07:46 am
پڑوسیوں ے خلاف ہندتوا بھارت کی گریٹ گیم

پڑوسیوں ے خلاف ہندتوا بھارت کی گریٹ گیم

07:46 am

بی بی سی سے چند رو ز پہلے گفتگو کرتے ہوئے سری لنکا کے آرمی چیف جنرل مہیش نے انکشاف کیا تھا کہ خودکش حملہ آور تربیت کے لئے بھارت گئے تھے اور کشمیر‘ بنگلور‘ کیرالہ بھی گئے تھے۔ جنرل مہیش کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والوں کے حوالے سے ایسی تما م معلومات ان کے پاس موجود ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کو ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ حملہ آور ذہن کو توحید جماعت سے وابستہ مسلمان بتایا جاتا ہے۔ داعش نے شائد اس کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی مگر قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ماضی میں سری لنکا میں تامل نسل جو کہ مسلمان بتائے جاتے ہیں وہ بدھ مت مذہب رکھتی نسل کے ساتھ فسادات کشمکش کا حصہ تھا۔ بد ھ مت سری لنکا میں  اکثریتی مذہب ہے۔ مسلمان‘ ہندو‘ مسیحی تو اقلیت ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ مسلمان اقلیت سری لنکا میں دوسری اقلیت یعنی مسیحیوں کے خلاف کیوں استعمال ہوئی؟ اس مسلمان اقلیت کو دوسری سری لنکا کی اقلیت کے خلاف استعمال کرنے کا طریقہ اور سوچ کیسے اور کیوں پیدا ہوئی؟ کیا یہ تہذیبوں کے درمیان کشمکش کے نظرئیے کو فروغ دیتا عمل ہے؟ مگر دوسری طرف قابل غور بات یہ ہے کہ آر ایس ایس اور اس کا سیاسی و حکومتی وجود‘ بی جے پی‘ برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دو ٹوک نظریہ اور عمل رکھتا ہے۔ ساتھ ہی دلت ہندوئوں کے خلاف بھی کیونکہ ہندو مذہب کی ذات پات کی مذہبی تقسیم کے سبب دلت بہت کم ہیں مگر آر ایس ایس مسیحیت کے خلاف بھی تو دو ٹوک رہی ہے۔ ذرا بھارت کے ماضی میں جھانکیں تو مسیحی تعلیمی اداروں‘ عبادت گاہوں‘ ہسپتالوں‘ کاروباری مراکز پر انتہا پسند ہندو اسی طرح حملے کرتے‘ آگ لگاتے۔ قتل کرتے تھے جیسے بی جے پی اقتدار کے حصول کی فضا تیار کرتے ہوئے مسلمانوں سے دشمنی‘ گائو ماتا کے تحفظ کی آڑ میں مسلمانوں کاسماجی و معاشرتی اور معاشی قتل ہوتا رہا ہے‘ جیسے بابری مسجد کا انہدام ہوا تھا اور اب تلنگا میں 400 سالہ پرانی مسجد کا انہدام۔
 
کیا آر ایس ایس نے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسیحیت اور مسیحی عبادت گاہوں اور وہ ہوٹل جو سری لنکا میں مغربی مسیحی ممالک کے سیاحوں کے قیام کی شہرت رکھتے ہیں ان سب کو دہشت گردی کا نشانہ بنوا کر خود کو ہندو ازم کا نمائندہ بتایا ہے یا اکھنڈ بھارت کام۔ ماضی میں اقلیت تامل اور اکثریت بدھ مت کے مابین گوریلا جنگ ہوتی تھی اور بھارتی حکومت مدد اس  میں بدھ مت والوں کو اندرا گاندھی کے زمانے میں دی گئی تھی۔ کیا بھارت نے اس مرتبہ کھیل کو نئے سرے سے ترتیب دیا ہے؟ یعنی سری لنکا میں  عدم استحکام کاحصول تو ہو مگر یہ عدم استحکام تامل مسلمانوں اور بدھ مت مذہب والوں کے درمیان ماضی کی تلخیوں کا احیاء نہ ہو بلکہ تامل مسلمان جو  توحید جماعت یا داعش و القاعدہ سے تربیت یافتہ بتائے جاتے ہیں ان کا واضح‘د و ٹوک استعمال سری لنکا کی دوسری اقلیت کے ساتھ کشمکش کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے۔ کیا یہ محض دو اقلیتوں میں نفرت و دشمنی کا احیاء لئے ہوئے ہے یا سری لنکا کا جغرافیائی عدم استحکام مقصد رکھتا ہے۔
اگر ہمیں یاد ہو تو لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر ماضی میں حملہ ہوا تھا؟ اس حملے میں بھی مذہبی جنونی مسلمان ہی استعمال ہوئے تھے۔ اگر مذہبی جنونی کرداروں کا جو خود کو مجاہد بتاتے رہتے ہیں‘ ان کے بھارت کے ہاتھوں استعمال کے سلسلے  کو غور سے دیکھتا ہوں تو یہ عمل مجھے افغانستان سرحد سے وابستہ خطہ زمین کا پاکستانی قبائلی علاقوں میں موجود غیور مسلمانوں کے خلاف استعمال اور ریاست پاکستان کے خلاف استعمال میں بھی وہی یکسانیت دکھائی دیتی ہے جو چند بھارتی جنونی مسلمانوں کے بتائے ہوئے سری لنکا کے مسیحی چرچ اور ہوٹلوں میں  ایسٹر اجتماع میں تباہی لانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ کیا یہ مسلمان ہی استعمال ہوئے یا مسلمانوں کے روپ میں کوئی مکتی باہنی ہے۔
ہمارے ایک جنرل نے پشتون تحفظ تحریک کے افراد کے حوالے سے بات کی تھی آرمی چیف نے بھی کی تھی‘ وزیراعظم نے بھی کی ہے کہ پشتون تحفظ تحریک کے کچھ افراد افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ  سے رابطے میں تھے؟ بھارتی قونصلیٹ کے ساتھ صرف مالی مدد کے لئے تھے یا سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے جبکہ بلوچستان میں حقوق کی جنگ بھارت کا وجود حقیقت ہے۔ حیرت اور تعجب ہے کہ ہماے میجر جنرل کی دو ٹوک گفتگو کے بعد افغانستان کے اندر سے ساٹھ ستر افراد نے سرحد پر باڑ لگاتے ہمارے چند فوجیوںپر حملہ کیا۔کچھ شہادتیں ہوئیں اور کچھ ہمارے فوجی شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ افغانستان سے آنے والے حملہ آور اپنا کام مکمل کرکے واپس افغانستان لوٹ گئے۔ مجھے خوشی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے وزیراعظم عمران خان سے فون پر بات کی۔ دونوں حکمرانوں میں خوشگوار عمل کے لئے جذبہ قابل تحسین ہے۔ مگر یہ کیسے ہوگا کہ ہو بھارت جو لاہور میں چند جنونی مسلمانوں کو استعمال کرکے سری لنکا کی مہمان  کرکٹ ٹیم پر حملہ کروانے کا عمل رکھتا ہے ‘ جو کشمیر میں خود مسلمانوں  کے سیاسی و سماجی و معاشی قتل عام کے لئے طویل ترین فوجی قیام اور فوج کا استعمال رکھتاہے۔ وہ آر ایس ایس  اور اس جیسی دوسری ہندو انتہا پسند تنظیموں  جو ماضی میں مسلمانوں کی طرح بھارت میں موجود مسیحی عبادت گاہوں‘ تعلیمی اداروں‘ کاروباری مراکز کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے تھے۔ 
سری لنکا میں یہی انتہا پسندانہ ذہن چند جنونی مسلمانوں کو استعمال کرکے مسیحی سری لنکن اقلیت کو نشانہ بناتا ہے تاکہ سری لنکا کی عدم استحکام سے دوچار ہو۔ پاکستان میں افغانستان کے اندر سے قونصلیت سے مدد فراہم کرکے چند پاکستانی پشتونوں کو استعمال کرکے سیاسی حقوق کے لئے اور پشتون نعرہ زنوں کے استعمال سے پاکستان کے قبائلی غیور مسلمانوں کی سرزمین کا استعمال تاکہ مسلمان پاکستانی جغرافیہ عدم استحکام سے دوچار ہو ۔ کیا یہ سب بھارت کی پڑوسیوں کے خلاف گریٹ گیم ہے؟  سوال یہ بھی ہے کہ بھارت جو اس وقت انتہا پسند ہندتوا ہوکر اسلام دشمن اور مسلمان دشمن ہے اس کے ہاتھوں اکثر مسلمان اتنی آسانی سے کیونکہ آلہ کار بن کر استعمال ہو رہے ہیں؟

تازہ ترین خبریں