06:10 am
رمضان المبارک

رمضان المبارک

06:10 am

تزکیہ نفس اور تربیت کا عملی مظاہرہ اسی ماہ مبارک میں کیا جا سکتا ہے۔ رمضان المبارک شروع ہو رہاہے۔شدید گرمی نہیں ‘ بھوک اور پیاس کااحساس بھی ہو۔ہونا بھی چاہیئے۔ وگر نہ بھوکوں ، پیاسوں کا قدردان کون ہو گا۔
تزکیہ نفس اور تربیت کا عملی مظاہرہ اسی ماہ مبارک میں کیا جا سکتا ہے۔ رمضان المبارک شروع ہو رہاہے۔شدید گرمی نہیں ‘ بھوک اور پیاس کااحساس بھی ہو۔ہونا بھی چاہیئے۔ وگر نہ بھوکوں ، پیاسوں کا قدردان کون ہو گا۔ یہ تربیتی کورس ہے ۔اللہ پاک جسے توفیق دے، اس سے وہ فیض یاب گا۔  اسے ہی سعادت ملے گی۔ رمضان المبارک اور روزہ کی فضیلت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔اس پر دینی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سائنسی نقطئہ نگاہ سے بحث جاری  رہتی ہے۔ٹی وی چینلز پر بھی رمضان المبارک کی خصوصی نشریات کا آغاز ہوتا ہے۔سحری و افطار کے وقت خصوصی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال سے زیادہ خلوص نیت جانتے ہیں۔ہمارے نفس کی تربیت، بھوک و پیاس کا احساس سے نہیں، حواس خمسہ سمیت روح اور جسم کی تربیت سے بھی ہے۔ بچے بھی مشق کرتے ہیں۔ایک دن میں کئی روزے رکھنے کی مشق۔ اس کے بعد عید کی خوشیاں ۔
 نیکی کمانے اور مال بنانے والے بھی سامنے آتے ہیں۔یہاں یوٹیلٹی سٹور سمیت بازار میں چیزیں سستی ہونے کے بجائے مہنگی بلکہ نایاب ہو جاتی ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز والے بھی کرتب دکھاتے ہیں۔ رمضان شروع ہونے سے چند دن پہلے قیمتیں 40گنا تک بڑھاکر بعد میں دھوکہ دینے کے لئے ان میں 20فیصد کمی کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ جیسے حکومت تیل کی قیمتوں کے حوالے سے ڈرامے کرتی ہے۔ متعلقہ ادارے سے 14فیصد اضافے کی سمری طلب کر کے اس میں9فیصداضافہ کر کے قوم پر احسان جتلایا جاتا ہے۔گراں فروش اور ذخیرہ اندوز مصنوعی قلت سے روزہ داروں کو پریشان کرتے ہیں۔ نیکی کے احسن جزا اور برائی کی سزا بہرحال سب کو ملے گی۔  ماہ مقدس کے آتے ہی مسلمانوں میں ایک منفرد جوش و جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ یہ جذبہ  شعور کو بیدار ہی نہیں پاکیزہ بھی کردیتا ہے۔روزہ صرف بھوک و پیاس کا نام نہیں بلکہ بھوکوں،پیاسوں کی بھوک و پیاس  کا احساس کرنے اور ان سے خیرات و صدقات اور فطرانہ کی صورت میں تعاون کرنے کا نام ہے۔ ان کی عزت نفس بھی قائم رہے۔بھوک اور پیاس کیا ہوتی ہے۔ یہ وہی جانتے ہیں جو اس سے گزرتے ہیں۔
روزہ دار بلا شبہ روزہ سے تزکیہ نفس کا درس حاصل کرتا ہے ۔  نفس کو تمام برائیوں سے پاک و صاف کرنے کا سبق و مشق۔ روزہ صرف شکم کو تالا لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ حواس خمسہ سمیت دل و دماغ کو پاکیزگی عطاکرتا ہے۔ آنکھ برائی کو دیکھے، کان سے لوگوں کی غیبت نہ سنی جائے، رزق حرام یعنی جھوٹ، دھوکہ دہی، ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری ، بد دیانتی، خیانت سے کمائے ہوئے مال سے افطاری و سحری نہ ہو ، تو اس روزہ کا بہت فائدہ ہے۔ ہم کھیت، کارخانے، دفاتر میںآرام کریں ، کام چوری اور ملازمت کا حق ادا نہ کریں تو روزہ ہمارے کس کام آئے گا۔ایک دفتر میں کوئی لاکھوں روپے تنخواہ لے اور کوئی ہزاروں روپے تو لاکھوں والے کو کام بھی زیادہ کرنا چاہیئے۔ اگر وہ زیادہ کام کرے تو کسی پر احسان کیسا۔
