09:42 am
اللہ کرے کہ ایسا ہوسکے

اللہ کرے کہ ایسا ہوسکے

09:42 am

 کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مسلمان پاکستانی ہیں۔ 1971ء کی خون ریز ہولی کے بعد مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن جانا کیا کوئی معمولی حادثہ تھا۔ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد خالص پاکستانیوں کا وہاں رہ جانا اور ان کے ساتھ ظلم و ستم کا برتاو ہونا کیا کبھی بھی سابقہ مغربی پاکستان کے لوگوں کو، حکمرانوں کو نظر نہیں آیا۔ اب جبکہ اس واقعے کو اڑتالیس برس بیت چکے ہیں آج بھی وہاں رہ جانے والے پاکستانیوں کی تیسری چوتھی نسل نے جنم لے لیا ہے اس کے باوجود بھی وہ بنگلہ دیشی حکمرانوں اور عوام کے مطابق پاکستانی ہی کہلائے جا رہے ہیں۔ آخر ان بے کس و مجبور لوگوں کا کیا قصور ہے صرف اتنا ہی کہ وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کی اولادیں ہیں۔ حالانکہ پنجاب کے وزیر اعظم غلام حیدر وائیں مرحوم نے تو ان مجبور بے کس لوگوں کے لیے بڑا اہتمام و انتظام کیا تھا کہ انہوں نے میاں چنوں میں تین سو ایکڑ پر محیط رقبہ پر ایک ہزار فلیٹ تیار کرائے تھے۔ رابطہ ٹرسٹ کے تحت چورانوے کروڑ کی رقم حبیب بینک میں جمع تھی لیکن غلام حیدر وائیں کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، اب تو وہ رقم 94 کروڑ سے بڑھ کر کئی ارب ہوچکی ہوگی اگر اسے بد عنوان نوکر شاہی، افسر شاہی نے رہنے دیا ہو۔ وہ ایک ہزار تیار فلیٹ میاں چنوں کے کیا ہوئے کسی کو کچھ خبر نہیں۔
 
