06:11 am
میں بولتا تو کہیںگے کہ بولتا ہے

میں بولتا تو کہیںگے کہ بولتا ہے

06:11 am

میرا دِل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اُس بدقسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں غریبوں کے بچے تھل کے صحرائوں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں  اور امیروںکے کتے جرمن کے بن
میرا دِل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اُس بدقسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں غریبوں کے بچے تھل کے صحرائوں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں  اور امیروںکے کتے جرمن کے بنائے ہوئے امپورٹڈ  بسکٹ کھاتے ہیں۔ منرل واٹر پیتے ہیں۔ گرمیوں میں ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں مہنگے ترین کمبل لپیٹ کر سوتے ہیں۔ اِن کتوں کے لئے دنیا کے مہنگے ترین شیمپو، وٹامنز، خوراک اور ادویات لائی جاتی ہیں۔ اِن کی رہائش غریب کی جھونپڑی کی بے بسی پر مسکراہٹ کے تازیانے برسا رہی ہوتی ہے۔
دوسری طرف جو عمر معصوم بچوں کے پڑھنے لکھنے کی ہوتی ہے اس عمر میں یا تو میرے وطن کے غریب بچے محنت مزدوری کرتے ہیں یا سماج دشمنوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور وہ انھیں تخریبی سرگرمیوں میں طرح طرح سے استعمال کرتے ہیں، جیب کترا بناتے ہیں، چوری و ڈاکے ڈالنے کے فن سے آگاہ کرتے ہیں، ان ننھے بچوں کو دیار غیر میں فروخت کردیتے ہیں، کچھ پیشہ ور جرائم پیشہ افراد ان کے ہاتھ پیر توڑ کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت بہتر طریقے سے کر رہی ہے لیکن وہ سڑکوں اور شاہراہوں پر ان بچوں کو بھیک مانگتے، ہاتھ پھیلاتے، گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے بھاگتے نہیں دیکھتی ہے، اسے یہ بھی نظر نہیں آتا ہے کہ بے شمار بچے ہر روز کچرے کے ڈھیر پر جھکے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ سڑے گلے پھل اور ڈبل روٹی کے ٹکڑوں سے اپنے شکم کی آگ بجھا رہے ہیں، سخت سردی ہو، گرمی اور برسات ہو، موسموں کی سنگینی سے یہ بے پروا، اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، اپنی ذمے داریوں کو نبھاتے ہیں انھیں اپنی ماں کے لیے روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے وہ پرانی چیزیں جن میں شیشہ ، خالی بوتلیں، ردی پیپر ‘ لوہا‘ پلاسٹک شامل ہوتے ہیں انہیں بیچ کر چند روپے کماکر اپنے گھر والوں کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ مائیں تو سب کی ہوتی ہیں ان محنت کش بچوں کی بھی مائیں ہیں جو خود انہیں رزق کی تلاش میں گھروں سے رخصت کرتی ہیں اور خود بھی مزدوری کرنے کی خواہشمند ہوتی ہیں جب کہ بہت سی عورتیں مشقت کرتی ہیں۔ فیکٹریوں اور کارخانوں میں چند روپوں کے عوض پورا دن کام کرتے گزار دیتی ہیں۔ایک طرف بھیک مانگنے والا طبقہ ہے تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں، والدین خود بھی چھوٹے موٹے کام انجام دیتے ہیں اور ان کے چھوٹے بچے جن کی عمریں بمشکل پانچ سال سے دس سال تک ہوتی ہیں۔ ورکشاپ پر گاڑیوں کے ڈینٹ، پینٹ کے کام انجام دیتے ہیں۔ گاڑیاں دھوتے ہیں، شیشے صاف کرتے ہیں ساتھ میں استاد سے گاڑیاں سنبھالنے کا کام بھی سیکھتے ہیں۔چھوٹے بچوں کی محنت مزدوری کرنا چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہے، جس پر پابندی ہے لیکن پابندی کے باوجود اس قانون پر عمل نہیں کیا جاتا ہے، پورے پاکستان میں ایسا ہی حال ہے ٹرین کا سفر ہو یا بسوں کا، معصوم بچے ہر شہر میں چائے اور دوسری کھانے پینے کی اشیا بیچتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ریستورانوں کے سامنے یہ بھوکے بچے گاڑیوں کے پاس آکر اپنا ہاتھ پھیلاتے اور مدد کے منتظر ہوتے ہیں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو انھیں دھتکارتے نہیں ہیں، ورنہ زیادہ تر وہ ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہتے ہیں۔