07:56 am
فکراقبال:ٹیکنوکریٹ کاوجودیا صدارتی نظام و خلافت؟

فکراقبال:ٹیکنوکریٹ کاوجودیا صدارتی نظام و خلافت؟

07:56 am

ان دنوں جہاں پارلیمانی نظام کی خامیاں اور عدم استطاعت زیر بحث رہی ہے وہاں صدارتی نظام کے فوائد اور صلاحیتوں کو سامنے لانے کا مشکل کام بھی ہوتا رہا ہے۔ عمران خان آج کل مخالفین کی شدید تنقید کا نشانہ ہیں کہ انہوں نے پارلیمانی نظام کو عملاً ناکام بنا دیا ہے اور صدارتی نظام کے حق میں پارلیمانی سے دوتہائی اکثریت کی بنیاد پر مطلوب آئینی تبدیلی کئے بغیر ہی غیر منتخب شخصیات کو معاونین خصوصی یا مشیران مقرر  کرکے غیر جمہوری اور غیر آئینی انداز حکومت اپنا لیا ہے۔ مخالفین معترضین کے ہاں یہ صورتحال جسے وزیراعظم عمران خان نے حکومتی عمل بنا دیا ہے‘ اصل میں تو اس سے  صدارتی نظام کی روح مکمل طور پر داخل حکومت ہوگئی ہے۔
 
