09:50 am
   حکمت  بیگ   کے  ڈھیلے  پیچ    ! 

   حکمت  بیگ   کے  ڈھیلے  پیچ    ! 

09:50 am

 ہمارے یارِ خاص تبریز میاں نے دو بڑے دلچسپ سوال اُٹھائے ہیں !   آخر سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت ایسے صاحب کو کیوں دی گئی ہے جو کہ غالباً  بی اے ایل ایل بی ٹائپ وکیل ہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ سیالکوٹ سے  الیکشن ہارنے والی ایسی  خاتون سیاستدان کو ہی مشیر اطلاعات کیوں بنا یا گیا  ہے جو کہ ماضی میں قاف لیگ  اور پی پی پی کے سیاسی گھاٹوں کا پانی بھی  نوش فرما چکی ہیں ؟  راقم  ان بظاہر غیر اہم لگنے والے نہایت ہی اہم سوالات کے  ٹھیک ٹھیک جواب  دینا  مناسب نہیں سمجھتا ۔  بس اتنا جان لیجیے کہ دوستوں کی محفل میں گریز ہی بہتر ہے ۔ اُمید ہے آپ سمجھ تو گئے ہی ہوں گے ۔   
 
بحمداﷲ ! فدوی مملکت خداداد کی کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کا نہ ماضی میں مرتکب ہوا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے کسی سنگین جرم کے ارتکاب کا ارادہ رکھتا ہے ۔ آپ   اعتراض کرنے  میں حق بجانب ہوں گے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی ؟ تاہم  چند لمحوں کے لیے  فدوی کی ناقص دلیل پر بھی غور فرمانے میں کوئی حرج نہیں ! کیا آپ اُس ڈاکو کی حمایت کریں گے جو آپ کی حق حلال کی کمائی لوٹ کھائے ؟ کیا آپ ایسے معالج کی تعریف کریں گے جو  آپریشن تھیٹر میں  پیٹ چاک کرنے کے بعد درد سے بلبلاتے مریض پر  انکشاف کرے کہ دراصل وہ جعلی ڈاکٹر ہے اور آپریشن کرنے کا سرے سے اہل ہی  نہیں ؟ کیا آپ ایسے وکیل کی تعریف  کریں گے جو آپ کو بے گناہ ہو نے  کے باوجود عمر قید یا سزائے موت کروا دے ؟ کیا آپ ایسے استاد کی حمایت کریں گے جو خود میٹرک فیل ہو؟ اگر دماغ کا کوئی پیچ ڈھیلا نہ ہو تو ہر صاحب عقل انسان  ان سوالوں کا جواب نفی میں ہی دے گا ۔ 
اُمید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ فدوی سیاسی جماعتوں خصوصاً ملک پر اندھا دھند راج کرنے والے بھان متی کے کنبوں کی حمایت سے کیوں گریزاں ہے؟ اگر آپ اب بھی نہیں سمجھ پائے تو فوراً کسی اچھے سے مکینک سے اپنے  دماغ کے ڈھیلے پیچ کسوا لیں !  دماغ  کے پیچ ڈھیلے ہونا فی زمانہ کوئی سنگین مرض نہیں سمجھا جاتا ۔بقول تبریز میاں مریضوں کی روز افزوں بڑھتی تعداد کا تقاضہ ہے کہ اسے قومی مرض کا درجہ دیئے جانے کے لیے حکومتی سر پرستی میں  مناسب غور و خوض کیا جائے ۔ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ۔ یہ کمیٹیاں غیر ملکی دورے کریں ۔ نگری نگری پھر کے تحقیق کریں کہ دماغ کے پیچ ڈھیلے کیوں ہو جاتے ہیں ؟ ترقی یافتہ ممالک میں اس مرض کی شرح کیا ہے ؟  اس کے نقصانات کیا ہیں  ؟ اور فوائد کیا ہیں ؟ شنید ہے کہ اپنے تئیں سپر پاور کہلانے والے امریکہ میں بھی اس مرض کا شکار ٹرمپ نامی شخص صدر کے عہدے تک پہنچ گیا ہے !  یقینا ماں باپ کی دعائوں اور اساتذہ کی  محنت کے ساتھ ساتھ ڈھیلے پیچ والے  امریکی عوام کے تعاون کے بغیر ٹرمپ کے لیے  یہ کارنامہ انجام دینا ممکن نہ تھا ۔ 