بچوں پر تشدد کے حوالے سے بھی دردناک واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، گھروں میں کام کرنیوالے ننھے پھول جیسے بچوں پر معمولی غلطیوں کی بنا پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، ہمارے ملک میں قانون نام کا ایک خوبصورت پرندہ ہوا کرتا تھا، جو زمانہ ہوا اڑچکا ہے، کسی نے بھی اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کی اسی لیے آج سیاست اور ریاست کے حال بدترین ہوچکے ہیں۔اگر حکومت لوگوں کو جینے کے لیے اسباب پیدا کردے، تعلیم اور انصاف مفت فراہم کرے، تو کوئی بچہ نہ کچرے کے ڈھیر سے گلی سڑی غذا سے اپنا پیٹ بھرے گا اور نہ تخریب کاروں کے ہتھے چڑھے گا۔ آج کے بچے ہی پاکستان کا مستقبل ہیں۔ خدارا!مستقبل کو بچا لیجیے۔
امرِ واقعہ یہ ہے کہ اگر بچے یونہی مزدوری کرتے رہے توجب تک حکومت اور معاشرہ انہیں تعلیم اور علاج معالجے کے مواقع فراہم نہیں کرتا بہت سے بچے ہسپتالوں کا کوڑا اٹھاتے رہیں گے، ریتی سے اڑنے والی دھات کی دھول سانس میں کھنچتے رہیں گے اور اپنے ہاتھ کے جلنے کو کام کا حصہ سمجھتے رہیں گے۔
میں دیکھتا ہوں اور یہ درد پھانس کی طرح میرے حلق میں اٹک جاتا ہے کہ دنیا بھرکے غریب ممالک کی طرح وطن عزیز میں بھی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، معاشی بدحالی، بے روزگاری، غربت جیسے مسائل کی وجہ سے ننھے معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر مشقت لی جارہی ہے، جابجا پھول جیسے بچے گھریلو ملازم، بوٹ پالش کرتے ، ہوٹلوں،چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں،چھوٹی فیکٹریوں ، خشت بھٹوں،سی این جی اور پٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ۔ کھیلنے کودنے اور پڑھنے لکھنے کے دنوں میں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اوزار تھامے پھول جیسے معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہوکر کام کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوں تویقینا اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتاہے۔ بچوں سے مشقت خوشحالی و ترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ ،اور قوم کی اخلاقی اقدار کے زوال کی علامت ہے ۔
پاکستان میں جہاں غربت ، مہنگائی ،بے روزگاری نے غریب بچوں کو اسکولوں سے دور کر دیا ہے کہ ان کے لئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے، وہاں پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے تعلیم کو اس قدر مہنگا کر دیا ہے کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں۔ ایسے حالات میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں یا تعلیم کے بھاری بھرکم اخراجات کو برداشت کریں ، یہی وجہ ہے کہ غریب بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں، اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلوا پاتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش نہیں ہوتے، ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہیں لیکن صرف وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں چھوٹے بن کر رہ جاتے ہیں ۔ دوسری طرف امیر ہیں۔ اشرافیہ ہے۔ سرمایہ دار ہیں۔ جاگیر دار ہیں۔ صنعت کار ہیں۔ تاجر ہیں۔ سوداگر ہیں۔ ان کے بچوں کا غریبوں کے بچوں سے کیا مقابلہ کروں؟مجھے تو اِن امیروں کے کتے غریبوں کے بچوں سے زیادہ معتبر اور خوشحال دِکھائی دیتے ہیں۔ اچھی خوراک، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک اِن کے شکم میں اُترتی ہے۔ اِن کی آنکھ نم ہو جائے تو دنیا کے مہنگے ترین ڈاکٹروں سے علاج کروایا جاتاہے۔ انہیں خالص دودھ پلایا جاتا ہے۔ اِن کی خوراک بیرون ملک سے آتی ہے۔ اِن کی رہائش بھی اِن کے شایان شان ہوتی ہیں۔ یہ کتّے یہ امیروں کے کتے جب بھونکتے  ہیں، تو مجھے غریبوں کے بچوں، غریبوں کے بُھوکے، پیاسے، خوراک، رہائش، آسائشات اور دوائوں سے محروم بچوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتی ہیں اور پھر میں اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہو جاتا ہوں۔ میری آنکھیں جلتی ہیں۔ میرا دل روتا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں