08:01 am
امریکہ السیسی سے بیزار

امریکہ السیسی سے بیزار

08:01 am

کچھ تومعاملہ یہ ہے کہ درون خانہ سیاست الجھ گئی ہے،کچھ یہ بات بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست نے تھکادیاہے اورپھریوں بھی ہے کہ عرب اتحادیوں کا سیاسی ومعاشرتی استحکام مقصودہے،اس لیے واشنگٹن نے مصرپرتوجہ دینابہت حدتک ترک کردیاہے۔ امریکہ کے دیرینہ حلیف اورعرب دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک میں کچھ ایساہورہا ہے جوحسنی مبارک کے دورمیں بھی نہیں ہوا۔ عبدالفتاح السیسی ملک کومطلق العنان طرزِحکومت کی طرف اِس طور دھکیل رہے ہیں جس کی نظیرنہیں ملتی۔اس عمل میں جنرل السیسی خطے کوایک بارپھرعدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔2013ء میں منتخب صدرمحمد مرسی اوران کی حکومت کاتختہ الٹ کرصدربننے کے بعدالسیسی نے ایک ایساآئین نافذکیاجس میں بنیادی حقوق کی بہت حد تک ضمانت فراہم کی گئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ صدر کے اختیارات پرتھوڑی سی قدغن لگانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔عبدالفتاح السیسی اوران کے ساتھیوں نے دعویٰ کیا کہ آئین میں ترامیم کے ذریعے اورحکومتی اقدامات کے توسط سے جمہوریت کومکمل بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ چندبرسوں کے دوران السیسی نے آئین پرعمل سے گریزکیاہے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اپنی ذات میں مرتکزکرنے کی کوشش کی ہے۔ اخوان کے خلاف شدید کریک ڈاون جاری رہاہے اور حکومت کے کسی بھی اقدام کے خلاف آوازبلند کرنے والوں کو خاموش کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی گئی۔ 
 
