08:48 am
غیر ملکی قرضے

غیر ملکی قرضے

08:48 am

اگر کسی شخص کی آمدن کم ہو اور اخراجات زیادہ ہوں تو وہ اکثر قرض لینے کی عادت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ آمدنی بڑھانے یا اخراجات کم کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ قرضوں پر اپنا انحصار بڑھاتا رہتا ہے اور اس تکلیف دہ صورتحال کو اپنی مجبوری قرار دیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال ان ممالک کا بھی ہوتا ہے جن کی برآمدات کم ہوں اور درآمدات زیادہ ہوں۔ اکثر ایسے ملک اپنے تجارتی خسارے کو غیر ملکی قرضوں سے پورا کرتے رہتے ہیں۔ شروع شروع میں یہ قرضے آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں لہٰذا یہ ممالک اپنے تجارتی خسارے کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کی بجائے ان غیر ملکی قرضوں تلے دبتے چلے جاتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارا پیارا پاکستان بھی انہی ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ ہماری ہر گزشتہ حکومت نے زرمبادلہ کی کمی کو قرضے لے لے کر پورا کیا۔ اور موجودہ حکومت بھی یہی راستہ اختیار کر رہی ہے۔
 
جس طرح ایک غیر ذمہ دار شخص اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے محنت نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے ذاتی آرام یا خواہشات کو قربان کرنے کی تکلیف اٹھاتا ہے بالکل اسی طرح ہماری حکومت بھی حقائق کا سامنے کرنے کی بجائے غیر ملکی قرضوں کو محض ایک مجبوری قرار دے کر تیزی سے ایک دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو میری سادگی پر خوب ہنس لیں مگر ہماری زرمبادلہ کی مشکلات کا حل بھی آمدنی بڑھانے اور خرچے گھٹانے کے نسخے میں موجود ہے۔
ہمیں زرمبادلہ کہاں سے ملتا ہے؟ ہماری حکومت برآمدات بڑھانے کیلئے محنت کیوں نہیں کرتی۔ ہر آنے والی حکومت جانے والی حکومت سے زیادہ بڑا لٹھ لے کر صنعت کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ اس پر ٹیکسوں کا انبار لگاتی ہے۔ اس کے استعمال کی اشیاء مثلاً بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھاتی ہے۔ اس پر چالیس عدد سرکاری محکموں کے کارندے چھوڑ دیتی ہے کہ ان کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا جائیں اور پھر یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ذرا سو چیے! ہمارا ملک کتنی عجیب پالیسیاں بناتا ہے۔ گھریلو صارفین کیلئے بجلی کے نرخ کم ہیں اور صنعتوں کے لئے زیادہ ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ صنعت کو مفت یا سستی بجلی دی جائے تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں۔ چین ایک عرصے تک اس پالیسی پر کار بند رہا اور اب دیکھیں وہ کہاں کھڑا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اگر کوئی فیکٹری زیادہ کام کرتی ہے اور زیادہ بجلی استعمال کرتی ہے تو اس کا نرخ گھٹنے کی بجائے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دنیا میں ہر جگہ کسی چیز کی زیادہ خریداری پر ڈسکائونٹ دیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں بجلی اور گیس کے زیادہ صنعتی استعمال پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح ہم اپنی صنعت کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر رہے ہیں۔ کیا یہ بات سمجھنا کوئی بہت ہی مشکل کام ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لئے ڈبلیو ٹی او یا آئی ایم ایف کے ضابطوںس کی پرواہ کئے بغیر ہمیں اپنے صنعت کاروں کو مراعات دینی ہوں گی۔ ان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ترک کرکے انہیں لاڈلوں کی طرح ٹریٹ کرنا ہوگا۔ ساری دنیا یہی کرتی ہے۔ ذرا سوچیں تو سہی۔ ہمارے ملک کی قومی پیداوار صنعت کا حصہ صرف 18فیصد ہے مگر وہ ملک کا 64فیصد ٹیکس ادا کرتی ہے۔
