09:48 am
حکمت و احکام رمضان المبارک

حکمت و احکام رمضان المبارک

09:48 am

سب کو معلوم ہے کہ یہ  روزے کی عبادت اور نزول قرآن کا مہینہ ہے۔قرآن مجید میں روزے کی عبادت کا تفصیلی ذکر سورۃ البقرہ کے23 ویںرکوع میں آیا ہے۔ اس رکوع میں روزے کی فرضیت، حکمت، قرآن مجید کے ساتھ تعلق اور اعتکاف جیسے موضوعات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ ایک ہی مقام پر کم و بیش تمام مسائل کا ذکر روزہ کا منفرد معاملہ ہے۔ روزے کی فرضیت کے بارے میں یہاں فرمایا:
 
’’اہل ایمان! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیاجیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا۔‘‘(روزہ کی غرض و غایت یہ ہے کہ) تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔‘‘ (آیت: 183)   
روزے کی فرضیت کے ذکر کے ساتھ ہی ترغیب و تشویق کے لئے فرمایا کہ روزہ صرف تمہی پر فرض نہیں کیا گیا ہے بلکہ سابقہ امتوں پر بھی فرض تھا۔ روزے کا اصل حاصل اور مقصود تقویٰ ہے۔ تقویٰ آخرت کی کامیابی کی شرط ہے۔ یہ حقیقی کامیابی کے لئے نا گزیر ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن  میںاہل جنت کے تذکرہ میں بار بار تقویٰ کا ذکر کرتا ہے۔ تقویٰ کی پونجی حاصل کرنے کے لئے دیگر عبادت کے ساتھ ساتھ روزے کی عبادت فرض کی گئی ہے۔ 
اگلی آیت میں فرمایا:’’(روزے) گنتی کے چند دن ہیں۔ تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دُوسرے دنوں میں (روزوں کا) شمار پورا کرے۔اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں)وہ روزے کے بدلے ایک محتاج کو کھانا کھلا دیں۔اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو یہ اُس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ 
 اس رکوع کی متذکرہ دو آیات کے بارے میں ایک رائے ‘جو اسلاف کے بہت سے لوگوں کی ہے، یہ ہے کہ ان کا تعلق رمضان کے روزے سے نہیں ایام بیض کے روزوں کی فرضیت سے ہے‘ جو رمضان کے روزوں سے پہلے فرض ہوئے تھے۔ یعنی ہر قمری مہینے کی 13‘ 14 اور 15 تاریخ کے روزے۔ اِن روزوں کی غرض و غایت یہ تھی کہ لوگوں کو روزے کی عبادت سے مانوس کیا جائے‘ کیونکہ عرب روزہ سے مانوس نہیں تھے۔ چنانچہ ان تین دنوں کے حوالے سے یہ بات بڑی مناسب معلوم ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ ’’جو گنتی کے چند دن ہیں۔‘‘ نبی اکرمﷺ نے ان تین دن کے روزوں کی تاکید فرمائی ہے۔ گو بعد میں جبکہ رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے‘ اُن کی فرضیت ختم ہو گئی ‘ مگر اب بھی یہ سنت مؤکدہ کے درجے میں ہیں۔ 
تمہیں یہ رعایت دے دی گئی‘ کہ اگر ان تین دنوں میں کوئی شخص بیمار پڑ گیا یا اسے کوئی سفر درپیش ہو گیا تو روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دوران سفر بعض اوقات روزہ چھوڑا بھی ہے اور بعض اوقات رکھا بھی ہے۔ دوسری رعایت یہ کہ اگر کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا تو ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ یہ گویا ایک روزے کا فدیہ تھا۔ البتہ بعد میں جب ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم آیا تو یہ دوسری رعایت ختم ہو گئی- جو کوئی اپنی آزاد مرضی سے زیادہ نیکی کا کام کرے۔ یعنی ایک مسکین کے بجائے‘ دو یاچار مساکین کو کھلا دے تو یہ اُس کے لیے اور بہتر ہے۔مگر یہ بات یاد رکھئے اگر تم پر یہ بات منکشف ہو جائے کہ روزہ رکھنے میں کتنی خیرو برکت ہے تو تم اسے کبھی نہ چھوڑو۔ 
