09:51 am
زنجیروں میں جکڑا شیطان اور اداکاروں کے حوالے رمضان

زنجیروں میں جکڑا شیطان اور اداکاروں کے حوالے رمضان

09:51 am

آج یکم رمضان المبارک ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب تعالیٰ نے شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا ہے‘ لیکن شیطان کے چیلے اور ایجنٹ مسلمانوں کو رمضان کی برکتوں سے محروم رکھنے کے لئے پہلے سے بھی بڑھ کر محنت میں مصروف ہوچکے ہیں‘ ٹی وی چینلز کا اگر کوئی مثبت استعمال کرے تو بہتر‘ ورنہ یہ بھی شیطانی چیلے بن کر معاشرے میں گمراہی پھیلانے کا سبب بن جاتے ہیں‘ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ٹی وی چینلز کو شیطانی طاقتیں مسلمانوں کے اخلاق و کردار‘ تہذیب و تمدن اور نظریات کے خلاف ایک  موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں... ویسے تو سال کے گیارہ مہینے ہی ٹی وی چینلز خرافات کی بدمستیوں میں الجھ کر معاشرے میں فکری آلودگی اور نظریاتی گندگی پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں‘ لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی ان کی کوششیں مزید تیز ہو جاتی ہیں۔
 
کہا جاتا ہے کہ ہر فیلڈ کے لئے رجال کار ہوتے ہیں... پاک فوج میں کوئی اداکار‘ گلوکار‘ صداکار‘  میجر یا کرنل بھرتی نہیں ہوسکتا‘ کسی فنکار‘ فنکارہ‘ گلوکار‘ گلوکارہ‘ اداکار‘ اداکارہ کو معاشرہ ڈاکٹر‘ انجینئر یا استاد کے طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا‘ ایسے ہی قرآن و سنت جیسے آسمانی علوم اور نماز‘ روزے جیسی عظیم عبادات کو سمجھنے اور سمجھانے‘ پڑھنے اور پڑھانے کی فیلڈ کے ماہرین علماء کرام ہیں۔
خاتم الانبیاءﷺ نے ’’علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا ہے‘ لیکن رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے الیکٹرانک چینلز کو جب سے آزادی دی تب سے انہوں نے دینی معاملات بالخصوص رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی ناچنے گانے والوں کے  سپرد کرکے روزے جیسی عظیم مقدس عبادت کو بے روح بنانے کی کوشش کی‘ گزشتہ دس‘ پندرہ سالوں سے جیسے ہی رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتا ہے ٹی وی چینلز پر رمضان نشریات کے نام پر  اغیار کے ایجنڈے کے مطابق اک طوفان بدتمیزی شروع ہوجاتا ہے۔
ہر سال ہم اسی طرح روزنامہ اوصاف میں رمضان المبارک کے بے روح بنانے کی سازش کو نہ صرف بے نقاب کرتے ہیں بلکہ اداریوں اور کالموں کے ذریعے ان ناپاک سازشوں کے حوالے سے عوام کو آگاہی دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں... لیکن رمضان المبارک کا چاند طلوع ہوتے ہی اداکارائوں اور بھانڈ میراثیوں کا رمضان شریف پر ظلم و ستم شروع ہوجاتا ہے‘ اس مرتبہ رمضان المبارک کی آمد سے چند دن قبل پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ماہ رمضان کے حوالے سے پاکستانی ٹی وی چینلز پر پیش کئے جانے والے پروگراموں میں شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو شمولیت سے روکا جائے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ سے منتخب ہو کر پنجاب اسمبلی کے ممبر بننے والے مولانا محمد معاویہ اعظم نے 30اپریل کو یہ قرارداد جمع کروائی تھی جسے جمعرات کے دن ایوان نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
قرارداد کے مطابق چند برسوں سے پاکستان کے ٹی وی چینلز پر رمضان المبارک کے مہینے کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی نشریات کا آغاز کیا جاتا ہے...لیکن  افسوس کی بات ہے کہ رمضان نشریات کے پروگراموں کی وہی لوگ میزبانی کرتے ہیں‘ جوباقی دنوں میں  انہی ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر مورننگ یا ایوننگ پروگراموں میں ناچ گانوں کو فروغ دیتے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ رمضان ٹرانسیمشن کو ایسے لوگ ہوسٹ کرتے جن کا تعلق دین اسلام سے وابستہ طبقے سے  ہے‘ لیکن پاکستان میں ریٹنگ کے چکر میں ایسے لوگوں کو رمضان ٹرانسیمشن میں ہوسٹ بنایا جاتا ہے  جن کا تعلق دور دور تک دین سے نہ ہے‘ لہٰذا الیکٹرانک میڈیا پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے ’’پیمرا‘‘ کو سختی سے پابند کیا جائے کہ وہ ٹی وی چینلز کو پابند کرے کہ شوبز سے جڑے ایسے لوگوں کو رمضان ٹرانسمیشن میں شامل ہونے سے ہر قیمت پر روکے۔
پنجاب اسمبلی نے ناچ گانے والوں کے ذریعے اسلام سکھانے کی کوشش کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرکے یقینا مستحسن اقدام کیاہے ۔ قرارداد پیش کرنے والے محمد معاویہ اعظم نوجوان عالم دین اور شہید مولانا اعظم طارق کے صاحبزادے ہیں‘ ان کے سربلند بابا سے اس خاکسار کی نیاز مندی اور دوستانہ تعلق  تھا‘ ان کے شہید والد انتہائی جرات مند‘ حق گو اور دینی غیرت رکھنے والے ایم این اے تھے‘ میری محمد معاویہ سے ملاقات تو کبھی نہیں ہوئی‘ لیکن پنجاب اسمبلی میں ان کی پیش کردہ قرارداد کہ جس کو ایوان نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا  کو دیکھ کر اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ نوجوان مولانا  محمد معاویہ اپنے سربلند باپ کے نقش قدم پر ہی چل رہے ہیں‘ الیکٹرانک چینلز کے حوالے سے اس قسم کی قرارداد پیش کرنا سانپ کے منہ میں ہاتھ  دینے کے مترادف ہے۔
جس ملک میں صرف ٹیکر چلوانے اور سنگل کالمی خبر چھپوانے کے لئے بڑے بڑے گرو میڈیا کے ہاتھوں یرغمال بننا اپنی کامیابی سمجھتے ہوں ‘اس ملک کی سب سے بڑی اسمبلی میں  سالہا سال سے رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بیہودگی اور دھماکڑی مچا کر تجوریاں بھرنے والوں سے عزت’’رمضان‘‘ اور عظمت’’اسلام‘‘ کی خاطر مخالفت مول لینے کی کوشش کرنا‘ بظاہر  جان جوکھوں لیکن درحقیقت بڑی سعادت کی بات ہے اور اس سعادت پہ یہ خاکسار ایم پی اے مولانا محمد معاویہ اعظم سمیت پوری پنجاب اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہے۔

تازہ ترین خبریں