اب آئیے درآمدات کم کرنے کی طرف! صنعتی خام مال کی درآمد کی تو خیر بہت ضرورت ہے مگر دیگر تمام درآمدات پر مزید ٹیکس لگانے بلکہ کافی ساری اشیاء پر تو بالکل پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ہمارا ملک کیوں بسکٹس‘ فروٹ‘ جوسسز اور اسی طرح کی دیگر اشیاء امپورٹ کرتا ہے۔ یہ سب ہمارے ملک میں بنتی ہیں۔ اسی طرح کپڑوں‘ جوتوں‘ چمڑے کی دیگر اشیاء کی درآمد بھی بالکل بند کر دینی چاہیے۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ پاکستان کے بنے کپڑے جوتے وغیرہ کوالٹی میں مغربی ممالک سے کچھ کم ہوتے ہیں تو پھر کیا ہوا کیا ہم اپنے آرام اور شان میں تھوڑے عرصے کے لئے تھوڑی سی کمی گوارا نہیں کر سکتے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر میرا بیٹا تعلیم میں تھوڑا نالائق ہو تو کیا مجھے اسے گھر سے نکال کر پڑوسی کے بیٹے کی فیس ادا کرنی شروع کر دینی چاہیے؟ بھلا یہ کیا تک ہے۔ چین نے ایک زمانے تک ایسی تمام اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی عائد رکھی جو چین میں بن سکتی تھیں۔ رفتہ رفتہ ان کا معیار بڑھتا گیا۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوسکتا ہے ہمیں صرف تھوڑی سی قربانی دینی ہوگی اور تھوڑا صبر کرنا ہوگا۔
اسی تصویر کا ایک رخ کاریں اور پٹرولیم مصنوعات ہیں۔ اولاً تو پاکستان جیسے غریب ملک میں اتنی زیادہ کاروں کی کیا ضرورت ہے۔ ہم سب کی ناک اتنی اونچی کیوں ہے کہ ہم بس یا کسی عوامی سواری میں سفر نہیں کر سکتے۔ ہر بندہ جس کی تنخواہ چالیس پچاس ہزار سے وہ قسطوں پر کار لے لیتا ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمارے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ناقص ہے لہٰذا ذاتی کار ضروری ہے۔ جناب حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ہمارے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام اس لئے بہتر نہیں ہو رہا کیونکہ یہاں ذاتی کاروں کی بہتات ہے۔ ہمیں اپنی چادر کے حساب سے پائوں پھیلانے چاہئیں۔ اولاً تو تمام کاروں کی امپورٹ پر پابندی ہونی چاہیے۔ خاص کر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ اس سے ملک میں بننے والی کاریں ضرور مہنگی ہو جائیں گی مگر اس سے بھی ہمارے ملک کو پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کم کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمت مصنوعی طور پر بہت کم ہے۔ حکومت اس پر ٹیکس بڑھا کر تین فوائد حاصل کر سکتی ہے۔ اولاً تو لوگ ذاتی کاموں سے باز آجائیں گے۔ دوئم حکومت کی ٹیکس آمدن بڑھے گی اور سوئم پٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ یہ ضرور ہے کہ متوسط طبقے کو تکالیف ہوں گی مگر یہ قربانیاں ایک روشن مستقبل کیلئے ضروری ہیں۔ حکومت کو ایک ماں کی طرح عوام کو ایسی تمام اشیاء کے استعمال سے باز رکھنا چاہیے جو ہمارے مستقبل کو تاریک کر رہی ہیں۔ پٹرول کم ازکم ایک پائونڈ یعنی 185 روپے فی لٹر ہونا چاہیے۔ اسی طرح تمام کاروں پر ڈیوٹی میں اضافہ کرکے ان کے استعمال کو محدود کرنا چاہیے تاکہ عوام مجبوراً پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف راغب ہوں۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کا طوفان آجائے گا۔ وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں بننے والی کسی بھی چیز کی کل قیمت میں ٹرانسپورٹ کی لاگت دو یا ڈھائی فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اگر حکومتی ادارے چوکس رہیں تو پٹرول کی قیمت بڑھنے سے مجموعی طور پر اشیاء کی قیمتوں پر بہت کم اثر پڑے گا۔ پھر یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کاروں میں استعمال ہونے والا پٹرول اور ہائی آکٹین زیادہ مہنگا ہو اور بسوں اور ویگنوں میں استعمال ہونے والا ڈیزل زیادہ مہنگا نہ ہو تاکہ عوامی تکالیف کنٹرول میں رہیں۔
ہم تھوڑی آمدنی میں عیاشی کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ ہمیں اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا ہر بات کیلئے سیاستدانوں پر کرپشن کا الزام لگا کر عام آدمی اپنی ذمہ داری سے پہلوتہی کر رہا ہے۔ کرپشن بڑی غلط بات ہے مگر بھارت میں ہمارے ملک سے کرپشن کہیں زیادہ ہے مگر پھر بھی وہ ترقی کر رہا ہے۔ سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی برآمدات کو بڑھایا ہے اور درآمدات کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔
اگر ہر پاکستانی یہ عہد کرلے کہ وہ کوئی ایسی امپورٹڈ چیز استعمال نہیں کرے گا جس کا پاکستان میں متبادل موجود ہے تو ہمارا ملک تین سالوں میں سارے غیر ملکی قرضوں سے آزاد ہوسکتا ہے ۔ میری سادگی پر ہنس ضرور لیں مگر پلیز اس پر غور بھی ضرور کریں۔ قربانیاں دئیے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکیں گے۔

تازہ ترین خبریں