السیسی اب آئین میں ترمیم کے ذریعے ایک ایسی طرزحکومت کی راہ ہموارکررہے ہیں جس میں صدرکا منصب غیرمعمولی حد تک ذاتی نوعیت کی آمریت پر مبنی رہ جائے گایعنی اقدامات کوچیلنج کرنے کی گنجائش برائے نام رہ جائے گی۔ یہ مصریوں کیلئے تو بری خبر ہے ہی،باقی دنیا کے لئے بھی کوئی اچھی خبرنہیں۔ علاقائی سطح پرعدم استحکام اس حد تک بڑھے گاکہ باقی دنیابھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے گی۔اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ جب تمام اختیارات کسی ایک شخصیت میں مرتکزکردیے جائیں تو اقتدار کوطول دیناممکن ہوتاہے اورخاص طورپر ایسے میں کہ جب مسلح افواج ساتھ دے رہی ہیں جیساکہ السیسی کے معاملے میں ہے۔ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرناپڑے گی کہ تمام اختیارات ایک شخصیت میں مرتکزکرنے کی صورت میں حکومت یاطرزِحکومت کاخاتمہ ایسی حالت میں ہوتاہے کہ اچھاخاصا انتشارباقی رہ جاتاہے۔ السیسی نے آئین میں جو ترامیم کی ہیں،ان سے تین طرح کا فائدہ ہوگا۔ 
٭پہلا فائدہ:السیسی کو2022ء میں صدر کامنصب چھوڑناتھا۔آئینی ترامیم کی مددسے اب وہ2034ء تک اقتدارسے چمٹے رہنے کی گنجائش پیداکرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔2011ء میں عرب دنیامیں اٹھنے والی بیداری کی لہرنے مصرمیں صدرکے منصب کودوبارچارچارسال کی میعادتک محدود رکھاتھایعنی کوئی بھی شخص دوسے زیادہ مرتبہ صدرمنتخب نہیں ہوسکتاتھا۔اس وقت مصرمیں السیسی کے اقتدارکوطول دینے کے حق میں اٹھنے والی آوازیں برائے نام ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ ان کی جابرانہ طرزحکومت سے بیزارہوچکے ہیں۔ 
٭دوسرافائدہ:آئینی ترامیم کے تحت السیسی کوصدرکی حیثیت سے عدلیہ میں اعلی عہدوں پربراہِ راست تقررکااختیارمل جائے گااوربجٹ کے حوالے سے بھی وہ اہم فیصلے کرسکیں گے۔مصرکاعدالتی نظام چاہے جتنابھی کمزورہوحقیقت یہ ہے کہ ایسے جج بڑی تعدادمیں موجودہیں،جوقانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔ 
٭تیسرافائدہ:آئینی ترامیم سے مصرکی مسلح افواج کوریاست کے اجزاباہم مربوط رکھنے اور جمہوریت وآئین کاتحفظ یقینی بنانے کے نام پرسیاسی معاملات میں مداخلت کاباضابطہ اختیارمل جائے گا۔ بادی النظرمیں ایسالگتاہے کہ اس حوالے سے متعارف کرائی جانے والی آئینی ترمیم صدرکے منصب کوکسی حد تک کنٹرول کرنے کامقصدحاصل کرے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ چندبرسوں کے دوران السیسی نے مسلح افواج میں اعلیٰ ترین سطح پرتقررکے حوالے سے غیرمعمولی اختیارات اپنی مٹھی میں لیے ہیں۔اس حوالے سے انہوں نے معاشی اقدامات،خوفزدہ کرنے کی پالیسی اوربرطرفیوں کاسہارابھی لیاہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردیدحقیقت ہے کہ آئینی ترامیم سے بہت پہلے ہی السیسی نے بیشتر اہم ترین اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں۔ سب سے بڑھ کراہم اورقابلِ غورنکتہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اقتدارکے خلاف کسی بھی نوعیت کی مہم یاتحریک کوناکام بنانے کااہتمام کررکھاہے۔آئینی ترامیم کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہیں۔انہیں کو سالِ رواں کے وسط کے بعدمصری کرنسی کی قدرمیں کمی اورمختلف معاملات میں زرِاعانت ختم کرنے کا اعلان کرناہے۔انہوں نے اپنی پوزیشن کوپہلے ہی مستحکم کرلیاہے تاکہ کسی بھی حلقے کی طرف سے کی جانے والی مخالفت زیادہ رنگ نہ لاسکے۔ان اقدامات سے مصرکے باشندوں کیلئے زندگی مزیدمشکل ہوجائے گی اورالسیسی سے اقتدارسے بیزار افرادکی تعدادمیں بھی اضافہ ہوگا۔
جنرل  السیسی چاہتے ہیں کہ یہ دونوں اقدامات ایسی حالت میں کریں کہ امریکہ کی طرف سے بھرپورحمایت کااظہارکیاجائے۔ٹرمپ کے دورِحکومت میں ایسا کرنا السیسی کیلئے زیادہ سودمند ہوگا۔ دونوں اقدامات کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ 
جولوگ مصرمیں فوج کے آمرانہ اقتدار کی تاریخ سے اچھی طرح واقف ہیں،وہ سوال کرسکتے ہیں کہ ان آئینی ترامیم سے فرق کیاپڑے گا۔حقیقت یہ ہے کہ موصوف جوکچھ کرناچاہتے ہیں وہ آئین کے پورے ڈھانچے کوشدیدمتاثرکرے گا۔ان آئینی ترامیم کے ذریعے السیسی اپنی پسند کے نظام حکومت کوباضابطہ تسلیم شدہ ادارے کی شکل دیناچاہتے ہیں۔یہ نظامِ حکومت مطلق العنانیت سے حسنی مبارک کے دورکے مقابلے میں بہت قریب ہے۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں