09:29 am
نیا بلدیاتی نظام، حکومت کے زیر کنٹرول نمائشی ادارے

نیا بلدیاتی نظام، حکومت کے زیر کنٹرول نمائشی ادارے

09:29 am

٭پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابا اور واک آئوٹ کے باوجود بلدیاتی نظام کا نیا بل منظور کر لیا۔ یہ بل منظوری کے لئے گورنر کے پاس بھیج دیا گیا۔ اس کی منظوری کے ساتھ ہی یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا، اس کے ساتھ ہی صوبہ بھر میں تمام بلدیاتی ادارے ختم ہو رہے ہیں (شائد اب تک ختم ہو چکے ہوں)۔ بل کی منظوری سے پہلے اپوزیشن نے بہت ہنگامہ کیا کہ اس کی ترامیم پر بحث نہیں ہونے دی گئی۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ترامیم مقررہ وقت کے بعد پیش کی گئی ہیں۔ اپوزیشن کے واک آئوٹ کے بعد بل منظور کر لیا گیا۔ بل کی تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ایوب خاں کے مارشل لائی بلدیاتی نظام کی طرح نئے نظام میں بلدیاتی نمائندوں کو سرکاری افسروں کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔
 
 ایوب خان نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے لئے 44 ہزار بلدیاتی نمائندوں کا بلدیاتی نظام قائم کیا تھا جو دیہات کی یونین کونسلوں سے لے کر اوپر تحصیل، ضلع اور ڈویژنل کونسلوں تک جاتا تھا۔ ہر سطح پر مجسٹریٹ، تحصیل دار، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر ان اداروں کے چیئرمین ہوتے تھے۔ ایک عوامی نمائندہ وائس چیئرمین منتخب ہوتا تھا جو سرکاری افسر کے ماتحت ہوتا تھا۔ بلدیاتی انتخابات صرف یونین کونسلوں کے ہوتے تھے اس کے بعد ان اداروں کے منتخب وائس چیئرمین خود بخود اوپر کے اداروں میں پہنچ جاتے تھے۔ یہ 44 ہزار نمائندے ملک کے صدر کا انتخاب بھی کرتے تھے۔ عام عوام صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ ان اداروں کے نمائندوں کو ہر سطح پر ووٹ فروخت کرنے کا بہت منافع بخش کاروبار ہاتھ آ گیا۔ دوسری طرف ایوب خان نے صدارتی انتخاب لڑا تو کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں نے دبائو ڈال کر اور پھر جعل سازی کے ذریعے مغربی پاکستان میں ایوب خان کو کامیاب قرار دیا۔ مشرقی پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناحؒ  نے اکثریت حاصل ،کی مگر افسر شاہی نے مجموعی ووٹ ایوب خان کے حق میں ظاہر کر دیئے۔ بالآخر ایوب خان کے ساتھ ہی یہ نظام بھی ختم ہوگیا۔
  ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے چھ سال کے دوران ملک میں ایمرجنسی نافذ کئے رکھی، اس عرصے میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیئے۔ جنرل ضیاء الحق نے بلدیاتی انتخابات کے ذریعے عوام کی توجہ ان اداروں کی طرف مبذول کئے رکھی۔ 1990ء کے وسط میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے انہوں نے ان اداروں کے چیئرمینوں کے انتخابات نہیں ہونے دیئے۔ وجہ یہ تھی کہ ان اداروں میں مخالف اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہو چکی تھی۔ یہ ادارے ایک سال تک غیر فعال رہے۔ چیئرمین کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا تھا۔بالآخر ہائی کورٹ کے حکم پر چیئرمینوں کا انتخاب ہوا۔ اس دوران حکومت اپنے دبائو سے ہوا کا رخ اپنے حق میں موڑ چکی تھی۔
یہ تفصیل بہت لمبی ہے۔ اب جو نظام لایا گیا ہے اس کے چند خاص اور بہت اہم نکات یہ ہیں کہ حکومت کسی بھی وقت کسی بھی ناپسندیدہ ادارے کو توڑ سکتی ہے۔ دوسرا اہم معاملہ کہ ضلعی ادارے ختم کر دیئے گئے ہیں۔ سیاست دانوں کی ترجیحات میں پہلے نمبر پر اسمبلی کی رکنیت اور وزارت، دوسرے نمبر پر ضلع کونسل کی چیئرمینی ہوتی تھی۔ یہ عہدہ بہت پرکشش ہوتا تھا۔ اسمبلی کا رکن یا وزیر بننے والے سیاست دانوں کا ایک بھائی یا بیٹا ضلعی کونسل کا چیئرمین، دوسرا تحصیل کونسل کا چیئرمین بن جاتا۔ اس طرح ملک کا سارا نظام چند خاندانوں کے کنٹرول میں رہتا تھا۔ یہ لوگ بہت طاقت ور اور بااثر ہوتے تھے۔ ان کے زیر استعمال بڑے بڑے دفاتر اور کروڑوں اربوں کے فنڈز ہوتے تھے، جنہیں کسی روک ٹوک کے بغیر استعمال کرتے تھے، کوئی پوچھ گچھ نہیں تھی۔ موجودہ حکومت نے ضلع کونسلوں کا ٹنٹا ہی ختم کر دیا ہے، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ایک اور اہم بات یہ کہ بلدیاتی اداروں کے منظور کردہ مالیاتی بلوں کی منظوری کے لئے چیف افسر کے دستخط ضروری ہوں گے۔ چیف افسر براہ راست اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کو جواب دہ ہوگا۔ اس طرح بلدیاتی ادارے براہ راست ان افسروں کے کنٹرول میں رہیں گے۔ کچھ دوسری باتیں:
