08:50 am
شانِ خاتونِ جنتؓ

شانِ خاتونِ جنتؓ

08:50 am

شیخ الحدیث حضرت علام مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا شہنشاہِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام ’’فاطمہ‘‘ اور لقب ’’زہرا‘‘ اور ’’بتول‘‘ ہے۔ امام عبدالرحمن بن علی جوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: اعلانِ نبوت سے 5 سال قبل حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پیدائش ہوئی۔ 
 
حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بہت سے القابات ہیں جیسے اُمت السادات، مخدومۂ کائنات، دُختر مصطفی، بانوئے مرتضیٰ، سردارِ خواتین جہاں و جناں، حضرت سیدہ، طیبہ، طاہرہ، فاطمہ زہراء اور بتول، زایہ، راضیہ، مرضیہ، عابدہ، زاہد، محدثہ، مبارکہ، ذکیہ، عذراء، سیدۃ النساء، خیرالنساء، خاتونِ جنت، معظمہ، اُم الہاد، اُم الحسنین وغیرہ، جیسی عظیم کنیتیں اور کثیر القابات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت کو ہی موزوں ہو سکتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک خاص کنیت ’’اُمّ اَبِیْھَا‘‘ بھی ہے۔ 
خاتونِ جنت کے باباجان رحمت عالمیان محبوب رحمن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: اِنَّمَا سُمِّیَتْ فَاطِمَۃُ لِاَنَّ اللّٰہَ فَطَمَھَا وَمُحِبِیْھَا عَنِ النَّارِ۔ ترجمہ: اس (یعنی میری بیٹی) کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے آزاد کیا ہے۔ 
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ فَاطِمَۃَ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَحَرَّمَ اللّٰہُ ذُرِّیَّتھَا عَلی النَّارِ۔ ترجمہ: بیشک فاطمہ نے پاک دامنی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کو دوزخ پر حرام فرما دیا ہے۔ 
حضرت سیدنا اَنس بن ملک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا ’’سیدہ چودھویں رات کے چاند کی طرح حسین و جمیل تھیں‘‘۔ 
شارحِ مشکوٰۃ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام اور لقب کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے جنابِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے محبین کو دوزخ کی آگ سے دُور کیا ہے اسلئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام ’’فاطمہ‘‘ ہوا، چونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دُنیا میں رہتے ہوئے بھی دُنیا سے الگ تھیں لہٰذا ’’بتول‘‘ لقب ہوا، ’’زہرا‘‘ بمعنی کلی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت کی کلی تھیں حتیٰ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کبھی ایسی کیفیت نہ ہوئی جس سے خواتین دوچار ہوتی ہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جسم سے جنت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونگھا کرتے تھے اسلئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا لقب ’’زہرا‘‘ ہوا۔ 
طاہرہ اور زاکیہ کا مطلب ہے ’’پاک و صاف‘‘۔ چونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بچپن ہی سے اپنے باباجان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر رحمت اور فیضان سے ظاہری اور باطنی طہارت و پاکی حاصل کر چکی تھیں حتیٰ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حیض و نفاس سے بھی منزہ و مبرا تھیں جیسا کہ حضرت سیدنا علامہ علاء الدین علی متقی ہندی علیہ رحمۃ اللہ الغنی خاتونِ جنت کی شانِ عظمت نشان میں حدیث پاک نقل کرت ہیں کہ شاہِ ہردوسرا، مکی مدنی آقا، والد ماجد زَہراء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری بیٹی فاطمہ انسانی شکل میں حوروں کی طرح حیض و نفاس سے پاک ہے‘‘۔ 
صادِقہ صالحہ صائمہ صابرہ
صاف دل نیک خو پارسا شاکرہ
عابدہ زاہدہ ساجدہ ذاکرہ
سیدہ زاہرہ طیبہ طاہر
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام
٭… خاتم المرسلین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ’’تمہارے غضب سے غضب الٰہی ہوتا ہے اور تمہاری رضا سے رضائے الٰہی‘‘۔
٭… جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میرے جسم کا حصہ ہے جو اسے ناگوار، وہ مجھے ناگوار، جو اسے پسند وہ مجھے پسند، روزِ قیامت سوائے میرے نسب، میرے سبب اور میرے ازدواجی رشتوں کے تمام نسب منقطع (ختم) ہو جائینگے‘‘۔
٭… اللہ عزوجل کے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) تمام جہانوں کی عورتوں اور سب جنتی عورتوں کی سردار ہیں‘‘۔ مزید فرمایا: ’’فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا‘‘۔ ایک اور روایت میں ہے: ’’ان کی پریشانی میری پریشانی اور ان کی تکلیف میری تکلیف ہے‘‘۔ 
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذکر کردہ روایات سے پتہ چلا کہ اللہ عزوجل نے سیدۃ النساء، والدہ اُم کلثوم و زینب و رقیہ حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنھن کی ذاتِ مقدسہ کو فضائل حمیدہ و کمالاتِ کثیرہ سے سرفراز فرمایا حتیٰ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خوشی کو اپنی خوشی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ناراضی کو اپنی ناراضی قرار دیا۔ یہاں اُن بدنصیبوں کیلئے مقامِ غور ہے جو سیدۂ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہا یا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اولادِ پاک کی گستاخیاں کرتے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ناراضی مول لیکر اُخروی تباہی کا سامان کرتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں