کے معائنے کے دوران سری لنکن نیوی کے سیلر وجے منی ڈیسلوا نے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی پر اپنی سرکاری رائفل کے بٹ سے حملہ کیا ۔ یہ توسیع پسندانہ عزائم اورپڑوسیوں کے خلاف سازشیں رچانے والے بھارت کے منہ پر ایک غیرت مند سری لنکن کا رسید کیا ہوا ایسا طمانچہ تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ خطے میں سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینے اور پڑوسی ممالک کے معاملات میں بے جا مداخلت کی ہلاکت انگیز پالیسیوں کے رد عمل میں ہی راجیو گاندھی کو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ۔
 اکیس مئی سن اکیانوے کو تامل ناڈو کے علاقے سریپورمبدر میں ایک ریلی کے دوران تامل باغیوں کی تربیت یافتہ تھنموزی راج رتنم دھنو نے راجیو گاندھی کو خودکش دھماکے میں ستاون شہریوں سمیت قتل کر دیا ۔ بھارت نے تامل تحریک کے ذریعے دہشت گردی کے جو کانٹے سری لنکا کے لیے بوئے تھے بالآخر انہوں نے بھارت کے دامن کو بھی تار تار کر دیا ۔ بدقسمتی سے بھارت نے ایسے حادثات سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔
 وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ خطے کا تھانیدار بننے اور پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت کے ذریعے انہیں غیر مستحکم کرنے کا بھارتی جنون بڑھتا جا رہا ہے ۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ امریکی اشارے پر خطے کے ہر اُس ملک میں دہشت گردی کے آسیب کو استعمال کیا جا رہا ہے جو کسی نہ کسی طرح چین کے معاشی پھیلائو کا حصہ ہے۔ یہ حقیقت بھی ہر شبے سے بالا ہے کہ بھارت سرحد پار دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنے پڑوسیوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ سری لنکا سمیت پاکستان میں ہونے والے حملوں کی جڑیں بھی بذریعہ افغانستان بھارت جا پہنچتی ہیں ۔ 
خطے کے امن پسند ممالک کو سر جوڑ کر بھارت کے سرحد پار دہشت گردی کے جنون کا علاج دریافت کرنا چاہیے ۔ بھارت کے باشعور عناصر بھی ان فاش غلطیوں پر غور کریں جن کی بدولت وجے منی ڈی سلوا نے راجیو گاندھی پر رائفل اٹھائی ، دھنو نے خودکش دھماکے میں راجیو گاندھی کی جان لی اور اندرا گاندھی اپنے سکھ باڈی گارڈز کی گولیوں کا نشانہ بنی ۔ یہی نہیں بلکہ کشمیر ، افغانستان ، سری لنکا ، نیپال اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہی ہاتھ کیوں دکھائی دے رہا ہے ؟ 

 

تازہ ترین خبریں