07:54 am
  ایسے اعمال جن کے کرنے سے فرشتے نازل ہوتے ہیں

ایسے اعمال جن کے کرنے سے فرشتے نازل ہوتے ہیں

07:54 am

انسان اپنی ضروریات ،خواہشات اور حاجات کوپوراکرنے کیلئے دنیاوی اور ظاہری اسباب پراعتمادکرتاہے،مگر بے حد کوشش کے باوجوداپنی خواہشات کوپوراکرنہیں پاتا،اپنی چاہت کوپوراکرنے کیلئے ہردنیاوی طریقہ آزماتا ہے لیکن اس کی چاہت دھری کی دھری رہ جاتی ہے ،حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا مصائب اور مشکلات میں گھیراہواہے اور ان مصائب سے چھٹکا راحاصل کرنے کی کتنی ہی کوشش کرتاہے ،لیکن اس کی اُلجھنیں اسی طرح برقراررہتی ہیں ۔ بھٹکا ہوابندہ در ،درکی ٹھوکریں کھاتاپھرتاہے کبھی کسی آستانے پر ‘کبھی کسی درگاہ پر اور کبھی کسی بڑے عہدے پر فائز انسان تک رسائی کرتا ہے،اور کبھی ایسابھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی مشکلات کے حل کیلئے کسی صالح انسان سے دعاکرواتا ہے ،دعاکراناجائز ہے لیکن وہ ایسے طریقہ نہیں اپنا تا جس کے آپنانے سے نہ صرف اس کی ضرورت پوری ہوتی ہیں بلکہ اسکی دنیا اور آخرت دونو ںسنو ر جاتی ہیں۔
 
ان طریقوں میں سرفہرست وہ اعمال صالحہ ہیں جن کے کرنے سے نہ صرف اس کی ضرورت پوری ہوتی ہے بلکہ اس کی دنیا اور آخرت دنوں سنو رجاتی ہیں ان طریقوں میں سرفہر ست وہ اعمال صالحہ ہیں جن کے کرنے سے عرش کریم کارب خوش ہوکراپنے مقرب فرشتوں کوانسان کا معاون بناکرنازل فرمادیتا ہے ،یہ معاونت مختلف صورتوں میں ہوسکتی ہے ،فرشتوں کے نزول کاسبب بننے والے اعمال میں سے ایک عمل یہ ہے جسے امام احمد رحمۃ ُاﷲعلیہ نے اپنی کتاب ’’مسند احمد ‘‘میں نقل فرمایاہے کہ حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا ’’بیشک نبی کریم ﷺجب لوگوں کے ہاں روزہ افطار فرماتے تو اسے یہ دعا دیتے ،روزہ دار تمہارے ہاں روزہ افطار کرتے رہیں ،نیک لوگ تمہاراکھانا کھاتے رہیں اور فرشتے تمہارے ہاں نازل ہوتے رہیں ۔یہ حدیث فرشتوں کے نزول کی اہمیت کو واضح کرنے والی ہے ،اب فرشتوں کے نزول کی سعادت سے آگاہ ہوجانے کے بعد کون اس کارخیر سے پیچھے رہے گا ۔جن سعادت مند حضرات کیلئے فرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں وہ لوگ بھی ہیں جوخیرکی راہوں میں خرچ کرتے ہیں۔اس بات کی دلیل صحیحین میں موجو د ہے ،حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی کریم ﷺنے فرمایا ،کوئی دن ایسانہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر دوفرشتے نازل ہوتے ہیں ،ان میں سے ایک( دعاکرتے ہوئے کہتاہے)اے اﷲ!خرچ کرنے والے کوبدل عطا کر اور دوسرا(بددعاکرتے ہوئے )کہتاہے ۔اے اﷲروکنے والے (اﷲکی راہ میں خرچ نہ کرنے والے )کے نصیب میں تباہی کر(بخاری ومسلم )فرشتوں کے نزول کی دوسری دلیل مسند احمد اور صحیح ابن حبان میں موجو دہے ،حضرت ابو الدرداء رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ہرروزطلو ع آفتا ب کے وقت اس کے دونوں جانب دوفرشتے بھیجے جاتے ہیں اور وہ دونوں بلند آوازمیں پکا رتے ہیں ،جسے جن وانس کے علاوہ سارے زمین والے سنتے ہیں ،اے لوگوں اپنے رب کی طرف آؤ ،کفایت کرنے والا تھوڑا (مال) غافل کرنے والے زیادہ (مال سے )بہتر ہے اور غروب آفتاب کے وقت اس کے دونوں جانب دوفرشتے بھیجے جاتے ہیں اور وہ دونوں بلند آواز میں پکارتے ہیں جسے جن وانس کے علاوہ سارے زمین والے سنتے ہیں ،اے اﷲخرچ کرنے والے کو بدل عطا فرما اور روکنے والے کے نصیب میں تباہی کر‘‘۔
اے اﷲ!فرشتوں کے نزول اوران کی دعاؤں کی سعادت ہمارے نصیب میں بھی کردے اور ہمیں دل کھو ل کراپنی راہوں میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما۔بد سلوکی کے باوجودحسن سلوک کرنے والے کیلئے فرشتہ ناصرف نازل ہوتا ہے بلکہ اس وقت تک اس کی مددمیں رہتا ہے جب وہ حسن سلوک کرتارہتا ہے ،ایسے خوش بخت شخص کا تذکرہ مسلم شریف میں موجودہے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی ’’اے اﷲکے رسول !میرے کچھ رشتہ دارایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں ،میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ براسلو ک کرتے ہیں ،میں ان کیساتھ تحمل وبردباری کامظاہرہ کرتاہوں اور وہ میرے ساتھ نادانی سے پیش آتے ہیں ‘‘آپ ﷺنے فرمایااگرایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے کہاہے تو گویا ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے،ان کے مقابلہ میں تیرے ساتھ ہمیشہ اﷲکی طرف سے ایک مددگاررہے گا جب تک تیرارویہ ایسا رہے گا ،صحیحین کی ایک اور حدیث جس میں فرشتے کے نزول اور مددکے علاوہ اوربھی فوائد ہیں،ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا’’جو شخص اپنی روزی میں فراخی اورعمرمیں اضافہ چاہتاہے تووہ صلہ رحمی کرے۔
وہ سعادت مندلوگ جو اپنے بیماربھائی کی عیادت کیلئے جانے والے ہیں ان حضرات کے اس پر خلوص عمل کو دیکھ کر اﷲتعالیٰ اپنی مقرب مخلوق فرشتوں کوان کیلئے نازل ہونے کا حکم دیتاہے اور یہ فرشتے ان خوش بخت حضرات کیساتھ چل کر بیمارتک پہنچتے ہیں۔رسول اﷲﷺکوفرماتے سنا ’’جب کوئی مسلمان دن کی کسی گھڑی میں اپنے (مسلمان )بھائی کی عیادت کرے تو اﷲتعالیٰ ستر ہزارفرشتے بھیجتا ہے جو شام تک اس کے لئے دعاکرتے ہیں ‘‘مسند احمد کی ایک اور روایت میں جس کے راوی حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ میںنے رسول اﷲﷺسے سنا جو صبح سویرے مریض کی عیادت کے غرض سے نکلے توسترہزارفرشتے اس کیساتھ چلتے ہیں اورشام تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اسے جنت میں ایک باغ عطا کیاجاتا ہے اور اگرشام کے وقت اس کی بیمارپرسی کیلئے روانہ ہوتو ستر ہزارفرشتے اس کیساتھ چلتے ہیں اور وہ سب صبح تک اس کیلئے مغفرت کی دعاکرتے رہتے ہیں اور جنت میں اسے ایک باغ عطاکیاجاتاہے۔‘‘اگر غورکیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مریض کی عیادت کااجروثواب کاصلہ کس قدرعظیم ہے اﷲتعالیٰ ہمیں اس عظمت والے عمل کواپنانے کی توفیق عطافرمائے۔
جب بندہ اپنے مالک کی عطا کی گئی نعمتوں کاشکر اداکرتا ہے تو اﷲتعالیٰ اس کے شکر اداکرنے کو بے حد پسند کرتا ہے ،اور پھر کائنات کا رب اس بندے پرنعمت کو بڑھاتاہے اور اس کی قدردانی کرتاہے ۔اﷲتعالیٰ نے ارشادفرمایا،ترجمہ ’’اگر تم شکر گزاری کروگے توبے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا۔(القرآن )ایک سعادت مند جس نے اپنے رب کی قدردانی کی اس قدردانی کاصلہ انعامات میں اضافہ کیساتھ ساتھ اسے فرشتے کے نازل ہونے کی سعادت بھی میسر ہوتی ہے۔اور اسی طرح جن خوش نصیب لوگوں پرفرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں سے ایک قسم ان لوگوں کی ہے جوحالت طہارت میں (باوضو )سوتے ہیں ،یہ رات کو سفر کیلئے جب بستروں پرآتے ہیں توباوضوہوتے ہیں ،اﷲتعالیٰ ان کے وضوکے سبب ان کے لئے ایک فرشتہ مقررفرمادیتا ہے جو ان کیساتھ رات بسر کرتاہے ،وہ جب بھی رات کو کروٹ بدلتے ہیں تومقررکردہ فرشتہ ان کیلئے مغفرت کی دعاکرتاہے ۔

تازہ ترین خبریں