٭گزشتہ روز مسلح افواج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم (پشتون تحفظ موومنٹ) کو ملک دشمن قرار دیا اور اس کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ اس اعلان میں واضح طور پر بتایا گیا کہ پی ٹی ایم کو بھارت اور افغانستان سے مالی امداد ملتی ہے۔ قارئین کرام! آپ نے دل تھام کر خبر پڑھ لی ہو گی کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری (بھٹو؟) نے پی ٹی ایم کی حمایت کر دی ہے۔ ان سے پی ٹی ایم کے قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ اور دوسرے افراد کے وفد نے ملاقات کی تھی۔ جنرل آصف غفور نے محسن داوڑ کی افغانستان میں سرگرمیوں کا بطور خاص حوالہ دیا تھا۔ پی ٹی ایم پاکستان کی فوج سے بدلہ لینے اور اسے الٹا دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ بلاول کی طرف سے اس وفد کی پذیرائی کوئی نئی بات نہیں، اس کے والد پہلے ہی سرعام ’’جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے‘‘ کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان لوگوں کے بیشتر اثاثے ملک سے باہر ہیں۔ بلاول خود انتخابی گوشوارے میں درج کر چکا ہے کہ اس کے پاس دوسرے اثاثوں کے علاوہ نقدپانچ کروڑ روپے دبئی اور لندن کے بنکوں میں محفوظ ہیں!
٭مسیحی پیشوا پوپ فرانسس نے ہدائت جا ری کی ہے کہ حجام لوگوں کے بال کاٹتے وقت فضول باتیں نہ کیا کریں۔ پوپ کو یہ حکم جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ غالباً ان کے حجام نے خاندانی عادت کے تحت پوپ کے بال کاٹتے وقت کوئی غیر ضروری مشورے دے دیئے ہوں گے۔ اس خبر سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے حجاموں کو حجامت یا شیو کرتے وقت بہت بولنے کی عادت ہے۔ اس پر پابندی لگ گئی تو وہ حجامت کیسے کر سکیں گے؟ ایک حجام نے دلچسپ توضیح کی تھی کہ بعض لوگوں کے بال بہت سخت ہوتے ہیں، آسانی سے نہیں کٹتے، ہم انہیں خوفناک باتیں سناتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو آسانی سے کٹ جاتے ہیں۔
٭پنجاب بار کونسل نے جڑانوالہ کے جج کا سر پھاڑنے والے وکیل عمران منج کا لائسنس اس لئے بحال کر دیا ہے کہ ایک عدالت نے اس کی ضمانت کیوں منظور نہیں کی؟ وکیل کے خلاف دہشت گردی وغیرہ کا ناقابل ضمانت مقدمہ دائر ہے اس میں ضمانت نہیں ہو سکتی۔ پنجاب بار کونسل کی طرف سے گویا وکلا کوکھلی اجازت مل گئی ہے کہ جب جی چاہے کسی جج کا سر پھاڑ دیں!
٭نیب کی رپورٹ پر چودھری برادرز کے خلاف سیف سٹی لاہور میں 28 پلاٹوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کا کیس ختم کر دیا گیا ہے۔ چودھری برادرز کے مطابق یہ پلاٹ انہوں نے نہیں بلکہ ان کے ایک چھوٹے ملازم نے خریدے تھے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں کا ایک چھوٹا سا ملازم اکٹھے 28 پلاٹ خرید سکتا ہے خود ان کی کیا حیثیت، کیا اہمیت ہو گی؟ بے چارہ نیب!۔
٭تھڑا سیاست دان علم دین مجھ پر زور دے رہا ہے کہ اسے کس طرح نیب لاہور کی حوالات میں بند کرا دیا جائے۔ خواجہ سعد رفیق نے نیب کی حوالات میں تکلیفوں کی شکائت کی تھی۔ اس پر نیب حکام نے صحافیوں کے ایک وفد کو اپنی حوالات کا دورہ کرایا۔ حوالات میں بند افراد کو عمدہ کھانا، ایئرکنڈیشنڈ کمرہ، 24 گھنٹے ڈاکٹر، صاف ستھرا بِستر، صاف ستھرے واش روم، ٹھنڈا صاف پانی،سردیوں میں ہیٹر اور وہیل چیئربھی حاصل ہے۔ علم دین کچھ عرصے سے بے روزگار ہے۔ وہ پوچھ رہا ہے کہ نیب کی حراست میں جانے کا کیا طریقہ ہے؟
٭ایک خبر:سعد رفیق کے دور میں ریلوے کے لئے 63 کروڑ کے ناقص پرزے خریدے گئے ان کے باعث ٹرینیں بار بار رک جاتی ہیں یا پٹڑی سے اتر جاتی ہیں!صرف 63 کروڑ روپے!
 

تازہ ترین خبریں