08:47 am
  دلی اور واشنگٹن کے فتنہ گر  

  دلی اور واشنگٹن کے فتنہ گر  

08:47 am

 کاش جنوبی ایشیا ء میں امن کی بحالی کے دعویدار اپنی باتوں پر عمل بھی کر دکھاتے ! باتیں تو امن کی لیکن ہر عملی اقدام فساد کی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف۔  افغانستان کی مثال سامنے ہے۔ ڈیڑھ عشرے سے زائد فساد  کے کانٹے بونے  والا امریکہ اب فصل گل و لالہ کی امیدیں دلا رہا ہے۔ امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد چھلاوے کی سی رفتار سے دورے پر دورہ فرما رہے ہیں ۔ جو  افغان طالبان امریکہ بہادر کو خاطر میں نہیں لا رہے وہ بھلا لولی لنگڑی کٹھ پتلی افغان حکومت کو کیوں کر گھاس ڈالنے کی حامی بھریں گے ؟ امن کی راگنی گانے والے امریکہ کی نیت پر شک کرنے کی بعض  ٹھوس وجوہات افغان طالبان کو تذبذب میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہیں ! پہلی وجہ تو خود  امریکہ کاسابقہ اور حالیہ متنازعہ کردار ہی ہے ۔ معصوم افغان عوام کے خون کے چھینٹوں نے  امریکہ کے چہرے کو افغانیوں کے لیے بھیانک عفریت بنا دیا ہے ۔امریکی بیساکھیوں پر ڈولتی کٹھ پتلی افغان حکومت  کی حیثیت بھان متی کے ایسے کنبے کی سی ہے جو ذاتی مفادات کی خاطر افغان عوام کے مجموعی مفادات کو دائو پر لگانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی ۔
 
 امریکہ کے زیر سایہ تربیت پانے والی افغان نیشنل آرمی کی پیشہ ورانہ قابلیت کا یہ عالم ہے کہ اس وقت ستر فیصد سے زائد علاقے پر طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کا کنٹرول ہے ۔ بیشتر فوجی ملازمت کے بجائے یا تو بھگوڑے ہو جاتے ہیں یا پھر گھر بیٹھ کے تنخواہ وصول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ فوج کا اسلحہ بشمول دیگر آلات حرب و ضرب طالبان سمیت جنگجو گروہوں کو فروخت کر کے فوجی اہلکار قیمت وصول کرلیتے ہیں ۔ تین برس قبل افغان آرمی کی وردیوں کی تیاری کے ٹھیکوں میں کرپشن کا اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا ۔ حکومتی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ صدر اشرف غنی نے برملا اعتراف کیا تھا کہ اُن کی لولی لنگڑی حکومت امریکی امداد کی بیساکھی کے بغیر دوہفتے بھی نہیں نکال سکتی ۔ ایسی شدید خامیوں کے باوجود کٹھ پتلی افغان حکومت بھارت سے پینگیں بڑھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ بھارت کی شہہ پر افغان حکومت آئے روز پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ پر لفظی گولہ باری کی مشق جاری رکھتی ہے۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے  افغان سرزمین کا بے دریغ استعمال کرنے والے بھارت کے گروہوں میںٹی ٹی پی سمیت نصف درجن ایسے نام ہیں جو عوام اور سیکورٹی اداروں پر متعدد سنگین حملوں میں ملوث رہے ہیں ۔ اس سارے قضیے کا اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں پاکستان مخالف نیٹ ورکس امریکہ بہادر کی ناک کے نیچے فعال ہیں ۔ 
حالیہ دورے کے دوران صحافیوں کی جانب سے جب امریکی ترجمان ایلس ویلز سے  یہ سوال پوچھا گیا کہ آخر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے بھارت افغان سرزمین کیوں استعمال کر رہا ہے تو محترمہ نے تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے یہ جواب دیا کہ امریکہ کو فی الحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ۔ یہ مکارانہ جواب   امریکہ کی پاکستان دشمن پالیسی  عیاں کرنے کے لیے کافی ہے ۔ افغانستان میں داعش کا معنی خیز پھیلائو اور پہلے سے موجود بھانت بھانت کے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں خطے کے امن کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ رکاوٹیں کسی اور نے نہیں بلکہ امریکہ نے کھڑی کی ہیں ۔ اس امن دشمن پروگرام میں بھارت بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاحال مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ اگر توقعات کے برعکس افغانستان میں  نو من تیل دستیاب ہو بھی گیا اورامریکی  رادھا ناچتے ناچتے فوجی انخلاء کا کڑوا گھونٹ بھرنے پر راضی ہو بھی گئی تو بھارتی راکھشس اور ایرک پرنس کے کرائے کے قاتل تو پھر بھی افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجاتے رہیں گے اور  پاکستان پر حملے  بھی جاری رہیں گے ۔  
مذاکرات کی شکل میں امریکہ بہادر نے جو جال بچھایا ہے اُس سے بچنے کے لیے پھونک پھونک کے قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ خطے میں چین اور روس کے بڑھتے تسلط کو روکنے کے لیے پاکستان جیسے اہم اتحادی کو معاشی اور عسکری محاذ پر  متواتر زخم لگا کے  مفلوج بنا نے کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کر دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ہٹ مین ہماری معاشی شہ رگ تک آن پہنچے ہیں ۔ مغربی اور مشرقی سرحدات پر کشیدگی کی آگ بھڑک رہی ہے ۔ ملک کے طول و عرض میں پے در پے دہشت گردی کے واقعات سے دشمن کے عزائم عیاں ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بعض عقل کے اندھے پی ٹی ایم جیسی مشکوک  تنظیموں کی سر گرمیوں کو معمول کی سیاسی سرگرمی قرار دے کے اپنے غیر ملکی آقائوں کا حقِ نمک ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستان ہی نہیں خطے کا ہر وہ ملک نشانے پر ہے جو امریکی عزائم کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ 
سری لنکا میں مسیحی تہوار پر دہشت گرد حملوں کا داعش سے پراسرار تعلق اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو کی سرزمین پر داعش کا ظہور بعض حلقوں کے لیے شائد حیرت انگیز ہو لیکن عالمی قوتوں کے مزاج شناس حلقوں کے لیے یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔  آئی ڈی ایس اے  اور تھکشا شیلا انسٹی ٹیوٹ  سمیت بھارت کے بیشتر تھنک ٹینک ان خدشات کا اظہار مدت سے کرتے چلے آئے ہیں ۔ بھارت کے مسلم دشمن رویے خصوصاً کشمیر میں روا رکھے گئے انسانیت سوز مظالم سے بننے والی فضا میں داعش جیسی تنظیموں کے لیے جنگجو بھرتی کرنے اور مزاحمتی جذبات کا پرچار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ سری لنکا میںبھارت سے  ہونے والی دہشت گردی نے ان خدشات کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے ۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ داعش اب امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے بھارت کو اپنی نئی پناہ گاہ بناتے ہوئے دیگر ممالک میں ہی کاروائیاں کرے گی یا ضرورت پڑنے پر را کی ملی بھگت سے بھارت کی سر زمین پر بھی ایسی واردتیں کرے گی جن کی ذمہ داری پڑوسی ممالک پر ڈال کے دلی اور واشنگٹن کے فتنہ گر اس خطے میں بدامنی کی آگ بھڑکاتے رہیں گے۔

تازہ ترین خبریں