07:57 am
رمضان ، پاکستان اور اسلام

رمضان ، پاکستان اور اسلام

07:57 am

 ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔آنحضور ﷺ کے ایک خطبہ مبارکہ کے مطابق فی الواقع عظمتوں اور برکتوں کا حامل مہینہ سایہ فگن ہوچکا ہے۔اس ماہ مبارک میں وہ عظیم شب بھی شامل ہے جو ہزار مہینوں پر بھاری ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔شب قدر کے بارے میں عام خیال یہی ہے جس کی تائید بعض صحیح روایات سے بھی ہوتی ہے کہ ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہی در اصل شب قدر ہے۔ بعض روایات میں ماہ رمضان کے آخری عشرے کی دیگر طاق راتوں کا ذکر بھی ملتا ہے ، واللہ اعلم۔بہرکیف کوئی اسے حسن اتفاق یا کچھ اور ہمارے نزدیک یہ تدبیر الٰہی کامظہر ہے کہ پاکستان کا قیام ما ہ رمضان کی 27تاریخ کو عمل میں آیا تھا۔گویا اس رمضان المبارک کی 27 تاریخ کو پاکستان اپنی عمر کے 72برس مکمل کرلے گا۔
 
پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پوری دنیا میں یہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ تاہم یہ عظیم المیہ ہے کہ اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی یہ عظیم ریاست اپنے قیام کے ایک طویل عرصہ کے بعد بھی بے یقینی کی انتہائی کیفیت سے دوچار اور عدم استحکام کا عبرتناک نمونہ بنی ہوئی ہے۔اس عرصے میں پاکستان کا ایک بازو کٹ کر جدا ہوچکا ہے اور بقیہ پاکستان مسلسل سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کے نرغے میں ہے اور اگر حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی تو اس بچے کھچے پاکستان کی سالمیت بھی مشکوک نظر آتی ہے۔تنظیم اسلامی کا مستقل کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کا استحکام ہی نہیں اس کی بقا بھی اسلام کے ساتھ وابستہ ہے۔ہمارے عدم استحکام کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم من حیث القوم ، اللہ اور اس کے دین کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ہم نے اس عرصے کے دورابن نفاذ اسلام یعنی نظام خلافت کی قیام کی جانب کوئی حقیقی پیش قدمی کرنے کی بجائے اپنا پورا زور انگریز کے چھوڑے ہوئے باطل نظام کی حفاظت میں صرف کیا ہے۔وہی جاگیرداری نظام، وہی سودی معیشت جو قیام پاکستان سے قبل رائج تھی ،آج بھی قائم و دائم ہے بلکہ ہم نے اس طاغوتی نظام کو مزید پختہ کیا ہے اور اگر کوئی پیشرفت کی ہے تو اسی رخ پر۔آج ساری دنیا ہمیں سیاسی طور پر نابالغ اور معاشی طور پر بدحال اور کشکول بدست قوم کی حیثیت سے جانتی ہے۔
1996ء میں تحریک خلافت پاکستان کے زیر اہتمام سقوط مشرقی پاکستان کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب میںایک معروف صحافی نے جن کا شمار کوچہ سیاست کے اہل دانش میں ہوتا ہے ،اپنی تقریر میں اس رائے کا اظہار کیا کہ پاکستان اسلام کے لئے نہیں بلکہ محض مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تھا ۔پاکستان کا قیام کسی اعلیٰ تر مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ نہیں تھابلکہ پاکستان کا قیام ہی ہماری آخری منزل تھا اور 14اگست 1947ء کو ہم نے اپنی منزل پالیا ۔پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام یا پان اسلامزم کا تحریک پاکستان کے معاملے میں اپنی منزل قرار دینا خلط مبحث کے مترادف ہے۔
آج بھی اس قسم کے خیالات کے حامل کچھ لوگ موجود ہیں ۔ ایسے لوگوں سے ہم یہ سوال کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اگر پاکستان بجائے خود ایک منزل تھا تو یہ مقصد حاصل ہوجانے کے بعد اور اچھا ٹیلنٹ رکھنے کے باوجود آج ہم ہر اعتبار سے اتنے زبوں حال کیوں ہیں؟کیا پاکستانی قوم کو پیدائشی طور پر ذہنی مریض اور ذہنی طور پر معذور سمجھا جائے کہ ہم قیام پاکستان کے طویل عرصے بعد بھی سیاسی شعور اور معاشی خود کفالت کے میدان میں دنیا کی تمام دوسری اقوام سے بہت پیچھے کیوں ہیں؟کیا وجہ ہے کہ آج یہ شعر صد فیصد ہم پر صادق آتا ہے    ؎   ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے    ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو  بگاڑ۔کیا وجہ ہے کہ ملکی سطح پر ہمارے  ادارے آج تباہی کے آخری دہانے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ محمد ﷺ کے امتی ہونے اور حامل قرآن ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ اخلاق و کردار کے اعتبار سے ہم گراوٹ کے آخری انتہائوں کو چھو رہے ہیں۔
تنظیم اسلامی کی تشخیص بالکل صاف اور واضح ہے کہ ہم اللہ سے کئے گئے اس عہد کے خلاف ورزی کی سزا بھگت رہے ہیں جو ہم نے تحریک پاکستان کے دوران اللہ سے کیا تھا کہ ہم پاکستان کو اسلام کے اصول حریت و اخوت و مساوات کا ایک مثالی نمونہ بنائیں گے اور برصغیر کے گلی کوچے اس نعرے سے گونج اٹھے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا    لا الٰہ الا اللہ ۔اس عہد شکنی کی پاداش میں اس سنت کے مطابق جس کا ذکر سورہ توبہ کی آیات 75-77میں وارد ہوا ہے ، نفاق عملی کا روگ ہمارے جسد ملی کے رگ و ریشے میں سرایت کرچکا ہے اور اس صورتحال کا علاج اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہم پاکستان میں اسلام کے نظام عدل اجتماعی کے قیام یعنی نظام خلافت کے احیاء و قیام کے لئے کمر بستہ ہوجائیں اوراس ضمن میں کسی حقیقی پیشرفت کا آغاز کردیں۔ظاہر بات ہے کہ یہ کام جب تک ایک قابل ذکر پیمانے پر نہیں ہوگا اور نمایاں دینی قوتیں جب تک جمع ہوکر اس کے لئے سنجید ہ اور مخلصانہ کوشش نہیں کریں گی ، بات آگے نہیں بڑھے گی۔بہرکیف اصلاح احوال کا واحد فوری راستہ اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ دینی قوتیں حالات کی نزاکت اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے انتخابی سیاست کے میدا ن سے کنارہ کش ہوکر اور سیرت طیبہ کی رہنمائی حاصل کرتے ہوئے انقلاب طریق کار کو اپناکر نظام خلافت کے قیام کے لئے بھرپور متحدہ کوشش کا آغاز کردیں ۔بصورت دیگر قوم کی حالت سدھرنے کا کوئی امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔


 

تازہ ترین خبریں