09:41 am
یوم مسلح افوا ج‘ متحدہ عرب امارات

یوم مسلح افوا ج‘ متحدہ عرب امارات

09:41 am

منفرد شخصیت کا کردار ہی اصل میں وہ روح پرور مناظر تخلیق کرتا ہے جس سے قدیمی جمود ٹوٹنا‘ تحرک پیدا ہوتا اور عمل کا راستہ ایجاد ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حوالے سے باتیں ایسی لکھیں جس کا پاکستان میں عوام کو علم ہی نہیں تھا مثلاً  یہ کہ چھوٹا سا ملک اپنی تخلیق کے ساتھ ہی پڑوسی ملک کے ہاتھوں اپنے منفرد تین اہم ترین جزیروں ارطنب الکبریٰ‘ الطنب الصغریٰ‘ ابو موسیٰ پر قبضے کے سبب محروم ہوگیا تھا مگر الشیخ زید النہیان نے اپنے تین اہم ترین جزیروں پر پڑوسی ملک کے قبضے  کے باوجود بھی ہمت نہ ہاری اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا اتحاد بناکر مشرق وسطیٰ میں قوت و کشش کو یوں نمایاں کر دیا کہ آج معاصر دنیا  میں متحدہ عرب امارات کی الگ شناخت اور الگ پہچان ہے۔ میں چونکہ تاریخ ‘ ادبیات ‘ فلسفے سے وابستہ علم الکلام کا طالبعلم بھی ہوں لہٰذا ان حوالوں سے بھی ان منفرد شخصیات کا مطالعہ کرتا ہوں جن کے سبب نمایاں ہوتے جغرافیے کا وجود اپنی طرف مسلسل متوجہ کرتا رہتا ہے۔
 
متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی میرا  معاملہ کچھ ایسا ہی رہا ہے۔ صدر بش کے انتخابات میں جب امریکہ میں عرب سرمایہ کاروں کو ہدف تنقید بنایا گیا اور امارات کے امریکی بندرگاہوں میں حاصل شدہ ٹھیکے الزام کا نشانہ بنے تو میں نے عرب دولت مندوں کو متوجہ کیا کہ اب آپ کی دولت مغربی ممالک میں غیر محفوظ ہے لہٰذا اسے محفوظ سرزمینوں پر منتقل کر دیں۔ کئی اہم سفراء اسلام آباد میں امارات کے موجود رہے مگر جمود ہی رہا۔ اس جمود کو ٹوٹتے ہوئے میں نے اس وقت دیکھا جب عزت مآب الباشا کا آخری عرصہ تھا۔ عبدالعزیز النیادی دبلا پتلا سا ایک اماراتی مگر نہایت متحرک و فعال۔  پھر عزت مآب حمد عبید الزعابی سفیر تشریف لے آئے۔ کہاں امارات کے حوالے سے پہلے صرف جمود تھا اسلام آباد میں اور کہاں اچانک  الزعابی  ٹھہرے پانیوں میں بار بار حرکت پیدا کرتے رہنے کی روشنی پیدا کر دیتا ہے۔ 
امارات کا قومی دن ہو تو اس میں ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ موجود ہوتے ہیں تو زندگی کے تمام حلقوں کی نمائندگی بھی ہوتی ہے۔26 فروری کو الزعابی نے ایک بڑے ہوٹل میں انسانیت ‘ مذہبی رواداری‘ سماجیات و معاشرت سے وابستہ انسانی روادار معاملات پر مبنی بین الاقوامی کانفرنس کاانعقاد کیا۔ ابوظہبی سے امارات پالیسی اسٹڈیز کی نابغہ صدر ڈاکٹر ابتسام الکتبی بھی  اس کانفرنس میں مدعو تھی۔ اس خاتون کا انداز گفتگو‘ منطق و استدلال مجھے مبہوت کرتا رہا لہٰذا میں نے  ان کے افکار پر مشتمل کالم لکھے۔  وہ آج کل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں امارات کے معاملات دیکھ رہی ہیں ۔ یاد رہے کہ حال ہی میں مولانا مسعود اظہر کا الجھا ہوا معاملہ اسی سیکورٹی کونسل میں چین و پاکستان نے مل جل کر حل کیا ہے جس سے مسعود اظہر کا کشمیر کے معاملات سے تعلق بالکل ختم ہوگیا ہے۔
2 مئی کو اسلام آباد کے اسی بڑے ہوٹل میں متحدہ عرب امارات کے یوم مسلح افواج کی عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی  جس میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا   اور  اسلام آباد میں موجود تمام ممالک کے ملٹری اٹیچی شریک ہوئے۔ ’’پاکستان امارات دوستی‘‘ کا کیک کاٹا گیا۔
اس تقریب کی خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس میں پاکستان اور امارات کے قومی ترانے پیش کیے گئے تو امارات کی مسلح افواج کی تصویری کہانی پیش کی گئی۔ امارات کے بانی الشیخ زید النہیان ‘ صدر خلیفہ بن زید النہیان اور ولی عہد محمد بن النہیان کے افواج کے ہمراہ محبت و رفاقت کو پیش کیا گیا ۔ حمد عبید الزعابی کے ہمراہ ملٹری اٹیچی نیوی کے بریگیڈیئر سٹاف ماجد الصابری نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ہر مہمان کے ساتھ تصویر بنوائی۔ یوں الزعابی اور بریگیڈیئر ماجد نے ہر مہمان کو یہ تاثر دیا کہ ان سے امارت کا خصوصی ذاتی تعلق قائم ہو رہا ہے۔ یہ انفرادیت بھی الزعابی کی تخلیق ہے جبکہ نائب سفیر عبد العزیز النیادی ہر مہمان کے پاس جاکر محبت پیش کرتے رہے اور پھر عرب کھانوں پر مشتمل ڈنر۔ ساڑھے سات بجے سے ساڑھے نو بجے تک کی یہ تقریب سعید اتنی دلچسپ اور نایاب افعال پیش کرتی رہی کہ سامعین و حاضرین قہقہے لگاتے رہے اور خوش ہوتے رہے۔ اہل پاکستان کی طرف سے صدر امارات خلیفہ بن زید النہیان اور ولی عہد محمد بن زید النہیان کو ’’یوم افواج امارات‘‘ پر ہدیہ تبریک !
3 مئی کو وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی سے امارات کی ٹی پی ورلڈ کے سی ای او محمد المعلم اور نائب صدر عمر المہاری نے امارات کے سفیر حمد الزعابی کے ہمراہ ملاقات کرکے میری ٹائم شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہش پیش کی۔ یاد رہے عرب دنیا میں سے امارات خاص طور پر بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کرنے کی روایت کا بانی تصور کیا جاتا ہے جبکہ پاکستانی بندرگاہیں مشرق و مغرب کے تجارتی راستوں کو ملاتی ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں