08:03 am
اسلام سے متصادم بل

اسلام سے متصادم بل

08:03 am

جیسے وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں کو بڑھانے کے حوالے سے پیش کئے جانے والے بل کا نوٹس لیا تھا‘ کاش کہ وہ سینٹ میں منظور کئے جانے والے اسلام سے متصادم بل کا بھی نوٹس لیتے کہ پیپلزپارٹی کی سینیٹر بشریٰ رحمان کے پیش کردہ جس بل میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی پر والدین کو 3سال قید ہوگی مگر
 
 اے بسا آرزو کہ خاک شد
گو کہ اسلام سے متصادم اس بل کے خلاف جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عبدالغفور  حیدری اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے وزنی دلائل دئیے اور کہا کہ شادی پر پابندی نہیں لگانی چاہیے‘ اس وقت 50لاکھ بچے یتیم ہیں‘ شادی قانونی راستہ ہے‘ شادی پر پابندی سے معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا‘ لیکن مولویوں کی حق بات پہلے کب کسی نے سنی کہ جو‘ اب سنی جاتی؟
ہاں البتہ اسلام سے متصادم اس بل کی محرک شیری رحمان‘ سینیٹر رضا ربانی نے ’’دلائل‘‘ کے مقابلے میں یہ ’’تاویل‘‘ پیش کرکے سب کو حیران کر دیا کہ ’’مراکو‘ ترکی اور یو اے ای میں شادی کی عمر 18سال مقرر ہے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے ان ’’نابغوں‘‘ نے جن ممالک کا نام لیا کوئی ان سے پوچھے کہ ان میں سے کون سا ملک ہے کہ جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا؟ اور اس کو قائم کرنے کے لئے دس لاکھ سے زائد عورتوں‘ بچوں‘ بوڑھوں اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کی تھیں؟ پاکستان نہ مراکو ہے اور نہ یو اے ای‘ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے‘ پاکستان کا اپنا ایک آئین ہے‘ اگر دنیا کے کسی ملک میں شادی کی عمر 18سال مقرر ہے لیکن شریعت مطہرہ میں اس کا ثبوت نہیں ملتا تو اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان کے لئے یہ بات لازم کیوں ہے کہ وہ اس ملک کے غیر شرعی قانون کی پیروی کرے؟
 یہ بات خوش آئند ہے کہ شادی کی عمر 18سال مقرر کرنے کے حوالے سے اسلام سے متصادم بل کی مخالفت حکومتی وزراء علی محمد خان اور نورالحق قادری نے بھی کی اور کہا کہ یہ بل اسلام کی بنیادوں کے خلاف ہے‘ اس لئے  مخالفت کرتے ہیں۔ البتہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی وہی بودی تاویں پیش کی کہ دبئی‘ ترکی اور مصر میں شادی 18سال کی عمر کی طرز موجودہے جبکہ ن لیگی شائستہ پرویز نے کہا کہ چند لوگ کیا اسلام کے ٹھیکیدار ہیں؟
جن لوگوں کو سیاست دانوں کے متحد نہ ہونے کا شکورہ رہتا ہے ...وہ بھی حیران ہیں کہ رضا ربانی‘ شیری رحمان‘ شائستہ پرویز‘ شیریں مزاری‘ ڈاکٹر رمیش کمار اسلام سے متصادم اس بل کے حوالے سے کیسے متفق اور متحد ہوئے؟ سونے پہ سہاگہ یہ کہ بلاول زرداری نے سینٹ میں کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی حمایت کرنے والوں کو مبارکباد بھی پیش کر دی۔ میرے ایک ہاتھ میں ’’قلم‘‘ ہے کہ جس سے میں کالم لکھ رہا ہوں...وگرنہ بلاول کی اس مبارکباد پر تالیاں بجانے کو دل کر رہا تھا‘ وزیراعظم عمران خان کا ایک طرف دعویٰ ہے  پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کا ‘ اور دوسری طرف ایوان بالا سینٹ میں ریاست مدینہ کے والی حضرت محمد کریمﷺ کے لائے ہوئے  دین اسلام کے خلاف بل پیش کئے جا رہے ہیں اور ایسے بلز کو پیش کرنے اور ان بلوں کی تائید کرنے والے مثالیں دیتے ہیں۔مراکو‘ ترکی اور یو اے ای کی اور پھر ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بعض ’’ارسطو‘‘ یہ فلسفہ جھاڑ رہے ہوتے ہیں کہ پاکستان کی اسمبلیوں سے تو اسلام سے متصادم کوئی بل یا قانون منظور ہو ہی نہیں سکتا‘ یہاں تو سب کچھ اسلام کے مطابق ہی  ہو رہا ہے۔
لادین عناصر کے یہی وہ انتہا پسندانہ روئیے ہیں کہ جن کی وجہ سے ملک میں شدت پسندی کو بڑھاوا ملتا ہے‘ اسلام کا ٹھیکیدار تو کوئی بھی نہیں ہے‘ البتہ اسلام کے چوکیدار کروڑوں ہیں...اگر لادینیت کے ٹھیکیدار‘ ایوانوں میں بیٹھ کر اکثریتی مسلمان آبادی کے جذبات کا مذاق اڑائیں گے‘ ایک اسلامی نظریاتی ملک میں اسلام سے متصادم بل پاس کروائیں گے تو پھر اس عمل کا عوامی ردعمل بھی ضرور سامنے آئے گا‘ جسے مراکو‘ عمان‘ ترکی یا یو اے ای اچھا لگتا ہے اسے چاہیے کہ وہ پاکستان کی جان چھوڑے اور وہاں چلا جائے‘ قائداعظم ؒکی قیادت میں مسلمانان برصغیر نے لاکھوں جانیں قربان کرکے پاکستان نظام اسلام کے نفاذ کے لئے بنایا تھا‘ سوال یہ ہے کہ مراکو‘ ترکی میں کوئی شیری رحمان‘ رضا ربانی یا شیریں مزاری کیوں نہیں ہے کہ وہاں کے ایوانوں میں بیٹھ کر جو ’’پاکستان‘‘کی مثال دے سکے؟وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ  اسلام سے متصادم بل کی حمایت کرنے والے پی ٹی آئی کے اراکین سینٹ سے اس حوالے سے سخت بازپرس کریں۔

 

تازہ ترین خبریں