 صدارتی نظام میں چونکہ پارلیمنٹ صرف قانون سازی کرتی ہے اور منتخب صدر اراکین  پارلیمنٹ سے ہی کابینہ کی تشکیل کرنے پر مجبور نہیں رہتا بلکہ صلاحیت‘ قابلیت اور مہارت جہاں بھی اسے دکھائی دے وہ فوراً اسے حکومتی وزیر یا منصب دار بنا لیتا ہے۔ آج کل ’’معیشت‘‘ واحد معیار ہے جس سے حکومت اور ریاست کی ناکامی اور کامیابی کو دیکھا جاتا ہے۔ بظاہر امریکہ‘ چین‘ روس ‘ فرانس وغیرہ میں صدارتی نظام کامیاب ہے مگر یہ ایسا صدارتی نظام ہے کہ جو کسی مارشل لاء کے بعد کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ عوام خود بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں۔ چین میں کمیونسٹ نظام کی سخت گیری کو ڈسپلن اور ون پارٹی کی صورت برقرار رکھ کر سرمایہ دارانہ معاشی نظام کو اپنا لیا گیا ہے یوں کمیونسٹ ڈسپلن اور ون پارٹی کے ہاتھ مغربی کیپٹل ازم کے امتزاج سے معاشی طور پر بھی چین پر پاور بن رہی ہے۔ روسی صدر نے سخت گیر حکومتی طویل مدتی اقدامات سے منہدم ہوچکے۔ سویت یونین آف رشیاء کا خود کو متبادل ثابت کر دکھایا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات معاشی طور پر کافی مضبوط ہیں۔ امارات و سعودیہ ہرگز معاشی طور پر مضبوط نہ ہوتے نہ ہی تیل و گیس کے مالکان ہوتے ہوئے عالمی سیاسی  دنیا میں اہم ترین کردار ہوتے۔ ’’استحکام‘‘ ریاستی طور پر صرف دائمی وجود پر مبنی نظام سے آتا ہے خواہ یہ صدارتی مغربی ہو یا چین و روس کی طرح کا ہو  ایک نظام خلافت ہے جسے ماضی بعید میں ڈاکٹر اسرار احمد مسلسل پیش کرتے رہے ہیں اور آج کل ان کے لئے حافظ عاکف اس کی افادیت بتاتے ہیں یا برادرم  اوریامقبول جان تسلسل سے اسے عوامی اور اسلامی فوائد کے حصول کا راستہ بتاتے ہیں۔ مگر جس طرح کی خلافت داعش اور ابوبکر البغدادی نے عملاً بنا کر دکھا دی ہے اس سے خلافت کا نظریہ تاحال ظالم و جابر و قاتل بناتا ثابت کیا جاچکا ہے۔
بہرحال داعش ابوبکر البغدادی کی قاتل انسانیت خلافت دیکھنے کے بعد بھی اوریامقبول جان کا ہی حوصلہ اور ہمت ہے یا ڈاکٹر اسرار احمد کے لخت جگر حافظ عائف کا کہ وہ بدستور خلافت کے فوائد پیش کرتے نہیںتھکتے۔ داعش کی خلافت تباہ کاریاں‘ انسانیت‘ دشمن المیہ‘ بم دھماکوں کا وجود ہے۔ جو فی الحال تو نظام خلافت پر غور کرنے کی جرات و  ہمت دیتا نہیں ہے۔ لے دے کے پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف ہجرت ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمد کا یہ موقف  کہ صدارتی نظام اسلام کے زیادہ قریب ہے کافی بازون بات ہے‘ چونکہ وزیراعظم عمران خان کے پاس نہ ہی پارلیمان میں دوتہائی اکثریت ہے نہ ہی اپوزیشن کسی بھی پارٹی کے پاس جبکہ عملاً ثابت ہو رہا ہے کہ کسی بھی میدان کے ماہرین خواہ یہ معاش ہوں یا طب کے ہوں یا دین و مذہب کے معاملات سے ہوں۔ ان کا سینٹ سے بھی زیادہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہونا ہر پارٹی کی حکومت سازی کی شدید ترین ضرورت ہے۔
قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آسانی سے ماہرین اور ٹیکنوکریٹس لائے جاسکتے ہیں بالکل اسی طرح  جیسے خواتین کو اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیاں بنایا جاتا ہے اس کے لئے البتہ پارلیمان سے ایک ترمیم درکارہوگی کہ خواتین کی موجودہ سیٹوں کو نصف کم کر دیا جائے یا جو بھی تعداد مناسب ہو۔ اتنی تعداد میں خواتین کی نشستیں کم کرکے خالی شدہ نشستیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ماہرین‘ ٹیکنوکریٹ‘ دین و مذہب کے معاشی اور سیاسی پہلو  میں تفکر و تدبر کا معاصر اور جدید اسلوب پیش کرنے والے حضرات و خواتین کو آسانی سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلیاں بنا کر ہر پارٹی حکومت سازی کے لئے استعمال کر سکتی ہیں۔ اراکین سینٹ میں ٹیکنوکریٹس لاتے ہوئے انہیں صوبائی  یا قومی اسمبلی کے اراکین ووٹ دیتے ہیں مگر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ماہرین و ٹیکنوکریٹس کو رکن بنانے کے لئے سیٹ کی طرح سادہ راستہ اپنایا جاسکتا ہے جو علامہ اقبال بھی ماہرین علوم دینیہ و اسلامیہ کے حوالے سے پیش ہے۔ 
البتہ موجودہ  اراکین خواتین کی مدت ختم ہونے کے لئے اسی طرح کا آئینی بیلٹ طریقہ اپنانا  پڑے گا جو پہلی سینٹ کی تشکیل کے بعد پہلے تین سال ختم ہونے پر یا جس طرح اراکین الیکشن کمیشن کی مدت طے کرنے کے لئے اپنایا جاتا ہے۔ ہمیں مغل اعظم جلال الدین اکبر کے پچاس سالہ کامیاب ترین حکمران تجربہ کو سامنے رکھنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ابولفضل اور فیض اور بیریل جیسے ماہرین و ٹیکنوکریٹس حکومتی وزیر اور منصب دار بن کر ریاست کو استحکام اور عوام کو فوائد فراہم کرتے تھے۔ کیا اکبر کی کامیابی ان ٹیکنوکریٹ کی مرہون منت نہ تھی؟ کیا یہ ٹیکنوکریٹ انتخابی مہنگے اور بدمعاشی انتخاب کے ذریعے آسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں موجودہ سیاست  لوٹ مار‘ بدمعاشی رہنی چاہیے۔

 

تازہ ترین خبریں