09:46 am
آزمائش کی دو صورتیں

آزمائش کی دو صورتیں

09:46 am

گمراہی کی انتہائی سوچ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ملا میر ی اپنی محنت، اپنی صلاحیت، اپنی قابلیت اور اپنی پلاننگ کا نتیجہ ہے۔میرے اندر وہ صفات تھیں اور میں اس لائق تھا کہ مجھے اس دنیا میں عزت ملتی۔یہ قارونیت ہے۔جب قارون سے کہا گیا تھا کہ تمہیں رب نے اتنا کچھ دیا ہے تو اس میں سے خرچ کرو اور اسے توشۂ آخرت بنائو تو اس نے صاف کہا کہ یہ میرا مال ہے اور میری صلاحیت، قابلیت،لیاقت اور پلاننگ کے نتیجے میں ملا ہے۔ایک تو فطری گمراہی کی یہ انتہا ہے۔
 
دوسری سطح یہ ہے کہ اگر مجھے دنیا میں مال ودولت کی فراوانی ملی ہے تو یہ اللہ کی عطا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ مجھ سے خوش ہے اور اگر نہیں ملا ،مشکلات ہیں ، سختی و تنگی ہے تو میرے رب نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا بلکہ ظلم کیا ہے۔اس نے مجھ کو رسوا کردیا ہے۔(استغفراللہ) دیکھئے وہ مان رہا ہے کہ کرنے والا تو بہرحال وہی اللہ ہے ۔حالات جو بھی آتے ہیں اسی کی طرف سے آتے ہیں۔بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سوچ میں کوئی خامی نہیں ہے ۔سورۃ الفجر میں اللہ تعالیٰ نے شکوہ کے انداز میں یہ بات رکھی ہے کہ انسان اصل حقیقت کو نہیں سمجھ رہا ہے۔ذرا الفاظ کی طرف توجہ کیجئے! پھر بات سمجھ میں آئے گی۔فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ اس کی آزمائش کرتا ہے اسے کچھ دے کر یعنی دنیا میں اگر عزت ملی اور نعمتوں کی فراوانی عطا ہوئی تو اصل میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ رب کی طرف سے آزمائش ہے۔اس نے حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس پر جو نعمتوں کی بارش ہے ، وہ اس کی عزت افزائی ہے یا اسے اس کا استحقاق ملا ہے تو یہ سوچ غلط ہے۔یہاں اگر اسے کچھ ملا ہے تو یہ صرف آزمائش کے لئے ہے۔یہ دنیا ہے ہی دارالامتحان ، سختی ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غمی ، یہاں جو بھی حالات آتے ہیں سب اس کے لئے امتحان کے لئے ہیں۔
اسی طریقے سے اگر اللہ تعالیٰ نے کچھ چھین لیا یا ناپ تول کردیا ، فراوانی اور خوشحالی نہیں ہے تو رب کی طرف سے یہ رسوائی نہیں بلکہ یہ بھی آزمائش کی ایک صورت ہے۔اس حقیقت کو اگر نہیں پہچانا تو ایک طرح کی فکری کجی میں مبتلا ہوگئے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جو بھی حالات ہیں صرف آزمائش کے لئے ہیں۔اسی لئے آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ایک مومن بندے کا معاملہ عجیب ہے۔دونوں حالات میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اس پر انعامات کی بارش کرے تو وہ رب کا شکر ادا کرتا ہے اور اجر کمارہا ہے۔اگر حالات سخت ہیں، تنگی ہے تو وہ صبر سے کام لیتا ہے اور اجر کا مستحق ہے۔ صبر یہ نہیں کہ مجبوری ہے اس لئے ان حالات کو جیسے تیسے برداشت کرنا ہے۔یہ صبر نہیں ہے بلکہ وہ اس حقیقت کو پہچانتا ہے کہ یہ بھی میرے رب کی طرف سے امتحان ہے اور میں اپنے رب کی طرف سے ڈالے ہوئے اس امتحان میں اس پر راضی ہوں اور میرا سہارا تو بس اللہ ہی کی ذات ہے۔اگر یہ کیفیت ہے تو بندئہ مومن دونوں صورتوں میں مکمل اجر کمارہا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے سخت تر آزمائش کون سی ہے؟وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے واقعتاً علم حقائق عطا کیا ہے ، معرفت عطا کی ہے، جو مقربین ہیں،ان کا انداز تو یہ تھا کہ انہیں وہ آزمائش زیادہ سخت اور کٹھن لگتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتوں اورانعامات کی بارش ہو کہ ان کا حق ہم ادا نہیں کرسکیں گے۔امام احمد ابن حنبلؒ کے بارے میں تاریخ نگاروں نے لکھا ہے کہ حلق قرآن کے مسئلے پر انہیں نہ صرف قید کیا گیا بلکہ کوڑے بھی برسائے گئے اور اتنا تشدد کیا گیا کہ ہاتھی کو بھی وہ مار ماری جائے تو بلبلا اٹھے۔لیکن زبان پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا۔بلکہ یہ الفاظ ان کی زبان پر آتے تھے کہ میری جنت میرے ساتھ ہے۔جو کچھ بھی ہورہا ہے میں رب کی رضا پر راضی ہوں اور میرے باطن میں سکون و اطمینان کی جو جنت آباد ہے وہ کوئی مجھ سے چھین نہیں سکتا۔انہیں معلوم تھا کہ صبر کا کیا اجر ہے۔اللہ کی نگاہ میں اس کا کیا مقام ہے۔انہی کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ خلیفہ بدلا اور دوسرا خلیفہ آیا تو اس نے آپ کے مقام و مرتبے کو پہچانتے ہوئے آپ کے پاس اشرفیوں کی تھیلی بھیجی لیکن آپ نے وہ واپس کردی اور روپڑے کہ اے اللہ!میں اس امتحان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
اس حوالے سے حضورﷺ کا یہ فرمان بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ جو (مال) کم ہو لیکن کفایت کرجائے بہترہے اس (مال) سے جو زیادہ ہو اور غافل کردے ۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے اس کا بھی حساب ہوگاجیسا کہ سورہ تکاثر میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ دنیا میں اللہ نے جو نعمتیں تمہیں دی ہیں ان میں سے ایک ایک کے بارے میں اس دن سوال کیا جائے گا۔چنانچہ جسے کم ملا ہے اس کے لئے حساب آسان ہوگا۔دنیا کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دارالامتحان ہے۔زیادہ ملنے والا یہ نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا خاص فضل ہوا ہے بلکہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور دعا کرے کہ پروردگار!اس امتحان کو میرے لئے آسان بنادے ۔اگر وہ یہ حقیقت بھول گیا کہ مجھے جو کچھ ملا ہے بغرض امتحان ملا ہے تو پھر جو کچھ ہوگا وہ بھی قرآن نے واضح فرمادیا ہے کہ تمہیں غافل کئے رکھا بہتات کی طلب نے یہاں تک کہ تم قبروں تک جاپہنچے۔
یہ ہے وہ حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے شکوے کے انداز میں یہاں بیان کی کہ انسان کا عجیب معاملہ ہے کہ جب اس کا رب اس کوجانچتا اور پرکھتا ہے دنیا میں عزت دے کر اور نعمتوں کی بارش برساکر تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ پر بڑا اکرام کیا۔یہ رب کا فضل ہے اور جب اس کو اللہ آزماتا ہے دوسری صورت میں کہ اس کا رزق تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے رسوا کردیا۔حالانکہ یہ بھی امتحان ہے اور وہ بھی امتحان تھا۔نہ یہاں کی رسوائی کوئی رسوائی ہے اور نہ یہاں کی عزت کوئی عزت لے،نہ یہاں کی کامیابی کوئی کامیابی ہے اور نہ یہاں کی ناکامی کوئی ناکامی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین  یا رب العالمین۔ 

 

تازہ ترین خبریں