08:21 am
   کلام الٰہی  سے تعلق   

   کلام الٰہی  سے تعلق   

08:21 am

 ماہ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے۔ قرآن مجید نے روزوں کی فرضیت کو حصولِ تقویٰ کا ذریعہ قرار دیا ۔ مہینے بھر پر محیط احکامات خداوندی کی تعمیل کی  ایسی مشق کہ جس کے مثبت اثرات سال کے بقیہ گیارہ مہینوں پر بھی مرتب ہوں ۔  اگر روزمرہ  معمولات میں اﷲ کے احکام کی مکمل فرماںبرداری کی  عادت راسخ ہو جائے تو سمجھئے روزوں کا مقصد پورا ہوا ۔ نہ تو یہ مہینہ محض بھوک پیاس برداشت کرنے کی جسمانی مشقت کا نام ہے اور نہ ہی سحر و افطار کے اوقات میں بسیار خوری کی مشق سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے ۔ روزہ دار جھوٹ ، غیبت ، ناجائز منافع خوری ، بد دیانتی اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب ہو کے رمضان کی برکات سے فیضیاب نہیں ہو سکتا ۔ حصول برکت کے لیے قرآن  کی تلاوت کا اصل فائدہ تب ہو گا جب قاری کلام خداوندی کو سمجھے اور اُس پر نیک نیتی سے عمل بھی کرے ۔ بقول اقبالؒ
 
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن 
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
قرآن محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ  سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے عطا کیا گیا ۔ ہم اہل عجم کتاب کی تعظیم اور حصول برکت کے لیے بکثرت تلاوت کے عادی تو ہو گئے لیکن سمجھنے اور عمل کرنے کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ۔ یہ کوتاہی  ہمارے سماجی اور سیاسی رویوں کی تنزلی کا باعث بن چکی ہے۔ ہر گھر میں اﷲ کا کلام موجود ہے ۔ خوشبودار جز دان میں لپٹا ہوا ۔ ادب کے تقاضے بڑی احتیاط سے نبھائے جاتے ہیں ۔ قدیم دستور چلا آرہا ہے کہ اگر قران کی تلاوت جاری ہے  تو قاری اور قرآن سے  بلند مقام پر نہ بیٹھا جائے ۔ گھر یا مسجد میں قرآن کی جانب پیٹھ یا پیر نہ ہونے پائے ۔ ادب سے انکار نہیں ۔ ان معاملات میں ادب ہاتھ سے چلا جائے  تو پلے کچھ نہیں بچتا ۔ لیکن کچھ دھیان اس طرف بھی دیا جائے کہ قرآن نہ پڑھنا بھی سنگین بے ادبی ہے! کلام اﷲ کا نہ سمجھنا بھی بے ادبی ہی  ہے ! اور قرآن پر عمل نہ کرنا تو بے ادبی کے ساتھ ساتھ سنگین گناہ بھی۔  
یہ روایت بیشتر گھرانوں میں زندہ ہے کہ بچپن میں ہی ناظرہ قرآن کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ تاہم  مغرب زدہ لبرل طبقہ اب اس روایت کو فرسودہ بوجھ قرار دے کے ترک کرچکا ہے۔ بچہ بھاری فیسوں والے تعلیمی ادارے میں کوہلو کے بیل کی طرح جتا ہے۔ انسان کے بچے کی کمر پر گدھے جتنا بوجھ سکول بیگ کی صورت میں لدا ہے ۔ ہر ماہ ایک یا دو  ایسے تفریحی و تربیتی دوروں کا بھی اہتمام ہے کہ جن کا  بھاری خرچہ بھی والدین بخوشی دیتے ہیں ۔ بس  قرآن کی تعلیم کے لیے فرصت نہیں ۔ برائے نام واجبی سا ناظرہ قرآن بھی پڑھانا اب گوارا نہیں ۔ بعض لبرل ٹوڈی اب یہ فرماتے ہیں کہ چھوٹے بچے پر ناظرہ قرآن کا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ۔ معاذاﷲ ! کلام الٰہی اب بوجھ قرار دیا جا رہا ہے ۔ 
 ان مغرب زدہ لبرل ٹوڈیوں کو چار سال کے بچے کی کمر پر لدا کتابوں کا بوجھ کیوں دکھائی نہیں دیتا ؟ انہیں نہ بچے سے دلچسپی ہے اور نہ ہی اُس کے جسم و ذہن پر پڑنے والے بوجھ سے کوئی سروکار ۔ این جی او مافیا کی وفاداری اپنے شکم سے ہے ۔ جس نے مال پانی دیا اُسی کی ڈفلی بجانا شروع کر دی ۔ پاکستان این جی اوز کے باپ کی جاگیر نہیں !  مغرب کی کثافت سے مسلم معاشرے کو آلودہ کرنے کے ایجنڈے پر زور و شور سے عمل جاری ہے ۔ سد باب کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ۔
آئین کے تحت تعلیمی اداروں میں مسلمان بچوں کو شعائر اسلامی کی تعلیم مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ یہ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ ارباب اقتدار اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کے بتائیں کے اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں اسلامی تعلیمات کا  کیا اہتمام کیا جا رہا ہے؟  جہاں بورڈ کے امتحانات میں دھڑلے سے نقل کا رواج جڑ پکڑ جائے وہاں اسلامی تعلیم کی ہوش کس کافر کو رہے گی ۔ اس باب میں ارباب اقتدار کے پلے شرمندگی اور ندامت  کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ قرآن کی تعلیم اور سنتِ مصطفی ﷺ سے مکمل آشنائی مسلمان طالبعلم کا  بنیادی حق ہے ۔ ریاست ِ مدینہ کے پرچارک اس اہم معاملے پر قابل عمل حکمت عملی ترتیب دیں ۔ این جی او مافیا پاکستان کے طول و عرض میں فحاشی ، عریانیت اور لادینیت کے پھیلائو میں مصروف ہے  ۔
 مسلم بچے اس یلغار کا مقابلہ قرآنی تعلیم کے ہتھیار سے ہی کر سکتے ہیں ۔ لادینیت اور اخلاق باختگی کی آگ سے بچنے کے لیے دامن مصطفی ﷺ میں ہی پناہ مل سکتی ہے ۔  اﷲ کا  قرب اﷲ کے کلام کے سمجھنے اور  اُس پر عمل کرنے سے مشروط ہے ۔ اگر اس رمضان المبارک میں ہم اپنا اور اپنے اہل خانہ کا تعلق اﷲ کے کلام سے جوڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سمجھیے بیڑہ پار ہوا ۔  بصورت دیگر  این جی او مافیا کے ہاتھوں تو  بیڑہ غرق ہوکے ہی رہے گا۔     

تازہ ترین خبریں