06:10 am
مات ہونے تک

مات ہونے تک

06:10 am

ایک لمحے کو شریف اور زرداری خاندان کو بھول جائیں اور سوچیں تحریک انصاف کے دامن میں پھر اس کے سوا کیا ہے؟ عمران خان حکومت کے پاس اب بھی ڈھیر سارے خواب اور خواہشات تو ہیں مگر تعبیر و حکمت عملی ایک بھی نہیں ہے۔
ایک لمحے کو شریف اور زرداری خاندان کو بھول جائیں اور سوچیں تحریک انصاف کے دامن میں پھر اس کے سوا کیا ہے؟ عمران خان حکومت کے پاس اب بھی ڈھیر سارے خواب اور خواہشات تو ہیں مگر تعبیر و حکمت عملی ایک بھی نہیں ہے۔ نو ماہ پہلے عوام نے تحریک انصاف کو حکومت، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو اپوزیشن کے طور منتخب کیا۔ حکومت کو تسلیم نہ کرنا بھی اتنا ہی غیرآئینی ہے جتنا اپوزیشن کے عوامی مینڈیٹ کو نہ ماننا۔ کہیں یک جماعتی تجربہ، دو جماعتی سے زیادہ خوفناک نہ ثابت ہو۔ یقین جانیئے حکومت کو اپوزیشن سے نہیں، اصل خطرہ تحریک انصاف سے ہے۔
پاکستان کی جمہوری تاریخ آمریت گزیدہ رہی مگر سیاستدان آج بھی سبق سیکھنے پر تیار نہیں، ہر چند کہ پرویز مشرف کے سیاسی انجام کے بعد فوج کبھی براہ راست حکومت نہیں کریگی مگر پھر بھی کیسا پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں والی صورتحال تو ہے۔ بہرحال جناب سیاسی منظر نامہ ہمیشہ کی طرح دھواں دھواں ہے، سیاسی شطرنج کی بساط پر مہرے ادھر سے ادھر ہو رہے ہیں، ہر لمحہ ہر پل تبدیلی، دونوں جماعتوں کیلئے مائنس ون فارمولے کا دبائو بڑھتا جا رہا ہے، یہ تلوار جانے کب حکمراں جماعت تک پہنچے کسی کو بھی پتہ نہیں، کچھ نہیں تو 62۔63 سے فرشتے بچیں تو بچیں بندہ بشر تو ہرگز نہیں بچ سکتا۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو المیہ یہ رہا ہے کہ جمہوریت کے تمام تر دعوئوں کے باوجود جماعتی سیاست شخصیات اور خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ کس کی مجال ہے کہ ن لیگ میں شریف خاندان اور پیپلز پارٹی میں زرداری کے خلاف بات کر سکے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کا واحد محور و مرکز عمران خان ہیں، کوئی آواز انکے خلاف نہیں اٹھ سکتی۔ ان میں سے کسی جماعت میں شفاف انتخابات کی روایت نہیں، جماعتوں کے اندرونی غیر جمہوری رویوں کا نتیجہ یہ ہے کہ متبادل قیادت پیدا نہیں ہوتی بالکل ایسے ہی جیسے گھنے بوڑھے برگد تلے کوئی اور پودا پنپ نہیں سکتا۔ ن لیگ آج اسی المیے کا شکار ہے، پیپلز پارٹی کے جیالے اعزازی ہی سہی مگر کسی غیر بھٹو کو برداشت نہیں کرینگے۔ تحریک انصاف میں موروثیت نہیں مگر عمران خان بیک جنبش و قلم جو چاہیں تبدیلی کریں، کس کی مجال ہے کہ مخالفت کر سکے۔ جماعت اسلامی کے سوا کسی بھی جماعت کو دیکھ لیں، جماعتی انتخابات کے نام پر موروثی دھوکہ دہی کی تاریخ موجود ہے، مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی، اختر مینگل، یہاں لیفٹ رائٹ، سرخ سبز کچھ نہیں، موروثیت کی مقدس مقتل میں جمہوریت قربان ہوتی نظر آئیگی۔ بات کہیں اور نکل گئی، اس موضوع پرکبھی اور تفصیلی گفتگو ہو گی۔
اپوزیشن منتشر اور کمزور ہے، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ن لیگ قیادت کے بحران کا شکار ہے، شہباز شریف ملک سے باہر ہیں، نواز شریف چند دن بعد دوبارہ کوٹ لکھپت جیل کی قیدی ہونگے، مریم نواز اور حمزہ شہباز کی رسہ کشی سے قطع نظر، ن لیگ کی سینئر قیادت دونوں پر تحفظات رکھتی ہے۔ کرپشن کے خلاف مہم اور انقلابی بیانات سنتے سنتے کان پک گئے مگر ابھی تک عدالتوں میں ثابت کچھ نہ ہو سکا، خیر زرداری صاحب کا کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کب تک باہر ہیں، بلاول بھٹو پر اگرچہ مقدمات قائم کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی مگر غداری اور بھارتی بیانیئے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ گویا مقتد قوتیں منتشر اور کمزور اپوزیشن کو بھی برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں، مائنس ون کا غیر مرئی فارمولہ دھیرے دھیرے آئینی جمہوریت کو نگلتا جا رہا ہے۔  
