07:55 am
سزایافتہ قیدی کا جاہ و جلال

سزایافتہ قیدی کا جاہ و جلال

07:55 am

٭لاہور: داتا دربار کے باہر خودکش دھماکہ، پولیس کے 5 اہلکار 4 شہری شہید،24 اہلکار و شہری زخمی، وزیراعلیٰ کا پرانا ریکارڈ شدہ بیان، دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتےO نواز شریف جیل میں بند، جاہ و جلال کا مظاہرہ، جلوس، ٹرین روک دی گئی O وزرا سرکاری چائے نہیں پی سکیں گے، پابندی عائدOپاکستانی لڑکیوں کی چین میں سمگلنگ، مزید سات چینی و دوسرے افراد گرفتار O سندھ بنک میں کروڑوںکی زکوٰۃ خورد برد۔
 
لاہور میں داتا دربار کے باہر دوسرے دھماکے کی تفصیل خبروں کے صفحے پر موجود ہے۔ 10 افراد شہید 25 زخمی۔ ستم یہ کہ پولیس کی یہ گاڑی داتا دربار کی سکیورٹی کے لئے باہرکھڑی تھی اِس پر خود کش دھماکہ ہو گیا۔ یہ خود کش شخص کیسے آزادانہ اس جگہ پہنچا؟ دوسرا ستم وزیراعلیٰ کا بیان کہ دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے! یہ بیان وزیراعظم، تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ایسے واقعہ پر دیا کرتے ہیں۔اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ پنجاب اور بلاول کے بیانات کہ زخمیوں کا بہتر علاج کیا جائے۔ گویا یہ حکم نہ آتا تو اچھا علاج نہیں ہونا تھا! شہید اور زخمی ہونے والے بیشتر روزہ دار ہوں گے نریندر مودی کی درندہ اولادکو رمضان کے تقدس کا بھی خیال نہ آیا۔
٭ نوازشریف پھر جیل میں۔ جاہ وجلال کا مظاہرہ نہ چھوڑا۔ کارکنوں کے بڑے لشکر کے ساتھ جیل پر حملہ کی کیفیت، 7 مئی کو رات بارہ تک جیل پہنچنا تھا، اپنی طاقت دکھانے کے لئے وقت ختم ہونے کے نصف گھنٹہ بعد جیل میں داخل ہوئے۔ اس سے پہلے اپنے کارکنوں کو ہدائت کی کہ 70 سال سے جاری کھیل کو ختم کرنے کے لئے گلی گلی، کوچے کوچے میں پھیل جائیں اور عوام کو سڑکوں پر لائیں۔ (70 برسوں میں 30 برس شریف خاندان کی حکومت رہی۔ نوازشریف کے دور میں آصف زرداری نے جیل کاٹی) نوازشریف  کی ہدائت کی تعمیل کے لئے ان کے لشکرنے پہلا کام یہ کیا کہ قریب ہی کوٹ لکھپت سٹیشن پر ایک ٹرین روک دی اس میں سینکڑوں مسافر دیر تک سخت گرمی میں پریشان رہے۔ کیسا المیہ ہے کہ باپ جیل میں طویل قید کاٹ رہا ہے، باپ چھ ہفتے باہر بھی رہا۔ لندن میں مقیم بیٹے حال پوچھنے نہ آئے…!!
٭حکومت کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے میاں نوازشریف کے اس لشکر شاہی مظاہرے کو انوکھے لاڈلے کامظاہرہ قرار دیا ہے۔ کافی عرصہ پہلے میں نے بتایا تھاکہ ’’انوکھالاڈلا‘‘ کیا ہوتاہے۔ ہندوئوں کی روائت کے مطابق ان کے اوتار رام چندر نے چند ماہ کی عمرمیںچاند کو پکڑنے کامطالبہ کیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں آئینہ پکڑا دیاگیا وہ اس میں چاند دیکھ کر خوش ہو گیا۔ اس واقعہ پر موسیقاروں نے درباری راگ میں ایک خوبصورت گیت تیار کیا کہ انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند! کیسی انوکھی بات رے!! یہاں تھوڑا سا ذکر درباری راگ کا۔ یہ راگ مشہور گویے تان سین نے ایجاد کیا۔ سات سُروں کے اس راگ میں تین سُر کومل یعنی دھیمے، دو سُرتیور یعنی اونچے اور دوسرشُدھ یعنی مستقل ہوتے ہیں تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ راگ  شاہی درباروں کے لئے تیار کیا گیا، اسی لئے اسے درباری کہتے ہیں۔ اس سے شاہی درباروں کے رکھ رکھائو اور سنجیدگی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یہ دن رات کسی بھی وقت گایا جا سکتا ہے۔درباری راگ کو تمام راگوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اب کچھ باتیں انوکھے لاڈلے کے گیت کی۔ یہ گیت (دادرا) برصغیر کے ہر چھوٹے بڑے موسیقار نے گایا ہے۔ اس کے کچھ بول دیکھئے…’’جس تَن لاگی، وہ تَن جانے…جگ والے آئے سمجھانے… پاگل من کوئی بات نہ مانے! کیسی انوکھی بات رے! انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند رے!‘‘ درباری راگ کی ایک خوبصورت مثال، پروین شاکر کی غزل ’’کُوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی …اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی۔‘‘ مہدی حسن کی آواز!
٭معذرت! بیچ میں موسیقی چل پڑی۔ بی بی فردوس عاشق اعوان نے انوکھے لاڈلے کا ذکر کیا تو دھیان ادھر چلا گیا۔ میں تو اس خبر پر حیران تھا کہ تحریک انصاف ملک کی امیر ترین پارٹی ہے۔ اس کے پاس 31 کروڑ 66 لاکھ روپے، ن لیگ کے پاس 25 کروڑ 33 لاکھ، پیپلزپارٹی کے پاس 16 کروڑ 70 لاکھ روپے ہیں دوسری پارٹیاں جماعت اسلامی، جے یو آئی وغیرہ بھی کروڑ پتی ہیں، البتہ راولپنڈی کی لال حویلی کی بے چاری عوامی مسلم لیگ سب سے غریب ہے، صرف ایک لاکھ 38 ہزار روپے اور بس! ترس آ رہا ہے، لال حویلی کا خرچ کیسے چلتا ہو گا؟ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ سیاسی پارٹیوں کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی؟ یہ سادہ سی بات ہے۔ عام انتخابات کے موقع پر ہر سیاسی پارٹ الیکشن کے امیدواروں سے مختلف نشستوں کے لئے پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواستیں طلب کرتی ہے۔ ہر درخواست گزار سے ٹکٹ کے لئے 30 ہزار سے 50 ہزار تک فیس طلب کی جاتی ہے جو ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ بڑی بڑی پارٹیوں کی ٹکٹ کے لئے دس دس، بعض اوقات زیادہ امیدوار درخواستیں جمع کراتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک کو ٹکٹ دیا جاتا ہے، اس سے نئے سرے سے سپیشل فیس (لاکھوں میں) طلب کی جاتی ہے۔ ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلی کی 1100 سے زیادہ نشستیں ہیں۔ ان کے ہزاروں امیدوار ہوتے ہیں۔ ان امیدواروںکی بھاری فیسوں سے بڑی پارٹیوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں ان پر دولت کے ڈھیر برسنے لگتے ہیں۔ یہ فیس عام طور پر ان پارٹیوں کے سربراہوںکی ذاتی عملداری میں آ جاتی ہے۔ (بلاول زرداری کے غیر ملکی بنکوں میں پانچ کروڑ روپے) الیکشن کمیشن کے مطابق مختلف پارٹیوں پر بھاری دولت کی یہ برسات گزشتہ عام انتخابات کے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ مجھے لال حویلی کی عوامی مسلم لیگ کے ساتھ ہمدردی سی ہونے لگی تھی جو یہ سوچ کر رک گئی کہ لال حویلی نے تو خود تحریک انصاف کی ’ٹکٹ‘ پر الیکشن لڑا تھا، اس کے پاس امیدوار کہاں سے آتے؟ اس سے پہلے والے انتخابات میں ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ بات سمجھ میں آئی کہ کسی بااثر کا پلو پکڑ لو۔ سو ایسا کیا تحریک انصاف کے جلسوں میں پورا منہ کھول کر نعرے لگائے عمران خان کے لئے سڑکوں پر نکل آئو، مار دو یا مر جائو…‘‘ (ننکانہ کا جلسہ)۔ ظِلِّ سبحانی نے راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی ٹکٹ عطا کر دی، بونس میں ریلوے کی وزارت!
٭ ایک بہت سنجیدہ قسم کی خبر کہ تمام وزارتوںکے چائے پانی اور تحفے تحائف کے فنڈز ختم کر دیئے گئے ہیںاور حکم ہوا ہے کہ وزیر حضرات اپنے چائے پانی کے بل اپنی جیب سے ادا کریں!کتنا دُکھ بھرا حکم ہے! بے چارے غریب غربا قسم کے وزیر! سات سات لاکھ ماہوار تنخواہوںکے باوجود گھر کے اخراجات نہیں پورے ہوپاتے! اب مہمانوں کو قومی اسمبلی میں مہنگا کھانا (روٹی دو روپے، قورمہ 30 روپے، بریانی 30 روپے) اپنے پاس سے کھلانا پڑے گا، مہمان چائے بھی ضرور پئے گا! کتنی زیادتی ہے! ان غریب لوگوں کے ساتھ کتنی زیادتی ہے؟ ممکن ہے سرفراز سید کو کوس رہے ہوں جو بار بار چھاپتا رہا کہ قائداعظم کی زیرقیادت کابینہ کے پہلے اجلاس میں سیکرٹری نے پوچھا کہ سَر! چائے کس وقت دی جائے گی؟ قائداعظم برہم ہو گئے کہ ’’کیسی چائے! یہ لوگ گھروں سے ناشتہ کر کے اور چائے پی کر آئے ہیں، سرکاری خرچ پر چائے کیوں؟ صرف پانی چلے گا؟‘‘۔ قارئین کرام! میں اس فیصلہ پر اظہار تحسین کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کا جائزہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہر وزیر کے پاس کتنی سرکاری گاڑیاں ہیں۔ یہ تو وزیر ہیں، نیچے ڈپٹی کمشنروں کو کم از کم دو گاڑیاں کس لئے دی گئی ہیں؟
٭آخر میں خبر کہ توہین رسالت مقدمہ کی رہائی یافتہ آسیہ بی بی مستقل طور پرخاندان سمیت کینیڈا منتقل ہوگئی ہے۔ آسیہ پر کوئی قانونی پابندی نہیں تھی۔ سزائے موت ختم ہو چکی تھی پاکستان کی آزاد شہری کی حیثیت حاصل تھی، باہر جانے سے روکا نہیں جا سکتا تھا۔

تازہ ترین خبریں