06:09 am
اسلامی سزائوں کا نفاذ معاشرے کی بہتری کا سبب

اسلامی سزائوں کا نفاذ معاشرے کی بہتری کا سبب

06:09 am

شریفوں‘ زرداریوں اور خانوں پر کوئی کتنا لکھے؟ موضوعات بے شمار ہیں اور اسلام تو خود علم و عمل‘ طہارت و پاکیزگی کا ایسا گہرا سمندر ہے کہ جس کے اندر دنیا کے سارے سمندر سما جائیں‘
شریفوں‘ زرداریوں اور خانوں پر کوئی کتنا لکھے؟ موضوعات بے شمار ہیں اور اسلام تو خود علم و عمل‘ طہارت و پاکیزگی کا ایسا گہرا سمندر ہے کہ جس کے اندر دنیا کے سارے سمندر سما جائیں‘ شاید اسی لئے اس خاکسار کا ’’قلم‘‘ ہر کالم میں اسلام کے سایہ عاطفت میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔
دانش فروشوں کا وہ گروہ کہ جو مذہب کو ہر انسان کا ذاتی معاملہ قرار دیتا ہے‘ خود اس کی اپنی منافقت کا حال یہ ہے کہ ان کی زبانیں دینی اداروں اور دینداروں کو طعنے اور کوسنے دیتے  ہوئے نہیں تھکتیں‘ وہ امریکہ اور یورپ سے ڈالر اور حمایت لے کر پاکستانی مسلمانوں پر اپنے باطل نظریات مسلط کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
کبھی سینٹ اور کبھی سندھ اسمبلی میں جان بوجھ کر اسلام سے متصادم قانون سازی کی کوششیں کی جاتی ہیں‘ سیدھی سی بات ہے کہ اگر کسی کا مقصود یہ ہے کہ معاشرے سے جرائم کا خاتمہ کیا جائے‘ کوئی اپنی بچی کی کسی وڈیرے سے پیسے لے کر کم عمری میں شادی نہ کرے‘ سرمایہ دار‘ جاگیردار اپنی بچیوں اور بہنوں کی نعوذ باللہ قرآن سے شادیاں کرنا بند کر دیں...بے گناہ خواتین و ڈیروں اور سرداروں کے اوطاق کی باندیاں نہ بنیں‘ بچیوں کو ’’ونی‘‘ کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے...معصوم بچوں اور بچیوں کو اغواء کرکے انہیں زیادتیوں کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ بازاروں‘ دفتروں اور دوسرے پبلک مقامات پر عورتوں کو ہراساں نہ کیا جائے‘ چوری‘ ڈکیتی ‘ کم تولنا‘ کم ماپنا‘ چیزوں میں ملاوٹ کرنا یہ سب بند ہو جائے تو پھر پاکستان میں اسلامی سزائوں کو نافذ کیا جائے۔
میں یہ بات پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ اسلامی سزائوں کے عملی نفاذ کے بعد جرائم میں اچھی خاصی کمی واقع ہوجائے گی۔’’مذہب‘‘ کو انسان کا ذاتی معاملہ قرار دینے والے لادین عناصر کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ آئین پاکستان اور اسلام سے متصادم قانون سازی کرنے کی کوشش کریں؟
فواد چوہدری وزارت اطلاعات  سنبھالنے میں نااہل ثابت ہوئے تو انہیں وزیر سائنس بنا دیا گیا وہ 18سال سے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے والے تحریک انصاف کے وزراء اور ارکان اسمبلی پر پھٹ پڑے‘اور کہا کہ ’’جس معاشرے میں 50فیصد ارکان اسمبلی اور وزراء کم عمری کی شادی کے حق میں ہوں‘اس معاشرے سے کیا امید لگائی جاسکتی ہے۔‘‘؟
آئین پاکستان کے آرٹیکل 227کے مطابق ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی‘ آئینی ماہرین تقریباً اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں لڑکی کی بلوغت کی عمر تیرہ سال جبکہ لڑکے کی پندرہ سولہ سال ہے...اور اسلام نے عمر کی بجائے شادی کے لئے بلوغت کی شرط رکھی ہے‘ اگر لڑکی اور لڑکا بلوغت کو پہنچ چکے ہوں تو وہ شادی  کر سکتے ہیں‘ لیکن ہندو رکن اسمبلی رمیش کمار  اپنے دیگر حواریوں کے ساتھ مل کر لڑکی اور لڑکے کی شادی  کی عمر کو 18سال کے ساتھ مشروط کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ خواتین کے حقوق کا نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈے کو منوانے کا ہے‘ فواد اینڈ کمپنی اور  غامدی سکول آف تھاٹ کے دانش فروش سینٹ میں اسلام سے متصادم بل کی مخالفت کرنے والوں پر غصہ جھاڑنے کی بجائے اس بات کا جواب دیں کہ دین کے بارے میں معلومات نہ رکھنے والوں کو یہ حق کیسے حاصل ہے کہ وہ دینی معاملات پر گفتگو کرنے کا شوق فرمائیں؟
پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ ہی یہ ہے کہ جس کا جو کام نہیں ہے‘ وہ بڑی ڈھٹائی سے وہی کام کر رہا ہے‘ مثلاً جیسے فواد چوہدری کا وزیر سائنس وٹیکنالوجی  بننا‘ اب کیا یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی نہیں ہے کہ 98فیصد مسلمان آبادی والے ملک کو فواد چوہدری رمیش کمار‘ شیری رحمان یا شیریں مزاری یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیاں کس عمر میں کرنی چاہئیں؟
 کوئی ان سے پوچھے کہ یہ دین اسلام کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور کتنا جانتے ہیں؟ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی میں بگاڑ پیدا کرنے والے یہی لوگ ہیں کہ جو خود تو دین کی الف‘ ب سے واقف نہیں ہیں...مگر انہیں مسلمانوں کے فیصلے کرنے کا بہت شوق ہے‘ اصل میں غیر ملکی ایجنڈا یہی ہے کہ پاکستان میں شادیاں مشکل بنا دی جائیں تاکہ نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو کر ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتے چلے جائیں۔
اگر کوئی ماں باپ اپنی بچی 7,6 سال یا 10سال یعنی کم سنی کی عمر میں کسی وڈیرے یا سردار سے پیسے لے کر زبردستی شادی کرتا ہے تو یہ شادی کم ظلم زیادہ ہے...اس ظلم کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ بالکل اسی طرح جیسے معصوم  زینب اور اس قسم کی ہزاروں بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی‘ ہمارے معاشرے میں ہزاروں خواتین ایسی ہیں کہ جن کی عمریں 40,30سال سے بھی متجاوز ہوچکی ہیں مگر جہیز  کی لعنت کے سبب وہ شادی سے محروم ہیں...ہزاروں خواتین ایسی ہیں کہ جو طلاق کے سبب  یا بیوگی کی وجہ سے گھروں  میں بیٹھی ہوئی ہیں‘ ہزاروں بچیاں ایسی ہیں کہ جن کو جان بوجھ کر وراثت سے محروم رکھا جارہا ہے...ہزاروں خواتین ایسی ہیں کہ جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے بڑے گھروں کے برتن مانجھنے پر مجبور ہیں۔
عام سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں  کو چھوڑئیے جنہوں نے سینٹ میں اسلام سے متصادم بل پیش کیا اور جو اس کے حمایتی بنے۔ ذرا ان کے گھروں کو ہی دیکھ لیا جائے تو ان کے ہاں بھی ایسی مجبور خواتین ان کے گھروںکی خدمت کرتی ہوئی نظر آئیں گی‘ کیا کبھی رمیش کمار‘ فواد چوہدری‘ رضا ربانی یا شیری نے ان بے بس‘ مجبور‘ لاچار اور غریب خواتین کے حق میں قانون سازی کی ضرورت محسوس کی؟ اگر نہیں تو کیوں؟ یاد رکھیے! اسلام  سے متصادم قانون سازی کرکے جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا‘ بلکہ ایسے قوانین جرائم میں اضافے کا سبب بنتے ہیں آج اگر پاکستان میں اسلامی سزائوں پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے تو معاشرہ میں سدھار پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔

 

تازہ ترین خبریں