07:45 am
سانحہ چرار شریف 1995

سانحہ چرار شریف 1995

07:45 am

 مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہر طرف بدخصال بھارتیوں کا راج ہے ۔کشمیر بے سکون ہے۔ وادی رو رہی ہے ۔
 کشمیر جل رہا ہے ۔ بھارتیوں کے انسانیت سوز مظالم جاری ہیں ۔ نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ جان ۔
 کاروباری مراکز اور رہائشی مکانات کو جلایا جارہا ہے ۔ آج کشمیر جنت بے نظیر کی حسین ترین وادی  بھارتی فوجیوں کے غلیظ وجود سے ناپاک ہورہی ہے ۔ دیگر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ خاص طورپر مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت ، مقدس مقامات کی توہین ، خانقاہوں اور درگاہوں کو جلا دینا بھارتیوں کا معمول بن چکاہے ۔ یہی وجہ ہے مقبوضہ جموں وکشمیر کے چپے چپے پر بھارتیوں کے خلاف نفرت کی آگ  بھڑک رہی ہے ۔ 
10مئی 1995کا دن مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ۔ ٹھیک چوبیس (24)  سال پہلے  بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں سری نگر سے 35کلو میٹر دور چرار شریف  (بڈگام ) کی مشہور زمانہ خانقاہ جسے بھارت کا ساتواں عجوبہ بھی مانا جاتا ہے کو عید الاضحٰ کے دن جلا کر خاکستر کردیا تھا ۔ 
بھارتی فوجیوں نے (07) مارچ 1995کو مجاہدین کی موجودگی کا بہانہ بنا کر اسے محاصرے میں لے لیا ‘ اس وقت بھی گورنر راج تھا ۔دو ماہ محاصرے میں لینے کے باوجود جب کسی مجاہد کے موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہ ملا تو جان چھڑانے اور مسلمانوں کو ذہنی ،روحانی اذیت پہنچانے کیلئے عین عید کے دن آگ لگا دی ۔ جس سے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے بھارت میں بھارتی حکومت کے خلاف نفرت کی آگ پھیل گئی ۔
      بھارتیوں کے خوف کی وجہ یہ ہے ، کہ ،  مقبوضہ جمو ں وکشمیر کو اولیائے اللہ کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے کشمیر میں اسلام کی ترویج کیلئے اولیائے اللہ اورصوفیائے کرام نے انتھک محنت کی۔ یہ پاک ہستیاں،  نہ پوری ریاست بلکہ ہندوستان میں تبلیغ کا ذریعہ بنی ۔ مختلف علاقوں میں خانقاہیں اور مدرسے تعمیر کیے ۔
 دراز قد ،بہت ہی بارعب اور باوقار شخصیت کے مالک شیخ نورالدین نورانی ولی ایک عظیم المرتبت مقام   رکھتے ہیں ۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ قران پاک سے فارسی سے کشمیری زبان میں ترجمہ کرنا تھا ۔
 جس کی وجہ سے پورے کشمیر میں قران فہمی ہوئی ۔ 
 وہ چرار شریف میں خانقاہ کی جگہ عبادت اور تبلیغ میں مصروف رہتے تھے ۔شیخ نورالدین نورانی نے اسلام  کی تعلیمات عام کرنے کیلئے پورے کشمیر کا سفر کیا اپنے زمانے کے متعدد واقعات سے متاثر ہوکر شیخ   نورانی نے اپنی شاعری سے فلاسفی تک کے بہترین کام سرانجام دئے ۔ انہوں نے کشمیری زبان میں شاعری کرکے اسے عوام کی تربیت کیلئے استعمال کیا ۔ ان کی شاعری اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نیکی کی   ترغیب پر مرکوز ہے ۔ 
شیخ نورالدین نورانی ولی 842ھ بمطابق 1440عیسوی میں 63سال کی عمر میں وفات پائی   ان کے جنازے میں 9لاکھ افراد نے شرکت کی ۔ جن میں اس وقت کے بادشاہ زین العابدین بھی  شرکت کی ۔ ان کی وفات کے 400سال بعد ایک افغان گورنر عطا محمد خان نے ان کے نام پر سکے بھی  جاری کئے ۔ 
 بھارتی فوجیوں نے اس خانقاہ کو آگ لگانے کے بعد دہشتگردی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چرار شریف   کے پورے قصبے کو آگ لگادی سینکڑوں گھر اور کاروباری مراکز جل کر خاک ہوگئے ۔تین ہزار سے زائد لوگ بے گھرہوئے ۔ چرار شریف کی ہولناک آگ نے بھارت کے نام نہاد سیکولرزم کو بے نقاب کیا   بلکہ بھارتیوں کی توسیع پسندی قتل وغارت اور مسلم دشمنی بھی کھل کر سامنے آگئی ۔
   آج 2019میں بھی تحریک آزادی کشمیر پہلے سے بہت زیادہ قوت سے جاری ہے ۔بھارتی فوج نے جدوجہد کے خلاف ایک طرف تو قتل وغارت گری اور املاک کو تباہ کرنے کی کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروع کرنے مساجد ،خانقاہیں اور درگاہیں بھی بھارتی دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہیں ۔
بھارت یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کررہا ہے ۔اس کا مسلم دشمن رویہ کشمیریوں   کے جذبہ آزادی کو مزید تقویت دے رہا ہے ۔انہیں یقین ہے کہ بھارتی تسلط میں ان کا مستقبل ،  دینی حمیت اور ملی غیرت محفوظ نہیں رھ سکتے ۔ اسی لئے ان کا ایک ہی مقصد ہے ۔بھارتی قبضہ سے آزادی 

تازہ ترین خبریں