09:47 am
آئی ایم ایف کا بھرپور حملہ

آئی ایم ایف کا بھرپور حملہ

09:47 am

٭آئی ایم ایف کا بھرپور حملہ، نیا پٹرول بم، وزیرخزانہ کے بعد سٹیٹ بنک اور ایف بی آر کے سربراہ فارغO گورنر پنجاب نے بلدیاتی قانون نافذ کر دیاO سندھ، محکمہ خوراک میں 42 ارب سے زیادہ کے گھپلےO پرویز الٰہی بھی لندن میں، ذاتی کاروبار کی نگرانیO جرمنی، پاکستانی سفیر نے اقبال میوزیم بندکر دیاO بجلی مزید تین روپے یونٹ مہنگی کی جائے۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ O نوازشریف، جیل جانے میں دو دن باقیO ینگ ڈاکٹروں کی نئی خَرمَست ہڑتال، مریض رُل گئےO ن لیگ۔ عہدوں کی تقسیم،16 نائب صدرO پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے پر پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی برہم! Oسندھ، 12 ویں کا امتحانی پرچہ بھی آئوٹ۔
 
٭آئی ایم ایف نے اسلام آباد میں قدم رکھتے ہی ملک کی معیشت پر بھرپور حملہ کر دیا۔ پٹرول 9 روپے 11 پیسے مہنگا (108 روپے لٹر)، سٹیٹ بینک کا گورنر طارق باجوہ ایف بی آرکا چیئرمین جہاں زیب خان فارغ، بجلی مزید تین روپے مہنگی کرنے کا مطالبہ! آئی ایم ایف نے پہلے وزیرخزانہ اسد عمر کو نکلوایا اب ملک کے اہم ترین مالیاتی اداروں کے سربراہوں کو فارغ کرا کے عملی طور پر ان اداروں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ حکومت بے بسی کے عالم میں یہ کچھ دیکھ رہی ہے۔ بجٹ سرپر آ رہا ہے، اور اہم ترین مالیاتی عہدے خالی کئے جا رہے ہیں۔ نئے عہدیدار آنے میں وقت لگے گا۔ بجٹ کیسے تیار ہو گا؟ آئی ایم ایف خونخوارچمگادڑ کی طرح سر پر آ کر بیٹھ گئی ہے۔ ابھی مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔ سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے سربراہوں پر اعتراض ہے کہ ٹیکس کی مطلوبہ مقدارحاصل نہیں ہو سکی اور یہ کہ ایف بی آر نے نئی ایمنسٹی سکیم پر اعتراض کیوں کیا؟ جس طرح جنگ کے دوران کمانڈر تبدیل نہیں کئے جاتے، اسی طرح بجٹ کے آنے سے پہلے بڑے عہدیدار تبدیل نہیں کئے جاتے۔مگر ہمارے ہاں اقتدار میں نئے نئے آنے والوں کے  لئے بڑے افسروں کو ذرا ذرا سی بات پر معطل اور تبدیل کرنے کا شوق مستقل مشغلے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یہ کام پنجاب میں باقاعدہ فٹ بال جیسا کھیل بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ روزانہ صبح اٹھ کر چند بڑے افسروں کو معطل کرنے کے عمل کو ناشتے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اب تک درجنوں سیکرٹریوں، کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور دوسرے بڑے افسروں کی اکھاڑپچھاڑ ہو چکی ہے۔ ان کی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت تو باقاعدہ وزیراعظم خود کرتے ہیں، وزیراعلیٰ کا کام صرف افسروںکی معطلی کے احکام جاری کرنا رہ گیا ہے۔ اس سے پوری صوبائی انتظامیہ غیر فعال ہو گئی ہے۔ افسر لوگ بستر اٹھائے ادھر ادھر در بدر ہو رہے ہیں، سیکرٹریٹ اور محکموںمیں سارا کام ٹھپ ہو گیا ہے اور یہ ساری ہڑبونگ بجٹ آنے سے صرف چند روز پہلے ہو رہی ہے۔ میں نے طویل زندگی میں کبھی ایسی افراتفری اور ہڑبونگ نہیں دیکھی۔
٭شریف خاندان کی سیاست اور قیادت جس طرح مختصر عرصے میں عبرت ناک انداز میں کالعدم ہوئی ہے اس کی بہت سی مثالیں پہلے بھی موجود ہیں۔ خواجہ ناظم الدین وزیراعظم کی حیثیت سے گورنر جنرل غلام محمد سے ملنے گئے۔ گورنر جنرل کا پہلا جملہ تھا  ’’آئی ڈِسمس یُو!‘‘ (میں تمہیں برخاست کرتا ہوں)۔ خواجہ ناظم الدین اتنے حواس باختہ ہوئے کہ اپنی ٹوپی وہیں میز پر بُھول آئے۔ باہر نکلے تو وزیراعظم کی گاڑی سے جھنڈا اتر چکا تھا۔ خواجہ صاحب کے پاس کوئی ذاتی گھر، جیب میں کوئی پیسہ نہیں تھا۔ وزیراعظم ہائوس ان پر بند ہو چکا تھا۔ ایک پولٹری فارم کا مالک ان کا دوست تھا، اس کے گھرجا کر لیٹ گئے! مگر پھر خود غلام محمد کے ساتھ کیا ہوا! نیم بے ہوشی کے عالم میں تھا۔ اس سے چند روز کی’چھٹی‘ کی درخواست پر دستخط کرائے گئے جو دراصل گورنر جنرل کے عہدے سے استعفا تھا۔ اس کے پاس بھی کراچی میں کوئی گھر نہیں تھا۔ اسے کلفٹن پر اس کی بیٹی کے پانچ سات مرلے کے گھر میں پہنچا دیا گیا جہاں وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک چارپائی پر لیٹ گیا۔ یہ صرف دو افراد کا قصہ ہے۔ بہت سی داستانیں ہیں، بڑی کتاب بن سکتی ہے۔ ایک فرق یہ ہے کہ یہ دونوں افراد انتہائی دیانت دار تھے، اور اب! لاہور میں اربوںکی جائیداد کے باوجود ایک بھائی جیل میں، دوسرا ضمانت پر لندن بھاگ گیا۔ واپسی غیر یقینی! واپس آئے بھی تو ضمانت کسی وقت بھی منسوخ ہو سکتی ہے! پھر؟ عبرت، عبرت اور عبرت! سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا!
باقی رہ گئی ن لیگ؟ مسلم لیگ کے نام سے شروع ہوئی ن لیگ (نواز لیگ) کے نام پر عروج پر پہنچی اور اسی نام سے ’غفرلہ‘ ہو گئی۔ میاں شہباز شریف کے پاس کہاں چار بڑے عہدے اور اب! اخبارات میں سب کچھ موجود ہے۔ پیپلزپارٹی کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔ ایک برخوردار وقفے وقفے سے نعرہ لگا دیتا ہے ’’پدرم سلطان بود!‘‘ ن لیگ کا جو سرعام حشر نَشر ہو رہا ہے وہ بھی عبرت ناک ہے۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میںعہدوں کی تقسیم پر آپس میں لڑ رہے ہیں، نامنظور! نامنظور! کے نعرے لگ رہے ہیں۔ ’’سیّاں بھیّے گھر نہیں، ہمیں کسی کا ڈر نہیں!‘‘
٭گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے نئے بلدیاتی بل پر دستخط کر دیئے اور یہ قانون بن کر نافذ ہو گیا۔ اس کے معنی ہیں کہ اب تک کا سارا نظام کالعدم، تمام بلدیاتی عہدے ختم! نئی بلدیات کے انتخابات کم از کم چھ ماہ میں ہوں گے، اس وقت تک سرکاری افسران اداروں کا انتظام سنبھالیں گے۔ اہم بات یہ کہ ڈسٹرکٹ کونسلیں مستقل طور پر ختم ہو گئیں۔ یہ کونسلیں اسمبلیوں کے ارکان کا دوسرا گھر ہوا کرتی تھیں۔ بعض افراد اسمبلی میں جانے کی بجائے ضلعی ناظم کے عہدے کو ترجیح دیتے تھے۔ مقامی طور پر چودھراہٹ کا عالم ہی کچھ اور تھا۔ یہ سارا عالم خواب ہو گیا۔
٭کچھ عرصہ قبل کراچی میں چینی قونصل خانے پر دہشت گردی روکنے پر پولیس کا ایک اہلکار شہید ہو گیا۔ دو روز قبل اس کی والدہ کو خاص ایوارڈ دینے کے لئے بلایا گیا۔ وہ سادہ سی غریب خاتون آئی۔ اسے کرسی کی بجائے ننگی زمین پر بٹھا دیا گیا۔ کھانے کا وقت ہو رہا تھا  ،وہیں ننگی زمین پر اس کے سامنے ایک پلیٹ سے سالن اور دوسری پلیٹ پر روٹیاں رکھ دی گئیں۔ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے کھانا کھایا۔ اسکی اس عالم میں اخبارات اور فیس بک پر تصویر وائرل ہو گئی۔ میں اسے دیکھ کر لرز گیا۔ ایک ’اسلامی‘ ملک (اب مدینہ ریاست!) میں ایک غریب خاتون کی یہ تذلیل! استغفار! ایک جانباز عظیم پاکستانی شہید اور اس کے گھرانے کی یہ توقیر؟ کون سے سخت الفاظ استعمال کئے جائیں ان شقی القلب، انسان دشمن پولیس افسروں کے لئے جنہیں ایک شہید کی والدہ کی تدلیل کرتے وقت کسی شرم، غیرت، حیا کا احساس نہ ہوا!
٭ایک قاری نے پوچھا ہے کہ آٹھ ہفتے قبل وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ تین ہفتے میں ایک خوش خبری سنائوں گا؟ وہ خوش خبری کیا تھی؟ کہاں گئی؟۔ اس کا جواب کیا دیا جائے؟ مگر! مگر یہ جو بجلی، گیس، پٹرول کی شدید ترین مہنگائی کا خوفناک طوفان آیا ہے،اسے کون سی خبر کا نام دوں۔ لوگ سمجھے تھے کہ تین ہفتے بعد پاکستان کے سمندر میں تیل نکل آئے گا! سمندر سے تو تیل نکلتا ہے یا نہیں، عوام کا تیل نکالا جا رہاہے۔ ابھی آئی ایم ایف والے ادھر ہی بیٹھے ہیں۔ خدا خیر کرے!!
٭ایک محترم سینئر صحافی نے عجیب انکشاف کیا ہے۔وہ جرمنی گئے خاص طور پر دریائے نیرک کے کنارے وہ گھر دیکھنے گئے جہاں علامہ اقبال رہا کرتے تھے۔ محترم صحافی لکھتے ہیں کہ علامہ کے اس مکان کو ایک سابق حکومت نے خرید کر اقبال میوزیم کی شکل دے دی تھی مگر جرمنی میں پاکستان کے موجودہ سفیر نے اس میوزیم کو بند کر کے اسے فروخت کر دیا ہے۔ اب وہاں کچھ مقامی لوگ رہ رہے ہیں! اس پر کون سا نوحہ لکھوں؟
 

تازہ ترین خبریں