09:52 am
ماہ رمضان مبارک!…نوازشریف پھر جیل میں

ماہ رمضان مبارک!…نوازشریف پھر جیل میں

09:52 am

٭پوری قوم کو رمضان کا مقدس مہینہ مبارکO نوازشریف پھر جیل میںO دوائیں سبزیاں پھل شدید مہنگےOملک کے دیہات میں بجلی کی 16 گھنٹے لوڈ شیڈنگO فلسطین، اسرائیل کی گولہ باری، 27 فلسطینی شہیدO روحانیت کی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد!O کنٹرول لائن پربھارتی فوج کی فائرنگ دوخواتین شہید، ایک زخمی۔
 
٭رمضان المبارک کی آمد پرملک بھر میں عبادات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عوام دشمن کاروباری طبقوں نے سبزیوں، دوائوں، پھلوں وغیرہ میں جو بے رحمانہ اضافہ کر دیا ہے، اس پر عوام چیخ اٹھے ہیں۔ حکومت نے انتہائی بے دردی کے ساتھ پٹرولیم، بجلی، گیس وغیرہ کی قیمتوں میں بے محابا اضافہ کیا، خون چوسنے والے کاروباری بھیڑیوں نے عوام کی ضروریات زندگی میں ناقابل برداشت اضافہ کر کے تجوریاں بھر لیں۔ یہ لوگ دولت کے انبار لے کر کہاں جائیں گے؟ قبر تو زیادہ سے زیادہ سات فٹ لمبی، ڈھائی فٹ چوڑی ہوتی ہے۔ ہر چیز پیچھے رہ جاتی ہے۔ کفن کی تین چادریں بھی دوسرے لوگ ڈالتے ہیں! کہنے کو ایک حکومت موجود ہے جس نے ملک کا’تَن مَن دھن‘،سب کچھ آئی ایم ایف کے سامراجی قدموں میں رکھ دیا ہے! خدا تعالیٰ اس ملک کے غریب عوام پر کرم فرمائے!
٭نیا بلدیاتی قانون آ گیا۔ سارے بلدیاتی ادارے کالعدم، ایک سال میں نئے بنیں گے،اربوں کے اخراجات۔ سابق ادارے مشکل سے بنے تھے، اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔ انہیں مناسب فنڈز ہی نہ مل سکے۔ ارکان اسمبلی ہمیشہ ان اداروں کے خلاف رہے ہیں۔ ان کی موجودگی میں ارکان اسمبلی گلی، سڑکوں اور صفائی وغیرہ کے ٹھیکوںمیں من مانی نہیں کر پاتے تھے، اب ان کی موج ہو گئی جِسے ’پَو بارہ‘ بھی کہتے ہیں۔ اب ان اداروں کے انچارج سرکاری افسر (ایڈمنسٹریٹر) ارکان اسمبلی کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ کسی رکن اسمبلی کے ’من پسند‘ ٹھیکیدار کو ٹھیکہ نہ دیا گیاتو معطلیاں پسند وزیراعلیٰ کے ذریعے اٹک کا ڈپٹی کمشنر راجن پور، سیالکوٹ کا اسسٹنٹ کمشنر بھکر اور ناروال کی خاتون افسر رحیم یار خان تبدیل! کوئی افسر حکم نہ مانے تو معطل!
 بہت دور کی بات ہے۔ 1950ء کے عشرہ میں خان ولی خان کے تایا ڈاکٹر خان صاحب (بیوی انگریز، داماد سکھ، بہو پارسی، انگریز حکومت سے وظیفہ ملتا تھا) نے وحدت مغربی پاکستان کے وزیراعلیٰ کے طور پر لاہور کے کمشنر عطا محمد لغاری کو ایک حکم نہ ماننے پراچانک معطل کر دیا۔ عطا محمد لغاری بہت طاقت ور قبائلی سردار تھا۔ اس نے بیان دیا کہ ’’میں تمہیں دیکھ لوں گا‘‘ کچھ عرصے کے بعد ڈاکٹر خان صاحب وزیراعلیٰ کے عہدہ سے فارغ ہو گئے، انہیں ان کے اپنے علاقے کے ہی ایک نوجوان نے قتل کر دیا۔ عطا محمد لغاری پھر بحال ہو گیا۔ موجودہ حالات بالکل مختلف ہیں۔ کسی افسر کو ٹیکسلا سے رحیم یار خان تبدیل کیا جاتا ہے تو وہ بے چارہ چپ چاپ بستر باندھتا ہے اور رحیم یار خان کی ٹکٹ کٹا کر شیخ رشید کی بار بار پٹڑیوں سے اترنے والی کسی ٹرین میں بیٹھ جاتا ہے۔ اس وقت ٹرینوں میں پنجاب میں معطل ہونے والے بے شماردربدر افراد ادھر سے اُدھر سفر کر رہے ہیں۔ تبدیل ہونے والے سرماری ملازمین کو نئی جگہ پہنچ کر تنخواہ کے لئے چار چھ ماہ انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔
٭میاں نوازشریف آج شام پھر جیل جانے والے ہیں۔ وہ جیل میں تھے تو ان کی شدید علالت اور نازک صورت حال کا شور مچایا جاتا رہا۔ بار بار اسلام آباد اور لاہور کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔ واویلا کیا گیا کہ درست علاج نہیں ہو رہا، تقریباً 30 ممتاز سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے پانچ میڈیکل بورڈوں نے بار بار مکمل طبی معائنے کئے۔ سپریم کورٹ میں ’’نازک حالت‘ ‘کے بارے میں ریلیف (رہائی) کی اپیل کی گئی۔ عدالت نے علاج کے لئے چھ ہفتے کے لئے رہائی دے دی۔ لاہور میں اپنے خاندانی ہسپتال، شریف میڈیکل کمپلیکس میں پانچ معائنے ہوئے۔ کسی خاص خطرناک بیماری کا پتہ نہ چل سکا۔ ان چھ ہفتوں میں گھر والوں نے کوئی علاج نہیں کرایا اور سپریم کورٹ میں اپیل کر دی کہ یہ بیماری صرف لندن میں سامنے آ سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے درخواست جن ریمارکس کے ساتھ مستردکر دی وہ تفصیل کے ساتھ چھپ چکے ہیں۔ لندن جانے کی بات ادھوری رہ گئی اور پھر واپس جیل میں! آج سے پھر شور مچنے لگے گا کہ حالت بہت خراب ہے، علاج نہیں ہو رہا۔ 
 ایک خبر یہ کہ میاں صاحب جیل میں داخل ہونے سے پہلے بہت سخت بیان دیں گے۔ یہ بیان آ چکا ہوگا ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بڑے میاں جیل میں، چھوٹے میاں لندن میں معائنے کرا رہے ہیں۔ ن لیگ کے سر سے شریف خاندان کا سایہ ہٹا تو مجاور آپس میں لڑنے لگے!! اس وقت ملک میں مسلم لیگ نام کے 11 گروپ بن چکے ہیں، ن لیگ، ق لیگ، عوامی لیگ، آل پاکستان لیگ، ملی لیگ، اعجاز الحق لیگ، ف لیگ، کلہوڑو لیگ، خواجہ آصف لیگ، خواجہ سعد رفیق لیگ، راجہ ظفر الحق لیگ وغیرہ وغیرہ! قائداعظم کی مسلم لیگ کا یہ حشر!
٭وزیراعظم نے سوہاوہ کے نزدیک روحانیت کی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا اور کہا کہ آج تک ایسی یونیورسٹی کے قیام پر توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بھی فرمایا کہ صوفیائے کرام پر تحقیق کے لئے کوئی ادارہ موجود نہیں، ہم روحانیت کو سُپر سائنس بنائیں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں اور باہر صوفیائے کرام پر بہت ریسرچ ہو چکی ہے اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں تحقیقی کتب موجود ہیں۔ ان بزرگان کرام کے مزاروں پر بڑی بڑی لائبریریاں موجود ہیں۔ حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت بابا فریدالدینؒ گنج شکر، حضرت شاہ عبداللطیفؒ بھٹائی، حضرت میاں محمد بخشؒ، حضرت سچل سرمستؒ، حضرت بابا رحمان گلؒ، حضرت سلطان باہوؒ اور دوسرے بڑے صوفیائے کرام کے بارے میں تمام یونیورسٹیوں میں اسلامیات کے شعبے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ہزاروں دینی مدارس میں قرآن و حدیث کی وسیع پیمانہ پر تدریس بھی روحانیت ہی کی تدریس ہے۔ روحانیات کی یونیورسٹی کا منشور سامنے نہیں آیا اس لئے اس پر زیادہ بات ممکن نہیں، صرف ایک سوال کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبا ملک و قوم کی کیا خدمات انجام دے سکیں گے؟ ویسے عجیب بات ہے کہ خود وزیراعظم روحانیت کا لفظ ادا نہ کر سکے اور دوبار رعونت، رعونت کہہ کرمشکل کے ساتھ روحانیت کے لفظ پر آئے! اس پر کیا بات کی جائے؟ زبانی بات کرنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے اذان کی آواز سن کر کہا کہ ’’اذان بج رہا ہے! کسی کو تصحیح کرنے کی ہمت نہ پڑی۔
٭کبھی اطلاعات اور اب سائنس کے وزیرفواد چودھری نے اعلان کیا ہے کہ ان کی وزارت آئندہ دس سال کا ہجری کیلنڈر تیار کرے گی اس کے لئے پانچ ماہرین کی کمیٹی بنائی جا رہی ہے۔ مجھے یہ خبر پڑھ کر حیرت ہوئی ہے کہ وزیر سائنس نے تو صرف دس سال کے کیلنڈر کی بات کی ہے جب کہ پہلے ہی ہجری کے پہلے سال سے لے کر ڈیڑھ ہزار سال (1500 ہجری) کا کیلنڈرموجود ہے۔ اس کیلنڈر کی رسمی نمائش دس سال پہلے دیال سنگھ لائبریری لاہورمیں ہو چکی ہے اور یہ اس لائبریری میں محفوظ ہے۔ یہ کیلنڈر جرمنی کے فلکیات کے ماہرین نے بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔ دیال سنگھ لائبریری لاہورمیں اس وقت کے گورنر نے اس کیلنڈر کی نمائش کا افتتاح کیا تھا۔ ایک کاپی مجھے بھی دی گئی جو کوئی صاحب مطالعہ کے لئے لے گئے واپس نہیں کیا۔ یہ کیلنڈر وہاں سے لیا جا سکتا ہے۔ نئی کمیٹی کی کیا ضرورت ہے؟۔ اس کمیٹی کے قیام اور طویل کارروائی پر لاکھوں روپے اڑانے کا کیا فائدہ ہے؟
 

تازہ ترین خبریں