 اگر کوئی بد کلامی کرے، تو کہہ سکتے ہیں، ’’میں روزے سے ہوں‘‘۔ ایک ماہ کی تربیت و ٹریننگ سے ایک سال تربیت کے مثبت اثرات سے گزر سکے۔ روزہ انسان کواپنے نفس پر قا بو پانے اور تمام غلطیوں سے بچنے اور نیک اور اچھے کام کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تعمیر سیرت ہے۔ انسان حرص و لالچ ، خواہشات سے بچ جاتا ہے۔ روح کو بھی تربیت ملتی ہے۔  ذہنی و جسمانی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔
ہمارے نبیﷺ کا فرمان ہے ’’جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ اور بد عملی سے نہیں رکتا، اللہ تعالیٰ کو اس کی بھوک اور پیاس کی ضرورت نہیں۔ ‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’روزہ شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے ، روزہ دار کو چاہئے وہ بد زبانی اور جہالت سے اجتناب کرے اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالیاں دے تو اسے دو مر تبہ کہے ، میں روزہ دار ہوں۔‘‘روزہ کے باعث چادر تان کر سو جانا بھی روزہ کے فلسفہ کے منافی ہے۔ روزہ دارمعمولات زندگی ترک نہیں کرتا۔ بلکہ ان کو درست کرتاہے۔ رہبانیت اسلام میں جائز نہیں۔ کانٹے دار راستوں میں چلیں تو ایسے چلیں کہ کانٹے آپ کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔برائی سے خود کو بچانے کی یہ بہترین مثال ہے۔ یہی تقویٰ ہے۔ بھوک و پیاس اور موسمی سختی کو نظر انداز کرتے ہوئے چند سو مسلمانوں نے روزے کی حالت میں بد رکے میدان میں حضرت محمد ﷺکی زیر قیادت  ہزاروں کفار کو شکست دی ۔ روزہ نے مسلمانوں کو صبر و استقامت، ایثار و قربانی، اتحاد و یگانگت، باہمی اخوت و محبت ، مساوات، ضرورت مندوں سے حسن سلوک ، انفاق، موثر پلاننگ کی تربیت دی۔ ایک ماہ میں گیارہ ماہ کی تربیت۔ہم  اپنے دسترخوان پرامیروں کے بجائے غرباء اور مساکین اور محتاجوں کو افطاری کرائیں تو اللہ مال میں برکت دے گا۔ مال پاک ہو گا۔ یاد رہے اس سے کالا دھن سفید نہیں ہو سکتا۔غلط طریقوں سے کمایاہوا مال غریبوں پر خرچ کرنے سے پاک نہیں ہوتاہے نہ اللہ اسے قبول کرتے ہیں۔ برکت اور پاکیزگی صرف حلال مال کے لئے ہے۔
روزہ صرف شکم کا نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پائوں ، دل ، دماغ غرض پوری جان کا ہے۔ انسان اپنے اعضاء کی بغاوت اور سرکشی کو کنٹرول کرتا ہے۔ وہ ایک گھر، خاندان، ادارے یا علاقے کو کنٹرول کرنے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ایسے انسان سے کسی مشن یا فریضہ کی ادائیگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھنے کی تاکید ہے۔ یعنی خود احتسابی۔ لا تعداد لوگوں کی زندگی ہی بدل جاتی ہے۔ روزے کی قبولیت کا اندازہ بھی اسی سے ہوتا ہے کہ رمضان  اور اس کے بعد میں ہم میں کیا تبدیلی رونما ہوئی۔اگر مثبت تبدیلی آئی ہے۔ اگرہم نیکی کرنے لگے ہیں اور برائی ترک کر دی ہے۔یا اگر ہم بھلائی کو بھلائی اور برائی کو برائی قرار دینے کے اہل بن چکے ہیں۔ تو سمجھ لیں کہ ہم رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہو گئے، ہم کامیاب ہوگئے ،ورنہ بھوک و پیاس کے سوا ہمارے ہاتھکیا آئے گا۔ اللہ ہمارے اس تربیتی پروگرام ، ہماری بھوک، پیاس، افطاری، سحری، تراویح، قیام، اور جملہ عبادات کو قبول فرمائے۔ہمیں عبادات اور معاملات، حقو ق العباد کو درست کرنے کی توفیق دے۔ عزیز و اقارب میں ، ہمارے دائیں بائیں محتاج اور ضرورت مند ہوں گے۔ مسافر بھی توجہ چاہتے ہیں۔ حسب توفیق و استطاعت ان کی افطاری، سحری، ضروریات کا خیال رکھ کر اللہ پاک کی خوشنودی، نیکیاںکمائی جا سکتی ہیں۔ قارئین کرام کو رمضان بہت مبارک ہو۔ امید ہے ہمارے لئے یہ تربیتی سیشن نفع بخش ثابت ہوگا۔

 

تازہ ترین خبریں