بنگلہ دیشی حکومت ان لاکھوں زندہ افراد کے ساتھ مردوں سے بھی بد تر سلوک کر رہی ہے نوجوان ہوں یا ادھیڑ یا بوڑھے سب کے سب بے روزگار ان کو کہیں کوئی نوکری نہیں دیتا۔ انہیں کہیں کوئی کاروبار کرنے نہیں دیتا۔ ہاں کچھ لوگ اپنے ہی ان آفت زدہ کیمپوں میں میں چھوٹا موٹا کاروبار جو وہاں کے رہنے والوں کی ضروریات زندگی مہیا کرتا ہے کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں جنہیں بہاری کیمپ کہا جاتا ہے سارے کے سارے وہ خاندان ہیں جنہوں نے تعمیر پاکستان میں اپنے مال و جانوں کی قربانیاں دی تھیں۔ بھارت کے دور دراز علاقوں سے پاکستان کی محبت میں اپنا گھر بار زمین جائیداد چھوڑ چھاڑ کر مشرقی پاکستان میں آباد ہوئے تھے انہیں اس وقت بھی بہاری یعنی غیر بنگالی کہا گیا جو آج تک کہا جا رہا ہے جب کہ آج ستر برس بیتنے کے بعد تو ان کی کئی نسلیں مشرقی پاکستان، اب کے بنگلہ دیش میں پیدا ہوچکی ہیں۔ ایسے ہی مغربی پاکستان ہجرت کرکے قیام پاکستان کے وقت آنے والے آج بھی مہاجر کہلائے جا رہے ہیں یہاں آج کے موجودہ پاکستان میں مہاجر رہتے ہیں پختون رہتے ہیں بلوچ رہتے ہیں سندھی رہتے ہیں پنجابی رہتے ہیں، لیکن پاکستان میں کوئی پاکستانی نہیں رہتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں رہ جانے والے پاکستانیوں کے لیے پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور پختون خواہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ناان کیلئے کسی کے دلوں میں جگہ ہے
کہنے والے یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام میں اردو دشمنی کا بڑا اہم کردار تھا۔ سقوط ڈھاکہ سے قبل وہاں اردو کی ترویج کے لیے بہت کام ہوا۔ اردو ادب کے بڑے بڑے شاعر، ادیب، صحافیوں نے اردو ادب کے فروغ کے لیے بڑا کام کیا تھا۔ لیکن اب وہاں اردو نہ پڑھی جاتی ہے نہ لکھی جاتی ہے، صرف اور صرف بنگلہ زبان کا بول بالا ہے سرکاری سطح پر اور غیر سرکاری سطح پر غرض ہر سطح پر صرف بنگلہ ہی رائج ہے۔ اگر کہیں اردو کسی قدر بولی سمجھی جاتی ہے تو وہ ہی بہاری یا پاکستانی محب وطن لوگوں کے کیمپ وہ بھی صرف بولی کی حد تک لکھائی پڑھائی سے دور کا بھی واسطہ اردو کا نہیں رہا۔ اس نے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اردو زبان بنگلہ دیش میں صرف محصورین کے کیمپوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ بنگلہ دیش کے طول و عرض میں کہیں دور تک نہ اردو اخبار شائع ہوتا ہے نہ برقی ذرائع ابلاغ پر اردو کی کوئی جگہ ہے۔
سابق مشرقی پاکستان میں جناب نور الامین کے دور حکومت میں اس وقت کی گئی مردم شاری کے مطابق مشرقی پاکستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد نوے لاکھ تھی۔ روزنامہ آزاد کلکتہ کے مطابق پانچ لاکھ افراد بنگلہ دیشی کیمپوں میں محصور ہیں یہ رپورٹ 1972ء کی تھی جب کہ ایک بڑی تعداد نے انخلا کا راستہ اپنایا پاکستان چھ لاکھ افراد نے نقل مکانی کرکے پاکستان اور دوسرے ممالک جہاں انہیں پناہ مل سکی چلے گئے باقی اسی لاکھ افراد کا آج تک کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ بیشتر کو 1971ء کے فساد میں قتل کردیا گیا تھا۔ ہلاک شدگان کو مختلف مقامات پر دفن کردیا گیا تھا۔ ایک طویل عرصے بعد ان کی ہڈیاں نکال کر ان کو ایک جگہ جمع کرکے دفنا دیا گیا اور شہید مینار کا نام دے دیا گیا ہے جب کہ وہ تمام ہلاک شدگان جن کی ہڈیوں پر شہید مینار بنایا گیا ہے وہ سب کے سب اردو بولنے والوں کی ہڈیاں ہیں ان کا بنگالیوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان فسادات میں فوج کے ہاتھوں اور دہشت گرد بنگالیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے تمام کے تمام اردو بولنے والے ہی افراد تھے جو دو چکی کے پاٹوں میں پس کر رہ گئے تھے۔ اسی خوف کے باعث کمزور اور ناتواں یا مالی طور پر پس ماندہ افراد ہی مشرقی پاکستان سے ہجرت نہیں کرسکے تھے۔ جو آج تک پاکستان زندہ باد کی سزا جھیل رہے ہیں۔ اکثر محصورین کا کہنا ہے کہ ہمیں اتنی جگہ میسر نہیں ہے کہ ہم پیر پھیلاکر سو بھی سکیں، جانے ہمیں قبر بھی نصیب ہوتی ہے کہ نہیں۔
سابقہ مغربی پاکستان اور موجودہ پاکستان سے ہمارا تماشہ دیکھنے اور اپنے دکھ کا نام نہاد اظہار کرنے اکثر دانش ور صحافی حضرات اور کبھی کبھی سیاسی رہنما بھی آئے اور چلے گئے۔ ہم وہیں کے وہیں رہ رہے ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ، ایم کیو ایم نے بھی بڑے وعدے کیے لیکن سب ہوا میں اڑ کر رہ گئے۔ پاکستان میں کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی نہ کسی مسلمان ملک نے کبھی ہماری حالت پر ترس کھایا ، ہم ہیں اور ہماری مشکلات ہیں ہماری نئی نسل کے مطابق تو ہم بزرگوں نے ہی انہیں یہ دن دکھائے ورنہ اگر پاکستان کا کلمہ نہ پڑھا ہوتا توہم بھی بنگلہ دیشی ہی مانے جاتے، ہمیں بھی وہ سارے حقوق میسر آتے جو ایک عام بنگلہ دیشی کو حاصل ہیں۔ حکمران وقت عمران خان جہاں اربوں کھربوں کی بدعنوانی بے ایمانی کا کھوج لگا رہے ہیں ذرا ان بنگلہ دیشی مسلمانوں کے معاملات پر بھی نظر کرم کریں کہ ان کے حبیب بینک میں جمع شدہ فنڈ کیا ہوئے۔ ان کے لیے میاں چنوں میں تعمیر کردہ تین سو ایکڑ پر فلیٹوں کا کیا بنا۔ اگر کسی طور ممکن ہو تو تحریک انصاف کے وعدے کے مطابق بنائے جانے والے پچاس لاکھ فلیٹوں میں سے کچھ فلیٹ ان بے سر زمین بے آسرا پاکستانیوں کے لیے مختص کرکے انہیں پاکستان لے آیا جائے۔ اس کا اجر پاکستانی عوام دے نہ دیں  لیکن اللہ تبارک و تعالی ضرور دے گا۔ ان شااللہ۔ اللہ کرے کہ ایسا ہوسکے اصل پاکستانیوں کو پاکستان کی سر زمین پر آباد ہونا نصیب ہوسکے۔

 

تازہ ترین خبریں