08:04 am
مولانا مسعوداظہر دہشت گرد قرار! سنسنی خیزڈرامائی واقعات

مولانا مسعوداظہر دہشت گرد قرار! سنسنی خیزڈرامائی واقعات

08:04 am

٭مہمند ڈیم کی تعمیر کا افتتاح O  افغان سرحد پر 60 افغان دہشت گردوں کا حملہ، تین پاکستانی فوجی شہید، 7 زخمیO مولانا اظہر مسعود دہشت گرد قرارO پرویز مشرف کا پاکستان آنے سے انکار، عدالت برہمO انڈیا، اوڑیسہ:مائو باغیوں نے 15 بھارتی فوجی ہلاک کر دیئےOدہلی کی جامع مسجد میں جاپانی لڑکیوں کا رقص، سیاحوں پر پابندی O گورنر سندھ کی گلوکاری۔
 
٭وزیراعظم عمران خا ن اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے مہمند ڈیم کی تعمیر کا افتتاح کر دیا۔ 5 سال میں مکمل ہو گا، 800 میگا واٹ بجلی ملے گی، پشاور، چارسدہ اور دوسرے شہر سیلاب سے بچ جائیں گے۔ تفصیل خبروں کے صفحہ میں پڑھ لیجئے۔ وزیراعظم عمران خا ن نے ملک کے تیسرے بڑے ڈیم کی تعمیر کے آغاز کا اعزاز حاصل کر لیا۔ 45 سال قبل ایوب خان کے دور میں منگلا اور تربیلا ڈیم بنے۔ اس کے بعد شریف خاندان 30 برس، پیپلزپارٹی 16 برس برسر اقتدار رہی۔ دونوں پارٹیوں کے مالکان (!)نے سرکاری وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر بیرون ملک کھربوں کے اثاثے بنا لئے، کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا۔ نندی پور میں ایک بجلی گھر بنایا، ایک یونٹ پیدا نہ ہوا، اربوں غبن کر لئے، تجوریاں بھر گئیں،اب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے تو اقتدار میں آ کر انتہا کر دی۔ 9 ملکی اورغیر ملکی کمپنیوں کو اربوں روپے پیشگی ادا کر دیئے، ایک یونٹ بجلی پیدا نہ ہوئی مگر اپنی شاندار محل نما کوٹھیاں تعمیر کر لیں، رینٹل پاور کیس کی تفصیل بار بار چھپ چکی ہے۔ قدرت نے یہ اعزاز عمران خاں اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو دینا تھا۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار کے بارے میں جو کچھ بھی کہہ لیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مہمند ڈیم کی تعمیر انہی کی جدوجہد سے ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سخت محنت سے مہمند اور بھاشا ڈیموںکی تعمیر کے لئے دس ارب 30 کروڑ روپے جمع کر کے حکومت کے سپرد کر دیئے۔ اس حوالے سے جسٹس (ر) ثاقب نثار کا نام ہمیشہ یاد رہے گا۔
٭پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے فوج کی طرف سے ملک دشمن قرار دیئے جانے والی تنظیم پی ٹی ایم کی حمائت کر دی، اس سے اگلے روز 60 افغان دہشت گردوں نے پاک سرحد پر حملہ کر کے تین پاکستانی فوجی شہید اور سات زخمی کر دیئے۔ اس پر تا دم تحریر بلاول، اے این پی، محمود اچکزئی (مولانا فضل الرحمان بھی؟) کا مذمت کا کوئی بیان  سامنے نہیں آیا۔ آئے گا بھی نہیں، حسب منشا کام ہو رہا ہو تو مذمت کیوں؟ ملک کی خاطر تین فوجی جوان وطن کی حرمت پر نثار ہوگئے ۔
٭مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کا معاملہ عجیب ہے کہ سابق وزیرخارجہ حِنا ربانی کھر کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں خوش ہیں۔ بھارت کا انتہا پسند ہندو وزیراعظم نریندر مودی انتخابی جلسوں میں اقوام متحدہ کی طرف سے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کو عظیم فتح قرار دے رہا ہے، جب کہ پاکستان کی حکومت اس بات پر خوش ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسعود اظہر کو مقبوضہ کشمیر کے واقعات کا ذمہ دار قرار دینے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی ہے اور ان کی ’’دہشت گردی‘‘ کا سبب داعش اور القاعدہ سے وابستگی قرار دیا ہے۔ بھارتی دانش ور نریندر مودی کی مذمت کر رہے ہیں۔ مسعود اظہر کی زندگی بھرپور سرگرمیوں میں گزری ہے۔ یہ داستان بہت دلچسپ اور سنسنی خیز و ڈرامائی قسم کی ہے۔ کچھ مختصر باتیں۔
