09:47 am
تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

09:47 am

کسی ملک کا جمہوری نظام بڑی حد تک سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا کمزور ہونا ہے۔ سیاسی جماعتیں برائے نام ہیں درحقیقت معاشرے کے بااثر افراد نے امداد باہمی کی انجمنیں بنا رکھی ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ اور ورکنگ دونوں پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان ویسے ہی دودھ پی کر سویا ہوا ہے وگرنہ کیا یہ ممکن ہے کہ سیاسی جماعتیں ڈمی الیکشن کروائیں یا نام نہاد الیکشن ایسے انداز میں منعقد ہوں جن کا جمہوری روایات یا طریقہ کار سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی قبضہ مافیا کو موقع فراہم کیا اور آج ایک آدھ استثنیٰ کیساتھ جس سیاسی جماعت کا جائزہ لیں تو ایک مخصوص گروہ ہر جماعت پر قابض ہے۔ سیاسی جماعتیں ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہیں چنانچہ اس گندے جوہڑ سے جمہوری نظام کی سیرابی کیونکر اور کس طرح ہو رہی ہوگی یہ سمجھنے کیلئے پاکستان کی پوری تاریخ حاضر ہے۔ 
 
پاکستان کی تاریخ میں ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے پہلی مرتبہ گراس روٹ لیول سے ٹاپ لیڈر شپ تک فری اینڈ فیئر الیکشن کا انعقاد ہوا تھا اور روایتی بااثر افراد کی بجائے اضلاع اور صوبائی سطح پر عام کارکنان منتخب ہوگئے تھے۔ عمران خان وزیراعظم بن جانے کے بعد بھی اس سوچ کیساتھ کھڑے ہیں کہ تحریک انصاف کو ایک مضبوط سیاسی ادارہ بننا چاہئے۔ عمران خان کی نیت و ارادہ پارٹی قیادت کے انتخاب سے واضح ہے۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کی خالی ہونے والی نشست پر انہوں نے ارشد داد جبکہ چیف آرگنائزر کی حیثیت سے انہوں نے سیف اللہ خان نیازی کا انتخاب کیا، جنہوں نے اپنی تعلیم اور جوانی دونوں تحریک انصاف کے عشق میں قربان کردیں۔ آج ان دونوں افراد کی زیر نگرانی پارٹی کی تنظیم نو کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ پارٹی تنظیم کو جمہوری خطوط پر استوار کرنے کا پہلا مرحلہ پارٹی کا ایک ایساآئین تیار کرنا تھا جو روایت پرستی کی زنگ آلود شقوں سے پاک صاف ہو۔ اس آئین کی تیاری پر بہت کام ہوا۔ گزشتہ چھ ماہ اس کام میں صرف ہوئے۔ آئین کی تیاری بند کمروں اور مخصوص افرادکی محدود مشاورت کی بجائے کھلے اجلاسوں میں ہوئی ایک ایک شق کا جائزہ لیا گیا اور اسے جمہوری اصولوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے وسیع مشاورت ہوئی۔
تحریک انصاف کے 23ویں یوم تاسیس کے موقع پر پارٹی کا نیا ترمیم شدہ آئین پارٹی کی نیشنل کونسل منظور کر چکی ہے۔ تحریک انصاف کا نیا آئین چونکا دینے والی خصوصیات کا حامل ہے۔ پہلی خاص بات اس آئین کا جمہوری مشاورتی ڈھانچہ ہے۔ فیصلہ سازی کا اختیار کسی سطح پر بھی اب فرد واحد کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ فیصلے اجتماعی فورمز پر ہوں گے چنانچہ اوپر سے لیکر نیچے تک ہر سطح پر ایگزیکٹو کمیٹیز اور کونسلزکا ڈھانچہ ترتیب دیا گیا ہے۔ دوسری خاص بات عہدیداران وکارکنان کی سیاسی واخلاقی تربیت کیلئے کی جانے والی کوشش ہے۔ اس مقصد کیلئے ہر تنظیمی سطح پر مستقل سیکرٹری ایجوکیشن وٹریننگ کا عہدہ متعارف کروایا گیا ہے جبکہ عہدیداران وکارکنان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے کیلئے سنٹرل سیکرٹریٹ میں پارٹی مینجمنٹ سیل کا مستقل ادارہ قائم کر دیا گیا ہے۔
تیسری خاص بات تحریک انصاف کی وہ ضلعی کمیٹیاں ہیں جو مختلف شعبوں کی جائزہ رپورٹیں مرتب کیا کریں گی۔ یوں کوئی سیاسی جماعت پہلی مرتبہ ضلعی سطح پر صحت تعلیم پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کے حوالے سے ایکشن کمیٹیاں بنائے گی۔ مرکز میں یہ کام پارٹی تھنک ٹینکس سر انجام دیں گے جو مختلف شعبوں کے ضمن میں پالیسی پیپرز کی تیاری کا کام کریں گے۔
سیاسی جماعتوں میں کارکنان کو اکثر شکایت ہوتی ہے کہ ان کو انتخابی ٹکٹوں میں نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے نئے آئین کی چوتھی خاص بات ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم کا میکنزم وضع کرنا ہے۔ اقلیت اور خواتین کی نشستوں کا طریقہ کار بھی آئین میں وضع کر دیا گیا ہے۔ یوں اب پارلیمانی بورڈز کی صوابدید کی بجائے اس کو کارکردگی کی بنیاد پر بہترین امیدواروں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کالم کی تنگ دامنی تفصیل کی متحمل نہیں وگرنہ اس آئین کی آٹھ دس خوبیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں 23ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کے دوران نئے آئین کی خصوصیات گنواتے ہوئے جب کہا کہ پارٹی اب کسی فرد واحد کے شر سے محفوظ رہے گی اور یہ کہ پارٹی میں جزا اور سزا کا مربوط نظام قائم کر دیا گیا ہے تو ہال بے اختیار تالیوں سے گونج اٹھا۔ نئے آئین کی منظوری کے بعد کارکنان کاجوش وجذبہ دیدنی تھا۔
نئے آئین کے تحت تحریک انصاف اگر اپنا تنظیمی ڈھانچہ مکمل کرلیتی ہے اور سختی کیساتھ ان اصولوں پر کاربند رہتی ہے جو اس نے آئین میں طے کئے ہیں تو یہ پاکستان میں منفرد حیثیت کی حامل سیاسی جماعت ہوگی۔ مسئلہ لیکن ہمیشہ عمل کرنے کا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے شخصی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی وقومی مفادات کو مقدم رکھنے کی سعی کی تو ایک حقیقی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کی حیثیت سے تحریک انصاف پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی وگرنہ خاکم بدہن اس کا انجام بھی دیگر جماعتوں سے مختلف نہ ہوگا۔

تازہ ترین خبریں