09:27 am
بھارت کے فنڈز پر مزہ مہنگا پڑتا ہے!

بھارت کے فنڈز پر مزہ مہنگا پڑتا ہے!

09:27 am

منظور پشتین کی پشتون تحفظ موومنٹ کی ملک دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں جو سوالات اٹھائے ہیں وہ چشم کشا ہیں‘ پہلے تو یہ بات ذہن میں رہے‘ قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشز ہوں یا امریکی ڈرون حملے‘ جس وقت اے این پی‘ پیپلزپارٹی سمیت امریکی پٹاری کے سارے دانش فروش ان حملوں کو جائز قرار دے رہے تھے...سینکڑوں معصوم بچے اور بے گناہ عورتیں ان ڈرون حملوں میں شہید ہو رہی تھیں اور دانش فروشوں کا ایک گروہ قوم کو بتا رہا ہوتا تھا چونکہ ان حملوں میں دہشت گرد مارے جارہے ہیں‘ لہٰذا ڈرون حملے نہایت ضروری ہیں‘ حالانکہ امریکی ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں میں اکثریت قبائلی بچوں اور عورتوں کی ہوتی تھی‘ الحمدللہ اس خاکسار  نے اس وقت  بھی انہیں کالموں میں پوری جرات کے ساتھ قبائلی عوام کی حمایت میں درجنوں کالم لکھے۔
 
