08:51 am
نواز شریف کی جیل میں واپسی

نواز شریف کی جیل میں واپسی

08:51 am

٭نواز شریف کی جلوس کے ساتھ دھوم دھڑکے سے جیل میں واپسیOینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال، ایک ہسپتال میں ایک ہی خاندان کے چار زخمی افراد ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث چل بسے Oشدید مہنگائی کے خلاف قومی اسمبلی میں ہنگامہ O مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کو جیپ کے آگے باندھنے والا میجرگوگوئی معطل، کورٹ مارشل O پاکستانی لڑکیوں سے شادی کر کے چین میں دھندا کرانے والے 10 چینی دو پاکستانی گرفتار۔
 
٭نوازشریف کی عارضی رہائی کی مدت ختم ہونے پر پھر جیل میں واپسی! مریم نواز کی زیرقیادت جلوس کے ساتھ جیل جانے کا اعلان۔ تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ رات کو 12 بجے تک جیل پہنچنا تھا۔ ہنگامے کا خطرہ بیان کیا جا رہا تھا۔ تاریخ کاپہلا واقعہ ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص کو اس طرح ڈھول ڈھمکے کے ساتھ جیل لے جایا گیا جیسے عمرہ یا حج کرنے والے عازمین کو مقدس سفر پر رخصت کیا جاتا ہے۔ کسی اکھاڑے میں بڑا دنگل ہو رہا ہو تو اس میں اس انداز میں مختلف پہلوان جلوس کی شکل میں دھوم دھڑکا کے ساتھ آتے ہیں۔ ایک قانون دان نے صحیح نشاندہی کی ہے کہ عدالت کے حکم پر سزا یافتہ شخص کو اس شان و شوکت کے ساتھ جیل لے جانا عدالتی فیصلے کا تمسخر اڑانے والی بات ہے۔ اس کا عدالت نوٹس بھی لے سکتی ہے۔ اس انداز میں جیل جانے کا واضح مطلب ہے کہ مذکورہ شخص بے گناہ ہے، اسے غلط سزا دی گئی ہے۔ ویسے قصے کہانیوں میں ٹارزن کی واپسی اور انگریز ناول نگار رائیڈر ہیگرڈ کے دو ناولوں SHE اور 'Return of She' میں ایسے واقعات ملتے ہیں۔ یہ ناول ہمیشہ زندہ رہنے والی ایک حسینہ کے بارے میں ہیں،جو ہر 100 سال بعد آگ کے الائومیں جل کر نئے سرے سے جوان ہو جاتی ہے اور پھر دنیا بھر کے حکمران اور بڑے لوگ اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اس ناول کااُردو میں ترجمہ کراچی کے ایک ادارے ’’ناول‘‘ نے ’روح کا سفر‘ اور ’روح کی واپسی‘ سے کیا۔ ایک ترجمہ خاتون ترجمہ نگار حجاب امتیاز نے ’’عذرا‘‘ اور ’’عذرا کی واپسی‘‘ سے کیا۔ یہ بات واقعی ذہن پر بوجھ ڈالتی ہے کہ ایک بیٹی اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر جیل لے جا رہی ہے، مگر مکافات عمل کی اپنی اہمیت اور تاریخ ہے۔ ہر معاملے میں ’’جو بولے سو نہال، ست سری اکال!‘‘ تو نہیں کہا جا سکتا۔
٭2017ء میں مقبوضہ کشمیر میں ایک بھارتی فوجی میجر گوگائی مظاہرین کے حملے سے بچنے کے لئے ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ کے آگے باندھ کر لے گیا۔ گوگائی کو بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں شاباش کا تمغہ دیا گیا۔ گوگائی اوباش مزاج شخص تھا۔ اس نے ایک مقامی لڑکی کو اغوا کیا اور اسے ایک ہوٹل میںلے جانے کی کوشش کی۔ ہوٹل کے مالک نے شناختی کارڈ طلب کی۔ گوگائی نے انکار کر دیا۔ بات بڑھ گئی تو گوگائی نے ہوٹل کے مالک پر سخت تشدد کیا۔ اسے گرفتار کر لیا۔ اسے چھ ماہ کے لئے معطل کر کے کشمیر سے تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ بھارتی فوج اب تک ہزاروں کشمیریوں کو شہید اور بہت سی خواتین کی بے حرمتی کر چکی ہے، اس پر کوئی کارروائی نہیں، ایک ہوٹل کے مالک پر محض تشدد پر کورٹ مارشل! اقوام عالم کاضمیر کہاں سو رہا ہے؟
٭ایف آئی اے نے غریب لڑکیوں سے چینی افراد کی جعلی شادیاں کرا کے انہیں چین لے جا کر زبردستی مکروہ دھندا کرانے والے ایک بدقماش مافیا کے آٹھ چینی اور چار پاکستانی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ اس دھندے کے لئے غریب لڑکیوں کے والدین کو شادی کے اخراجات کے لئے 50 ہزار دے دیئے جاتے تھے۔ گزشتہ روز منڈی بہائو الدین کے ایک محلے میں پولیس نے بروقت چھاپہ مار کر ایک ایسی شادی میں ملوث چینی نوجوان اور اس لڑکی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ انسانی سمگلروں کا یہ مذموم مافیا اس سے پہلے بیرون ملک جعلی پاسپورٹوں پر ضرورت مند افراد کو لاکھوں روپے لے کر ترکی اور یورپ بھیجتا تھا۔ اس کا محاسبہ شروع ہوا تو اس نے پاکستانی لڑکیوں کو چین بھیجنے کا دھندا شروع کر دیا۔ یہ جہنمی لوگ اب تک 96 پاکستانی بچیوں کو شادی کی آڑ میں چین بھجوا چکے ہیں جہاں انہیں زبردستی دھندے پر لگایا گیا ہے۔ اس بات کا انکشاف کسی طرح واپس بھاگ کر آنے والی ملتان کی ایک لڑکی نے کیا تو ایف آئی اے حرکت میں آ گئی۔ اس دھندے کے لئے چینی افراد کا ایک گروہ تیار کیا گیا اس کے ارکان شادی سے پہلے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ایف آئی اے ان 96 لڑکیوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گرفتار ہونے والے موجودہ گروہ کو پکڑنے کے لئے ایف آئی اے کا ایک اہلکار ایسی ایک شادی میں شریک ہوا۔ وہاں سے کچھ چینی افراد ’بارات‘ میں آئے ہوئے تھے۔ ان سے دوستی کر کے اس مافیا کا سراغ لگایا گیا تو اس خوفناک دھندے کا انکشاف ہوا۔ اب تک گرفتارشدہ اس مافیا میں شریک آٹھ چینی افراد اور چار پاکستانی افراد میں لاہور میں مقیم ایک چینی عورت ’’کیندس‘‘ بھی شامل ہے جو پاکستانی افراد کے ذریعے غریب لڑکیوں کے والدین سے رابطہ کر کے شادی کا جھانسہ دے کر چین سے لڑکوں کو بلاتی تھی۔ منڈی بہائوالدین سے جس لڑکی کو تحویل میں لیا گیا ہے اس کا خاندان نہائت غریب ہے۔ اس کی آٹھ لڑکیاں ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں کسی اخراجات کے بغیر شادی کا آسانی سے جھانسہ دیا جا سکتاہے۔ یہاں سوال ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ غضب خدا کا، 96 پاکستانی بچیاں سمگل ہو گئیں اور کسی ایجنسی، کسی نام نہاد این جی او نے کوئی نوٹس نہ لیا! ایک اور نوحہ!
قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے شدید مہنگائی کے مسئلہ پر خاصا ہنگامہ کیا اس میں بعض حکومتی ارکان بھی شریک رہے۔ کیسا ظلم ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر عوام دشمن سیاہ کار بنئے عوام کو لوٹ کر تجوریاں بھر رہے ہیں اور حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کی بجائے آئی ایم ایف کے آگے سر جھکائے کھڑی ہے! اور رمضان بازار!! عام بازار کے مقابلہ میں آلو کی قیمت میں صرف ایک روپے کی رعائت!! حکومت جوابدہ ہے کہ کیا ’مولیاں‘ پالک اور ٹینڈے ارجنٹائن یا پرتگال سے آتے ہیں؟ غریب لوگ افطار کے وقت لیموں کی سکنجبین سے روزہ کھول لیتے تھے اب رمضان بازار میں 400 روپے کلو! میرے گھر میں 40 روپے میں دو لیموں آئے۔ دونوں سوکھے ہوئے تھے، رس بالکل نہیں نکلا۔ قوم کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟۔ سارا زور اس بات پر لگایا جا رہا ہے کہ صدارتی نظام زیر غور نہیں ہے۔
٭سپریم کورٹ نے قصور کے دو مسلم لیگی رہنمائوں شیخ وسیم اختر اور احمد لطیف کی غیر مشروط معافی مسترد کر دی۔ ان پر الزام ہے کہ ان دونوں نے نوازشریف کی وزیراعظم کے عہدے سے نااہلی کے فیصلہ پر عدلیہ کے خلاف نعرے لگائے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے جرم میںان کی غیر مشروط معافی مسترد کر دی اور چھ چھ ماہ قید کی سزا سنا دی۔ دونوں نے سپریم کوورٹ میں اپیل کی، گزشتہ روز دونوں بار بار غیر مشروط معافی مانگتے رہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سخت ریمارکس دیئے کہ یہ فیشن بن گیا کہ عدالتوںاور ججوں کو گالیاں دو، پھر معافی مانگ لو۔ فاضل عدالت نے معافی کی درخواست مسترد کر دی تاہم سزا چھ ماہ سے کم کر کے ایک ماہ کر دی جو وہ پہلے ہی بھگت چکے ہیں۔ فیض آباد کے دھرنے میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے نام لے لے کر گالیاں دی گئیں بلکہ ان گالیوں کے پوسٹر دھرنے کے شرکاء میں تقسیم کر دیئے گئے!! اسلام آباد کی ایک عدالت پر حملہ کے دوران حملہ آوروں نے کیا زبان استعمال کی! اب تو عالم یہ ہو گیا ہے کہ وکیل اپنے خلاف فیصلہ پر ججوں پر حملے کر دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں جڑانوالہ میں ایک جج کا سر پھاڑ دیا گیا!! اس پر بھی غیر مشروط معافی مانگ لی جائے گی۔ اور غضب یہ کہ پنجاب بار کونسل نے جج کا سر پھاڑنے والے وکیل کا لائسنس اس بنا پر بحال کر دیا ہے کہ اس کی ضمانت کیوں منظور نہیں کی گئی؟

تازہ ترین خبریں