بات  کہیں دور نہ نکل جائے لہٰذا تبریز میاں کے سوال کا جواب لینے کے لیے  حکومت کے سرپھرے حمایتی حکمت بیگ سے رجوع کرنا پڑا۔ اطلاعات اور سائنس کی وزارتوں میں باسی سیاستدانوں کی تازہ تقرریوں میں چھپی حکمتوں کا جو تذکرہ ان گناہگار کانوں نے حکمت بیگ سے سُنا اُس کا کچھ خلاصہ پیش خدمت ہے۔ بقول حکمت بیگ  وزیر سائنس کی تعیناتی کے لیے آئین نے بی ایس سی یا ایم ایس سی کی کوئی شرط  سرے سے عائد ہی نہیں کی ۔ یہی معاملہ دیگر وزارتوں کا بھی ہے۔  جناب فواد جہلمی کو ہرگز ہرگز سائنسی علوم سے نابلد نہ سمجھا جائے ۔ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ وزیر موصوف  میٹرک  میں سائنس گروپ کے ہونہار طالبعلم تھے ۔ ریاضی ، طبیعات اور علم کیمیا جیسے پیچیدہ سائنسی مضامین میٹرک میں پاس کرنے کے بعد ہی آپ  ایل ایل بی کرنے کے قابل ہوپائے تھے۔ 
 یہ قیادت اور قدرت کا کرشمہ ہوگا کہ ایل ایل بی بندے سے سائنس کی وزارت چلوا دے۔ اگر شیر کی قیادت میں بکریاں بھی شیر بن کے لڑ لیتی ہیں  تو پھر ایل ایل بی وکیل جیسی اشرف المخلوق کی قیادت میں وزارت سائنس بھی کچھ نہ کچھ کر ہی لے گی ۔ اعتراض فواد جہلمی اور باجی فردوس سیالکوٹی پر ہی کیوں کیا جا رہا ہے ؟ حالانکہ دیگر وزراء بھی اپنے اپنے محکموں کی کوئی خاص شد بد نہیں رکھتے ۔ قیادت کا وژن یہی ہے کہ فی الحال حکومت علم کے بجائے  جذبے سے چلانی ہے۔ فواد جہلمی میں سائنسی معلومات کی جو کمی بیشی میٹرک کے وقت رہ گئی تھی وہ جذبے کی فراوانی اور زبان کی روانی سے پوری کرلی جائے گی ۔ ویسے بھی یہ پی ٹی آئی کی پہلی حکومت ہے ۔
 ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب بزدار بھولا بھالا صاحب  سمیت اکثر وزراء سیکھنے کے  پیچیدہ  اور تکلیف دہ عمل سے گذر  رہے ہیں ۔ علم حاصل کرنا فرض ہے اور وزیر سائنس بھی وزارت کے بہانے سائنسی علوم کی پیاس حسب توفیق بجھاتے رہیں گے۔ باجی فردوس عاشق اعوان سیالکوٹی کو الیکشن ہارنے کے صدمہ تھا ۔ دلجوئی ضروری تھی ۔ جیتنے والوں کو تو سب مشیر وزیر لگا دیتے ہیں ۔ قیادت کا وژن ہے کہ الیکشن ہاری ہوئی  سیاستدان سے شیر والی جماعت کا تیا پانچا کروانا ہے۔ باجی فردوس کی آمد سے دشمن کی صفوں میں کھلبلی سی مچ گئی ہے۔ ایک ظالم نے یہ کہہ کے مصرعہ ہی بدل  ڈالا کہ کس زن کی آمد ہے کہ شیر کانپ رہے ہیں ؟ 
مشیر اطلاعات نے سیاسی مخالفین سے لفظی جنگ کرنا ہوتی ہے ۔ باجی فردوس    برسوں سے قومی میڈیا پر اس  فن  کا مظاہرہ کرکے مخالفین کو دھول چٹاتی آئی ہیں ۔ اپوزیشن زیادہ گھبرائے نہ ۔ باجی سیالکوٹی اور برادر جہلمی کی تعیناتی میں ایک فائدہ اپوزیشن کا بھی ہے۔ کل کلاں کو اگر اپوزیشن اقتدار میں آگئی تو یہ دونوں جید سیاستدان بلا تاخیر  خدمات پیش کرکے اپنی  موجودہ  قیادت  اور جماعت کی بھی  اسی شدت  سے مٹی پلید کریں گے جیسی کہ آج کل اپنی سابقہ قیادت کی کر رہے ہیں۔ حکمت بیگ کے دلائل سُن کے تبریز میاں کے دماغی پیچ بھی ڈھیلے ہو گئے ہیں ۔ کسی اچھے دماغی مکینک کا علم ہو تو ضرور بتائیے گا۔            

تازہ ترین خبریں