ٹی ٹی پی والوں نے مسلح کارروائیاں شروع کیں تو ان کی زبانوں پر اسلام کا نعرہ ہوتا تھا لیکن پاکستان کے مقتدر علماء کرام نے مسلح جدوجہد کے ذریعے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کے مطالبے کی نہ صرف شدید مذمت کی بلکہ ان کی فورسز اور عوام کے خلاف کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو بھی حرام قرار دیا۔
اس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ اگر اسلام کے نام پر بھی ریاست پاکستان کے مقابلے میں کوئی آئے گا تو تمام علماء کرام‘ مذہب پسند اور ہر محب وطن پاکستانی ریاست کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
آج ایک دفعہ پھر پاکستان ایک نئے امتحان سے دوچار ہے‘ شہید نقیب اللہ پر ہونے والے ظلم کے بعد بدنام زمانہ پولیس آفیسر رائو انوار کے خلاف پی ٹی ایم کے نام سے ایک تحریک قائم کی گئی۔ 
پشتون تحفظ موئومنٹ کے رہنمائوں نے نقیب اللہ کو انصاف دلانے کے لئے اسلام آباد سے لے کر کراچی تک دھرنے ارینج کئے ‘ سچی بات ہے کہ میں ذاتی طور پر کسی دھرنے میں تو شرکت نہ کر سکا‘ لیکن زبان اور قلم کے ذریعے بدنام زمانہ رائو انوار کے خلاف اور شہید نقیب کے حق میں  ڈٹ کر آواز اٹھائی۔
رائو انوار کے مظالم کے حوالے سے اوصاف میں متعدد کالم بھی لکھے‘ میرا آج بھی یہ ماننا ہے کہ آصف زرداری کا ’’بہادر بچہ‘‘ رائو انوار نہ صرف ایک خونی درندہ بلکہ انسانیت کا بھی بدترین دشمن ہے‘ وہ اگر ہمارے نظام عدل میں پائی جانے والی کمزوریوں کی وجہ سے یہاں سزا سے بچ بھی گیا تو بھی اللہ کے شدید عذاب سے کبھی بچ نہ سکے گا۔ (ان شاء اللہ)
جیسے سی ٹی ڈی کے ظالم اہلکاروں نے سانحہ ساہیوال میں معصوم بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو شہید کرکے پوری قوم کو آنسو بہانے پر مجبور کیا تھا...ایسے ہی رائو انوار نے جعلی مقابلوں میں نقیب اللہ سمیت سینکڑوں بے گناہ انسانوں کا قتل کرکے پوری قوم کو تڑپا کر رکھ دیا اور میری اس حوالے سے ذاتی تحقیق ہے کہ رائو انوار  نے بے گناہ مہاجر نوجوان بھی قتل کئے‘ پنجابی‘ بلوچ‘ پٹھان اور سندھی بھی اس کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے... لاپتہ افراد کے حوالے سے ہم نے روزنامہ اوصاف کے انہیں صفحات پر پرویز مشرف دور سے ہی  آواز اٹھانا شروع کر دی تھی‘ پشتون قومی موومنٹ اگراپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لئے آئین اور قانون کے راستوں پر ہی گامزن رہتی تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔
لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ پی ٹی ایم کی کوکھ سے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ برآمد ہونا شروع ہوگیا‘ وہ کالی طاقتیں کہ جن کے پاکستان میں موجود ایجنٹوں کو بھی پاک فوج کی مضبوطی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی‘ جو مسلمانوں پر تشدد کے پہاڑ ڈھانے کے بعد مسلمانوں کو ہی شدت پسندی کے طعنے دیتے نہیں تھکتے‘ ان کالی قوتوں کا سایہ بھی جب پی ٹی ایم کے اوپر نظر آیا‘ ٹی ٹی پی والوں کی گھنی ڈاڑھیوں اور بھاری پگڑیوں کی وجہ سے جن کی زبانوں پر صبح و شام انہیں مار دو‘ مار دو کی رٹ رہتی تھی۔
ان سیکولر شدت پسندوں کی ہمدردیاں بھی جب پی ٹی ایم کے ساتھ نظر آئیں تو ذہن یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ پی ٹی ایم صرف جائز مطالبات تک ہی محدود رہے گی‘ لیکن یہ سب دیکھنے کے باوجود  ہم اللہ سے ’’خیر‘‘ ہی مانگتے رہے تاآنکہ‘ کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پیر کے دن پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کے حوالے سے جو انکشافات کئے انہیں سن کر میرے دل میں جیسے کوئی ’’چیز‘‘ ٹوٹ سی گئی‘ شاید یہ وہ ’’اعتماد‘‘ تھا کہ جس کے بل بوتے پر ہم سب صرف نقیب اللہ شہید ہی کے مجرم کو ہی نہیں بلکہ سانحہ ساہیوال کے مجرموں کو بھی عبرتناک انجام سے دوچار دیکھنا چاہتے تھے۔ 
کیا بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے فنڈز لے کر نقیب اللہ کو انصاف دلایا جاسکتا ہے؟ کیا افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کی خفیہ ایجنسی سے پیسے لے کر لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا جاسکتا ہے؟
میجر جنرل آصف غفور کہتے ہیں کہ ’’پی ٹی ایم کے لئے اب چھوٹ ختم‘ پی ٹی ایم بتائے وہ پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا؟ اسلام آباد دھرنے کے لئے ’’را‘‘ نے کتنے پیسے دئیے؟ منظور پشتین کا کون سا رشتے دار بھارتی قونصلیٹ گیا؟ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کا بیانیہ ایک سا کیوں ہے؟
بتایا جائے کہ پی ٹی ایم فوج کے خلاف چندہ جمع کیوں کر رہی ہے؟ کیا پی ٹی ایم کے مسائل مودی نے حل کرنے ہیں؟ آپ فوج سے کس بدلے کی بات کر رہے ہیں کہ ہم بدلہ لیں گے کیا آپ فوج کو لٹا سکتے ہیں؟‘‘
انہوں نے پی ٹی ایم سے سوالات اور بھی کئے مگر سردست انہیں سوالات پہ فوکس رکھتے ہیں‘ میجر جنرل آصف غفور کے ان سارے سوالات کے مدلل جواب دینا اب پی ٹی ایم کی ذمہ داری بنتی ہے۔
لیکن ایک بات بہرحال طے ہوگئی کہ پی ٹی ایم ملک دشمن اور فوج دشمن سرگرمیوں میں گردن گردن تک دھنس چکی ہے‘ جو بھارت خود مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد بے گناہ انسانوں کے قتل میں ملوث ہے‘ جو بھارت پاکستان کو مٹانے کے خواب دیکھ رہا ہے‘ اس بھارت سے فنڈز لے کر لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے کی باتیں کرنا دھوکا اور فراڈ تو ہوسکتا ہے  مگر ’’تحریک نہیں‘‘

 

تازہ ترین خبریں