08:23 am
نئی اقتصادی ٹیم

نئی اقتصادی ٹیم

08:23 am

جب سے اسد عمر رخصت ہوئے ہیں اور حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے ملک کے تقریباً تمام ہی حلقوں میں ایسے خدشات کا اظہار ہو رہا ہے کہ اب ملک آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اور پھر جب رضا باقر کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر تعینات کیاگیا تو گویا یہ خدشات یقین میں بدل گئے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ حفیظ شیخ اور رضا باقر کتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ قابل یا باصلاحیت ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان کی حقیقی وفاداری کس کے ساتھ ہے۔
 
مجھے امید ہی نہیں یقین ہے کہ اگر یہ دو حضرات صدق دل سے چاہیں تو وہ ملک کو موجودہ اقتصادی بحران سے نکال کر ترقی کے راستے پر گامزن کر سکتے ہیں۔ مگر آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور امریکہ کی تاریخ دیکھتے ہوئے یہ تقریباً ناممکن نظر آتا ہے کہ ان دو حضرات کو پاکستان کی بہتری کے لئے پالیسیاں بنانے کی اجازت دی جائے گی۔
ملک کا ایک اہم حلقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ امریکہ کے کہنے پر آئی ایم ایف نے یہ جال بنا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی قرضوں کے گرداب میں مزید دھنسا دیا جائے تاکہ چند ماہ یا سال بھر بعد ہمارے سمندروں سے اگر واقعی تیل نکل آئے تو وہ سارے کا سارا ان ہی قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے۔ یہی کھیل نائیجریا اور شمالی امریکہ کے ممالک میں بھی کھیلا جاچکا ہے۔ ڈر تو یہ بھی ہے کہ بات ہمارے ایٹمی پروگرام کی بندش تک نہ جا پہنچے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر؟
ہم عمران خان کو یہ سوچ کر معاف کر سکتے ہیں کہ ملک کے حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ ان کے پاس آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ مگر دل نہیں مانتا۔ آخر آئی ایم ایف ہمیں دے کیا رہا ہے۔ چند ارب ڈالر کا قرضہ اور اس کے بدلے ہمارا سارا سنہرا مستقبل گروی رکھ رہا ہے۔ ہمارے حالات تو اس پیکج کے بعد بھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔ جس طرح کی سفارشات آئی ایم ایف کر رہا ہے اس کے نتیجے میں ہماری معیشت کبھی بھی نہیں سنبھل سکتی۔
ذرا غور فرمائے۔ ہم سے کہا جارہا ہے کہ ہم بجلی مہنگی کریں۔ مختلف صنعتوں کو دی جانے والی مراعات ختم کر دیں یا انہیں بہت کم کر دیں روپے کی قیمت بہت ہی گرا دیں۔ بینکوں سے دئیے جانے والی قرضوں کی شرح سود میں اضافہ کر دیں۔ تجارت اور صنعت پر ٹیکس بڑھا دیں اب آپ ہی بتائیں ان تمام سفارشات پر عمل ہونے کے بعد ہماری صنعت ترقی کرے گی یا مزید اندھیروں میں گھر جائے گی۔ یہ کون سا نسخہ ہے جو ہماری اقتصادی بیماریوں کو دور کر سکے گا اور آج تک کس ملک نے ایسے اقدامات کرکے صنعتی ترقی کی ہے۔
آئی ایم ایف کا پروگرام ہمارے ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ ہمیں ڈرایا جارہا ہے کہ اگر ہم اپنے غیر ملکی قرضے وقت پہ واپس نہ کر سکے تو ہمیں دیوالیہ قرار دے دیا جائے گا اور پھر ہمیں کبھی بھی آئی ایم ایف سے یا کسی اور عالمی ادارے سے قرض نہیں ملے گا۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ یہ ڈر یا خوف حقیقی ہے کہ محض ایک بلف ہے۔ اگر یہ سچ بھی ہے تو بھی ہم آئی ایم ایف کا موجودہ پیکج لے کر دیوالیہ پن کے امکان کو صرف موخر کر رہے ہیں۔ اسے ختم نہیں کر رہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر کڑوی گولی کھانی ہی ہے تو ابھی کھالی جائے۔ ہماری پالیسیاں ہمیں خود بنانی چاہئیں۔ اگر کسی پر تکیہ کرنا ہی ہے تو دوستوں پر تکیہ کیا جائے۔ عالمی استعماری اداروں کے ہاتھوں میں اپنی معیشت نہ دے دی جائے۔ عمران صاحب کی ساری توجہ اگلے چند ماہ پر ہے۔وہ اس سے آگے دیکھنے کی زحمت نہیں کر رہے۔ میری عرض یہ ہے کہ کہ جو بھی سختی آنی ہے اسے آنے دیا جائے۔ قرضوں کی ادائیگی پر مزید قرضے لے کر نہ کی جائے۔
چند تجاویز پر عمل کرکے ہم آئی ایم ایف کے چنگل اور گیڈر بھبکیوں سے نکل سکتے ہیں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان بنائو سرٹیفکیٹس میں اگر تین تبدیلیاں کر دی جائیں تو چھ سے آٹھ ارب ڈالر ایک سال میں جمع ہوسکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف اتفاق نہیں کرے گا مگر ہماری مشکلات کا حل انہی میں ہے۔ پہلی بات پی بی سی خریدنے کی اجازت ہر پاکستانی کو دی جائے چاہے وہ ملک سے باہرمقیم ہو یا ملک کے اندر‘ دوئم پی بی سی خریدنے والوں سے رقم کی سورس یعنی ذرائع کے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھا جائے اور تیسری اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر کے بینکوں کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ پی بی سی کی ضمانت پر قرضے جاری کر سکیں۔ یقین کیجئے ان تین اقدامات سے پاکستان تقریباً فوری طور پر اپنی فارن ایکس چینج کے مسائل پر کافی حد تک قابو پالے گا۔
ملک میں اگر لوگ ٹیکس نہیں دے رہے تو اس کا یہ علاج ہرگز نہیں ہے کہ ٹیکس مزید بڑھا دیا جائے۔ ٹیکس نیٹ میں جو لوگ موجود ہیں ان کی قدر کی جائے اور جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کر رہے ان پر سختی کی جائے۔ اسد عمر نے نجانے کیا سوچ کر نان ٹیکس فائلرز کو کاریں اور مکان خریدنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہ صریحاً ملک کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے۔ اگر یہ اجازت منسوخ کر دی جائے تو دس پندرہ لاکھ نئے ٹیکس فائلر پیدا ہوسکتے ہیں۔
تجاویز اور بھی بہت سی ہیں مگر کوئی سنے تو!

تازہ ترین خبریں