ذکر تھا تحریک انصاف کی حکومت کا، ویسے تو کابینہ بھی تبدیل ہو گئی مگر سب سے بڑی تبدیلی معاشی محاذ پر ہوئی، جہاں اسد عمر کو ہٹا کر حفیظ شیخ کو لایا گیا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ حفیظ شیخ انکے آدمی ہیں، یہ سچ ہے کہ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے دور میں وزارت خزانہ کا انتظام سنبھالتے رہے مگر حقیقت یہ ہے کہ حفیظ شیخ ایک ٹیکنوکریٹ ہیں اور آئی ایم ایف کے بندے ہیں۔ اب ذرا موجودہ منظر نامے پر نظر ڈالیں، ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف سے قرضے کیلئے مذاکرات سنجیدہ مراحل میں تھے، ڈھیر سارے غیر مقبول اور سخت معاشی فیصلوں کے باوجود اسد عمر کو یکایک فارغ کرنا اور انکی جگہ حفیظ شیخ کو لانا کوئی اتفاق تو نہیں، یقینی طور پر یہ تبدیلی صرف تحریک انصاف کا فیصلہ بھی نہیں ہے۔ حضور میری بات نہ مانیں مگر اگلی تبدیلی تو ملاحظہ فرمائیں، رضا باقر کو گورنر اسٹیٹ بینک لگا دیا گیا، کون رضا باقر مصر میں آئی ایم ایف کے سربراہ، رومانیہ اور دیگر ممالک میں بھی آئی ایم کیلئے خدمات انجام دینے والے،  اگر اب بھی آپ کو کوئی شک ہے تو بخدا میں نہیں آپ معصوم ہیں۔ سیاستدان اور ٹیکنوکریٹ میں فرق یہ ہوتا ہے کہ سیاسی وزیر کا اسٹیک بہت زیادہ ہوتا ہے، اسے بہرحال عوام کی فکر کرنی ہے، پانچ سال بعد ووٹ بھی انہی سے مانگنا ہے جبکہ ٹیکنوکریٹ عوام کے گلے پر چھری پھیرنے میں ذرا تردد نہیں کرتا، بلکہ اگر ٹیکنوکریٹ آئی ایم ایف کا تجویز کردہ ہو تو چھری بھی الٹی پھیرتا ہے، حکومت اور کابینہ دیکھتی رہ جاتی ہے، یہی کچھ ابھی ہوا ہے، کابینہ نے پیٹرول قیمتوں میں اضافے کی منظوری نہیں دی مگر پھر بھی مشیر خزانہ کے احکامات پر قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا۔ اب ذرا غور فرمائیں، اسد عمر کی تبدیلی ایک مربوط منصوبے کا حصہ نظر آئیگی، انکے غیر مقبول اور سخت فیصلے قطعی ناکافی تھے، سو اب جگر تھام کر بیٹھیں، مہنگائی کا طوفان آنیوالا ہے، عوام کب تک قربانی دینے کی طاقت رکھتے ہیں، یہ ایک بڑا سوال ہے؟
عمران خان فیصلوں میں کتنے آزاد ہیں شاید اسکا اظہار وہ پانچ سال بعد کرینگے، مگر فی الوقت اس حوالے سے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ابھی صرف نو ماہ ہوئے ہیں، چار سال اور تین ماہ کا طویل وقت باقی ہے۔ میں قطعی طور پر جانتا ہوں کہ سنگین اور بنیادی خرابیاں نو ماہ میں ختم نہیں ہو سکتیں، یہ بھی درست ہے کہ کارکردگی نہ دکھانے والوں کو تبدیل کرنا چاہیئے، مگر کوئی راستہ، کوئی منصوبہ، کوئی حکمت عملی تو سامنے آئے، خوایشات اور خواب سے پیٹ نہیں بھرا کرتے، عوام مہنگائی کی چکی میں پس چکے ہیں اور کتنا امتحان لیا جائیگا؟ ناتجربہ کاری کے باعث اسٹیبلشمنٹ کی جکڑ مضبوط ہرتی جا رہی ہے اور فیصلہ ساز حلقے میں غیر منتخب ارکان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مجھے یاد ہے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے خان صاحب نے کہا تھا کہ دو سال تو سمجھ ہی نہیں آیا حکومت کیسے چلانی ہے، حضور پانچ سال بعد صوبائی حکومت کینتائج بھی دیکھ لیں، ویسے بھی یہ تو صوبائی حکومت کا معاملہ تھا، وفاق کا مسئلہ قطعی مختلف ہے، خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آئندہ انتخابات پر ایسا ہی کچھ سننے کو ملے۔
یہ درست ہے کہ ناتجربہ کاری کی باعث غیر منتخب ارکان کو فیصلہ سازی کا اختیار دینا ناگزیر تھا، خواہ یہ اپنا فیصلہ ہو یا کسی دبائو کا نتیجہ، مگرعوام نے چہروں کی تبدیلی نہیں چاہی تھی۔ دو جماعتی نظام کو رد کر کے تیسری جماعت پر اعتماد کیا، اگر انہی پٹے ہوئے مہروں سے کام چلانا تھا تو ماضی کی حکومتیں کیا بری تھیں۔ شطرنج کی چوبی بساط ہر بے جان مہرے ادھر سے ادھر تبدیل ہوتے رہتے ہیں، پیادے، اسپ، شتر، بادشاہ بھی ایک دو گھر ٹہلنے کا مجاز ہے۔ مہرے گرتے ہیں، شہ مات بھی ہوتی ہے مگر بساط شطرنج کی ہو یا سیاست کی، اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ اس سارے کھیل میں عوام کہاں ہیں، تاجدار عادل نے کیا خوب کہا ہے۔
 وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک

 

تازہ ترین خبریں