Oمولانا مسعود اظہر کی جدوجہد 25 برس قبل 1994ء سے شروع ہوئی جب وہ پرتگال کے پاسپورٹ پر بنگلہ دیش سے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں پہنچے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی زور پکڑ چکی تھی۔ وہ ان دنوں گم نام تھے اور بھارتی پولیس یا فوج کے لئے غیر اہم تھے۔ ان دنوں بھارتی ایجنسیاں مقبوضہ کشمیر کی تحریک کے نمایاں کردار سجاد افغانی کو تلاش کر رہی تھیں۔ مولانا مسعود اظہر اور سجاد افغانی اکٹھے ہو گئے۔ ایک روز دونوں اننت ناگ میں ایک رکشہ میںسوار کہیں جارہے تھے کہ ایک ناکے پر روک لئے گئے۔ دونوں نے بھاگنے کی کوشش کی مگر پکڑے گئے۔ یہاں سے مولانا اظہر مسعود کا نام پہلی بار منظرپر آیا۔ان دونوں کو طویل مدت کی قید سنا دی گئی اور کوٹ بالا وال جیل میں بند کر دیا گیا۔ تحریک آزادی کے کچھ کارکنوں نے باہر سے جیل کے اندر تک ایک سرنگ بنا کر انہیں نکالنا چاہا ، سرنگ بہت تنگ تھی اور یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ تقریباً پانچ سال بعد، 31 دسمبر 1999ء کو کشمیری حریت پسندوں نے کٹھمنڈو سے دہلی آنے والا انڈین ایئرلائنز کا ایک طیارہ اغوا کر کے قندھار پہنچا دیا اور مسافروں اور جہاز کی رہائی کے لئے مولانا مسعود اظہر، مشتاق احمد زرگر اور عمر شیخ کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ مطالبہ پورا نہ ہونے پر مسافروںکو ہلاک کرنے کی دھمکی دے دی۔ اس پر بھارتی حکومت سخت گھبرا گئی اور فوری طور پر ان افراد کو رہا کر دیا۔ ان تینوں کو لے کر بھارتی وزیرخارجہ جسونت سنگھ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے قندھار پہنچا اور انہیں حریت پسندوں کے حوالے کر دیا۔ اغوا شدہ طیارہ اور مسافر بھارت اور مولانا مسعود اظہر اور دونوں ساتھی پاکستان پہنچ گئے۔ بھارت اپنی اس ہزیمت کو کبھی نہیں بھول سکا۔ اس نے پچھلے تین برسوں میں مسلسل اقوام متحدہ سے رجوع کر کے مولانا مسعود کو دہشت گرد قرار دلانے کی کوشش کی جو چین کی وجہ سے ناکام ہوتی رہی۔ بالآخر پانچویں بار یہ کوشش اس طرح کامیاب ہوئی کہ مولانا اظہر کو داعش اور القاعدہ سے وابستگی کا ذمہ دار قرار دیا گیا مگر بھارت کی اصل کوشش کامیاب نہ ہو سکی کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی اور مولانا اظہر مسعودکو اس کا ذمہ دار قرار دیا جا سکے۔ اس بنا پر اہم بھارتی رہنما برہم ہو رہے ہیں کہ نریندر مودی کو اقوام متحدہ میں بری طرح شکست ہوئی ہے مگر وہ جشن منا رہا ہے! سابق وزیرخارجہ ’پی شِو شنکر‘ (12 مئی 1986ء سے 22 اکتوبر) نے مودی سے سوال کیا ہے کہ کس بات پر فخر کر رہے ہو؟ تم اقوام متحدہ سے کشمیر کے بارے میں کوئی بات منوا نہیں سکے۔ پاکستان میں ایک شخص کو گھر میں نظر بند کر دینے سے بھارت کو کیا فائدہ ہو گا؟ یہی بات دہلی کانگریس کے صدر رندیپ سنگھ نے کہی ہے (ٹائمز آف انڈیا) کہ بھارت کشمیر سے پاکستان اور مسعود اظہر کا تعلق ثابت نہیں کر سکا اس سے پاکستان خوش ہو رہا ہے مگر مودی جشن منا رہا ہے؟ کچھ دوسری باتیں:
٭دہلی کی جامع مسجد میں کچھ جاپانی سیاح لڑکیاں آئیں اور نماز والے بڑے ہال کے اندر رقص کرنے لگیں، اس کی تصویریں فیس بک پر بھی وائرل کر دیں۔ مسجد کی انتظامیہ نے سیاحوں کے مسجد کے اندرونی حصوں میں جانے پر پابندی لگا دی ہے۔
٭گورنر سندھ عمران اسماعیل گلوکار نکلے۔ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کنونشن میں مائیک پر آ کر گانا شروع کر دیا کہ ’’روک سکو تو روک لو‘‘۔ لاہور میں گلوکاروں کی تنظیم نے مسرت کا اظہار کیا ہے کہ ان کی برادری میں اہم اضافہ ہو گیا ہے۔
٭پرویز مشرف نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے۔ وکیل نے کہا ہے کہ اسے دل، گردے اور ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف لاحق ہے جبکہ ایک فریکچر بھی ہے۔ ان امراض کی بنا پر وہ سفر نہیں کر سکتا۔ یہ بیماریاں عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت کی ہیں۔ ان کا عارضی علاج ہوتا رہتا ہے۔ مگرانسان نارمل نہیں ہو پاتا۔ صاف بات ہے کہ اب واپسی نہیں ہو گی۔
٭کراچی: ایک یونیورسٹی کی تحقیق۔ رونے سے وزن کم ہوتا ہے اس لئے رونا ضروری ہے۔ تحقیق میں مشورہ دیا گیا ہے کہ محبوب کی جدائی میں رونے کے لئےشام کو سات بجے سےرات 10 بجے تک کا وقت بہتر ہے اس دوران ٹیلی ویژنوں پر ناکام محبت کے دردناک ڈرامہ نشر ہوتے ہیں۔بہت رونا آتا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں