07:53 am
فیضان تراویح

فیضان تراویح

07:53 am

میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی بارگاہ میں اُجرت دے کرمیِّت کے ایصالِ ثواب کیلئے خَتْمِ قراٰن وذکرُ اللہ کروانے سے متعلق جب اِسْتِفتاء پیش ہوا تو جوا باً ارشاد فرمایا:’’ تلاوتِ قرآن وذکر الٰہی پر اُجرت لینا دینا دونوں حرام ہے۔لینے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں اور جب یہ فِعلِ حرام کے مُرتَکِب ہیں تو ثواب کس چیز کا اَموات(یعنی مرنے والوں) کو بھیجیں گے؟گناہ پر ثواب کی اُمّید اور زیادہ سخت واَشَد(یعنی شدید ترین جُرم) ہے۔اگر لوگ چاہیں کہ ایصالِ ثواب بھی ہو اور طریقۂِ جائزہ شَرْعِیہ بھی حاصِل ہو (یعنی شرعاً جائز بھی رہے ) تو اُوس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دو گھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اُتنی دیر کی ہرشَخْص کی مُعَیَّن(مقرّر) کر دیںمَثَلاً پڑھوانے والا کہے ،میں نے تجھے آج فُلاں وَقْت سے فُلاں وَقْت کیلئے اِ س اُجرت پر نوکر رکھا (کہ) جو کام چاہوں گا لوں گا۔وہ کہے ، میں نے قَبول کیا۔ اب وہ اُتنی دیر کے واسطے اَجِیر(یعنی مُلازِم) ہو گیا۔ جو کام چاہے لے سکتا ہے اس کے بعد اُوس سے کہے فُلاںمَیِّت کے لئے اِتنا قراٰنِ عظیم یا اِس قَدَر کلِمۂِ طیِّبہ یا دُرُودِ پاک پڑھ دو۔ یہ صورت جواز (یعنی جائز ہونے) کی ہے۔‘‘  (فتاویٰ رضویہ مخرجہ، ج۱۰،ص۱۹۳،۱۹۴ )
 
اِ س مبارَک فتویٰ کی روشنی میں تراویح کیلئے حافِظ صاحِب کی بھی ترکیب ہوسکتی ہے، مثلاً مسجد کی کمیٹی والے اُجرت طے کرکے حافظ صاحب کو ماہِ رمضان المبارَک میں نماز عشاء کیلئے امامت پر رکھ لیں اور حافظ صاحب بِالتَّبَع یعنی ساتھ ہی ساتھ تراویح بھی پڑھا دیا کریں کیوں کہ رمضان المبارک میں تراویح بھی نَمازِ عشاء کے ساتھ ہی شامل ہوتی ہے‘ یا یوں کریں کہ ماہِ رمضان میں روزانہ تین گھنٹے کیلئے (مثلاً رات 8 تا 11) حافِظ صاحِب کو نوکری کی آفر کرتے ہوئے کہیں کہ ہم جو کام دیں گے وہ کرنا ہوگا،تنخواہ کی رقم بھی بتادیں۔ اگر حافِظ صاحِب منظور فرمالیں گے تووہ ملازم ہو گئے۔ اب روزانہ حافِظ صاحِب کی ان تین گھنٹوں کے اندر ڈیوٹی لگادیںکہ وہ تراویح پڑھادیاکریں۔ یادرکھئے! چاہے امامت ہو یا خطابت ، مؤَذِّنی ہو یا کسی قسم کی مَزدوری جس کا م کیلئے بھی اِجارہ کرتے وقت یہ معلوم ہو کہ یہاں اُجرت یاتنخواہ کا لین دَین یقینی ہے توپہلے سے رقم طے کرنا واجِب ہے،ورنہ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہوں گے۔ ہاں جہاں پہلے ہی سے اُجرت کی مقررہ رقم معلوم ہو مَثَلاًبس کاکرایہ، یابازارمیںبوری لادنے ، لے جانے کی فی بوری مزدوری کی رقم وغیرہ۔ تواب باربارطے کرنے کی حاجت نہیں۔یہ بھی ذِہن میں رکھئے کہ جب حافِظ صاحِب کو (یاجس کوبھی جس کام کیلئے) نوکر رکھا اُس وقت یہ کہہ دینا جائز نہیں کہ ہم جو مناسب ہوگا دے دیں گے یا آپ کو راضی کر دیں گے ،بلکہ صَراحَۃً یعنی واضِح طورپر رقم کی مِقدار بتانی ہوگی، مثلاً ہم آپ کو ۱۲ ہزار روپے پیش کریں گے اور یہ بھی ضَروری ہے کہ حافِظ صاحِب بھی منظور فرمالیں ۔اب بارہ ہزاردینے ہی ہوں گے، چاہے چندہ ہوسکے یانہ ہوسکے۔ ہاں حافِظ صاحِب کو مطالَبہ کے بِغیر اگر اپنی مرضی سے طے شدہ سے زائد دے دیں تب بھی جائز ہے۔جو حافِظ صاحِبان، یانعت خوان بِغیر پیسوں کے تراویح ، قراٰن خوانی یا نعت خوانی میں حصہ نہیں لے سکتے وہ شرم کی وجہ سے ناجائز کام کا ارتِکاب نہ کریں۔ میرے آقااعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابِق عمل کرکے پا ک روزی حاصِل کریں اور اگر سخت مجبوری نہ ہو تو حیلے کے ذَرِیعے بھی رقم حاصِل کرنے سے گریز کریں کہ جس کاعمل ہوبے غرض اُس کی جزاکچھ اور ہے۔ایک امتحان سخت امتحان یہ ہے کہ جو ملنے والی رقم قَبول نہیں کرتااُس کی کافی واہ !واہ! ہوتی ہے اور وہ بے چارہ اپنے آپ کونہ جانے کس طرح ریاکاری سے بچاپاتا ہو گا!
جہاں تراویح میں ایک بار قرآن پاک کی تلاوت کی جائے وہاں بہتر یہ ہے کہ ستائیسویں شب کو ختم کریں۔ رقت و سوز کے ساتھ اِختِتام ہو اور یہ اِحساس دل کو تڑپا کر رکھ دے کہ میں نے صحیح معنوں میں قراٰنِ پاک پڑھا یاسنا نہیں،کوتاہیاں بھی ہوئیں،دل جَمعْی بھی نہ رہی،اِخلاص میںبھی کمی تھی۔صد ہزار افسوس !دُنیوی شخصیت کا کلام تو توجُّہ کے ساتھ سنا  جاتا ہے مگر سب  کے خالِق و مالِک اپنے پیارے پیا رے اللہ رب العزت عزوجل کا پاکیزہ کلام دھیان سے نہ سنا، ساتھ ہی یہ بھی غم ہو کہ افسوس ! اب ماہِ رمضان چند گھڑیوںکا  مہمان رہ گیا، نہ جانے آئند ہ سال اس کی تشریف آوَری کے وَقت اس کی بہاریں لوٹنے کیلئے میں زندہ رہوں گایا نہیں!اِس طرح کے تصوُّرات جما کر اپنی لا پرواہیوں پر خود کو شرمندہ کرے اور ہو سکے تو روئے اگر رونا نہ آئے تو رونے کی سی صورت بنائے کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہے۔ اگر کسی کی آنکھ سے محبت قرآن و فراقِ رمضان میں ایک آدھ قطرۂ آنسو ٹپک کر مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہو گیا تو کیا بعید کہ اُسی کے صدقے خدائے غفار عزوجل سبھی حاضرین کو بخش دے۔ 

تازہ ترین خبریں