روزے کے یہ ابتدائی احکام ترغیب وتشویق کے لیے ہیں‘ تاکہ لوگ روزے سے مانوس ہو جائیں۔ اب آگے ماہ رمضان المبارک اور اُس کے روزوں کی فرضیت کا ذکر آرہا ہے ۔فرمایا:’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔‘‘ 
ماہ رمضان کا تعارف ہو رہا ہے کہ اسے بقیہ مہینوں پر قیاس نہ کرنا‘ کیونکہ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی عظیم نعمت نازل ہوئی ہے کہ زمین کے اوپر اس جیسی کوئی نعمت اور اس سے زیادہ فضیلت والی کوئی شے نہیں ہے۔ یہ نعمت اللہ تعالیٰ کا کلام قرآن حکیم ہے۔اور قرآن کا تعارف کیا ہے؟ 
 اب آگے فرمایا: ’’ تو جو کوئی تم سے اس مہینے کو پائے، اس پر لازم ہے کہ پورے ماہ کے روزے رکھے۔‘‘
یہ ہے فرضیت صوم رمضان کا بیان۔ اب پورے مہینے کا روزہ رکھنا فرض کردیا گیا۔مجھے آپ سے رمضان کے لیے ذہنی تیاری کے حوالے سے گفتگو کرنی ہے۔ اس سلسلہ میں نبیﷺ کاحد درجہ جامع خطبہ ہے، آج اُس کی روشنی میں گفتگو ہو گی ان شاء اللہ۔ آپ ؐ کے اس خطبہ میں استقبال رمضان کا مضمون آیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں مسلمان کیا کریںاور اس کی برکات سے کیسے فائدہ اُٹھائیں۔ اس میں فضیلت کے کون کون سے پہلو ہیں۔  ذہنی تیاری کے حوالے سے یہ بہت جامع خطبہ ہے۔ ہر سال رمضان سے پہلے جب بھی موقع ملتا ہے، اس کا بیان ہوتا ہے۔ دراصل یہ خطبہ نبی اکرمﷺ کی جانب سے ہمارے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ ایک تحفہ تو یہ ماہ رمضان بھی ہے جس کو یہ مل گیا اس کے لیے بڑی خوش نصیبی کی بات ہے۔ بہت سے لوگ تھے جو پچھلے رمضان میں ہمارے ساتھ تھے لیکن یہ رمضان ان کی زندگی میں نہیں آیا… لیکن یاد رکھئے، یہ خوش نصیبی اُن کے لیے ہے جو اِس سے فائدہ اٹھائیں، ورنہ حدیث کے مطابق جس کسی کو رمضان جیسا مبارک مہینہ ملے اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکے، مغفرت نہ کراسکے، وہ تباہ ہو گیا، وہ انتہائی بدنصیب ہے۔ اس ماہ مبارک کو نیکیوں کا موسم بہار کیا جاتا ہے۔ تو اس موسم سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان ذہنی طور پر پہلے سے تیار اور آمادۂ عمل ہو۔اس خطبے میں رمضان کی برکات کے حوالے سے بتایا گیا کہ جو کوئی رمضان المبارک میں ایک نیکی کرے گا ، اسے ایک فرض کے برابر اور ایک فرض کی ادائیگی پر ستر فرض کا ثواب ملے گا۔اس خطبے میں لیلۃ القدر کا بھی تذکرہ ہے جس میںعبادت کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت کے برابر ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ ہمدردی و مواخات اورصبر کا مہینہ ہے اورصبر کا بدلہ جنت ہے۔ اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرانے کے نتیجے میں جتنا ثواب روزہ رکھنے والے کو ملے گا ، اتنا ہی افطار کرانے والے کو بھی ملے بغیر اس کے کہ اسے جسے روزہ افطار کرایا گیا ہے ، اس کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ یہ اجر و ثواب دودھ یا پانی کے ایک گھونٹ پر بھی افطار کرانے والے کو ملے گا۔البتہ جو کسی کو پیٹ بھر کر افطار کرادے ، اسے حوض کوثر سے پینے کو ملے گا جس کے بعد جنت میں داخلے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔ اس مہینہ میں اگر کام کرنے والوں کے کام میں تخفیف کردی جائے توتخفیف کرنے  والے کی مغفرت کردی جائے گی اور اسے جہنم کی آگ سے بچالیا جائے گا۔ماہ رمضان المبارک کا اول عشرہ رحمت کا، درمیان کا عشرہ مغفرت کا اور آخری عشرہ نار جہنم سے نجات کا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ماہ رمضان المبارک تک پہنچائے اور آج کی اصطلاح میںاس ماہ میں نیکیوں کی  لوٹ سیل سے بھرپور استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

تازہ ترین خبریں