08:52 am
سائنس‘ چاند اور مولوی؟

سائنس‘ چاند اور مولوی؟

08:52 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
جو غلطی یا جرم ’’مولوی‘‘ سے سرزد ہوا یا ہو رہا ہے اس کی سزا ضرور اسے دی جائے لیکن مولوی کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ قرار دینا‘ مولوی کو پاکستان پر بوجھ قرار دینا یہ لادینیت کی کوکھ سے نکلے ہوئے سیکولر شدت پسندوں نے اپنا رویہ بنالیا ہے۔
آج4رمضان المبارک1440 ھ ہے  نماز تراویح میں پاکستان کی لاکھوں مساجد میں قرآن پاک سنایا جارہا ہے … صرف مساجد ہی نہیں بلکہ ہزاروں مدارس اور ایسے ہزاروں گھروں کے اندر بھی کہ جن کے بچے قرآن پاک کے حافظ ہیں او وہ قرآن پاک سنا رہے ہیں۔
یہ فواد چوہدریوں‘ نجم سیٹھیوں یا کسی کالج یونیورسٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ دینی مدارس اور مولویوں کی برکت سے ممکن ہوا‘ رویت ہلال کا مسئلہ آج سے نہیں بلکہ گزشتہ کئی
سالوں سے اختلاف کا شکار ہے… اس مسئلے کو حل کرنا مولویوں کا کام نہیں بلکہ حکومت کا کام ہے‘ سوال یہ ہے کہ محرم ‘ صفر‘ ربیع الاول‘ ربیع الثانی‘ جمادی الاول‘ جمادی الثانی‘ رجب‘ شعبان‘ شوال ‘ذیقعد‘ ذوالحج کے چاند پر کبھی شور نہیں پڑا‘ صرف رمضان المبارک کے چاند پر شور کیوں مچایا جاتا ہے؟ اور پھر بجائے اس کے کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوئی اقدام کرے‘ الٹا اس کے وزراء اور سیکولر شدت پسند لٹھ اٹھا کر مولوی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
1974 ء میں قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کے تحت قائم ہونے والی رویت ہلال کمیٹی میں26ارکان ہیں‘ اس کمیٹی کا رکن بننے اور بناے کے لئے اگر کوئی طریقہ کار واضح نہیں ہے تو یہ قصور ’’مولوی‘‘ کا نہیں بلکہ حکمرانوں کا ہے‘ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر تین یا چھ سال تک متعین رہا جاسکتا ہے‘ مفتی منیب الرحمن اگر15 سالوں سے اس کمیٹی کے چیئرمین چلے آرہے ہیں تو یہ قصور کس کا ہے؟ کمیٹی کا نیا چیئرمین بنانا کس کی ذمہ داری تھی؟
کیا مفتی منیب الرحمن نے کمیٹی کی چیئرمینی پر زور زبردستی سے قبضہ کر رکھا ہے؟ حکمران جب اپنی نااہلی کا بوجھ بھی دوسروں پر ڈالتے ہیں تو اس سے ملک ابتری کا شکار ہو جاتا ہے‘ وزیر سائنس کہتے ہیں کہ ’’ملک چلانے کا فیصلہ مولانا پر نہیں چھوڑا جاسکتا‘ اب آگے کا سفر مولویوں کا نہیں بلکہ نوجوانوں کا ہے‘‘۔
’’جہالت‘‘ کسی کی میراث نہیں ہوتی … کسی عہدے پر بھی فائز کوئی بھی شخص جاہل ہوسکتا ہے‘ کوئی اس حکومتی ’’ارسطو‘‘ سے پوچھے کہ نوجوانوں اور مولویوں کو دو خانوں میں تقسیم کرنے کا کیا مطلب؟ کیا مولویوں میں نوجوان نہیں ہوتے؟
بلکہ جیسا جوان اللہ نے مولوں کو بنایا ہے کسی اور کی قسمت کہاں؟ اور اگر کسی کو یقین نہ آئے تو وہ پہلے سوویت یونین کا حال دیکھے اور پھر دہلی اور نیو یارک سے نکلنے والی چیخیں سنے‘ اس خاکسار نے اپنے گزشتہ روز کے کالم میں بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ مسئلہ چاند کا نہیں ہے‘ اگر حکمران اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہوں تو انہیں زخموں پہ مرہم رکھنا چاہیے ناکہ پہلے سے زخموں سے چور چور قوم کے زخموں پر مزیدنمک چھڑکاجائے؟
لیکن جب سیکولر شدت پسندوں کے دماغوں میں مولوی کی نفرت گھسی ہوگی تو پھر یہی کچھ ہوگا جو کہ اب ہو رہا ہے‘ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ لادینیت کے راستے کی سب سے بڑی دیوار سیکولر شدت پسندوں کے نزدیک مولوی ہیں۔
یہ ’’مولوی‘‘ ہی ہے کہ جو حکمرانوں کو قرآن کی آیات پڑھ پڑھ کر یہ بتاتا ہے کہ(ترجمہ) ’’اور تم اپنی اولاد کو  مفلسی (فقر و فاقہ) کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی ‘ بے شک ان کا قتل بہت بڑی غلطی ہے۔(بنی اسرائیل: 31 )
اس آیت مبارکہ کی موجودگی میں خاندانی منصوبہ بندی کا انٹرنیشنل ایجنڈا جب اپنی موت آپ مرتا ہے تو لادینیت کی پٹاری کے خرکار! پتھر مولوی پر برساتے ہیں۔
مولوی جب قرآن سناتا ہے ترجمہ ’’اے ایمان والو! تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (البقرہ208 ) تو مذہب کو ہر انسان کا ذاتی مسئلہ قرار دینے والا گروہ منہ بھر بھر کر مولویوں کو گالیاں دیتا ہے۔
مولوی جب بتاتا ہے کہ (ترجمہ) ’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔‘‘ (توبہ33 )
یورپ سے مرعوب ڈالر زدہ گروہ بجائے اس کے کہ ان آیات مقدسہ کے سامنے سرتسلیم خم کرکے یورپ کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹنے کی کوشش کرے‘ الٹا مولوی کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکال کر پل پڑتا ہے‘ مولوی جب شرعی پرد ے کے احکامات بتاتا ہے تو بے حیائی‘ بے پردگی اور فحاشی کو پروان چڑھانے والا گروہ مولوی کو ہی الزام تراشیوں کا نشانہ بناتا ہے۔
موم بتی مافیا کے جو خواتین و حضرات ’’انسانی حقوق‘‘ ’’عورتوں کے حقوق‘‘ کے کتبے اٹھا کر موم بتیاںجلاتے ہیں … ذرا ان کی ذاتی زندگیوں کو بھی کھنگال کر دیکھ لیا جائے  کہ ان میں سے کتنے ہیں کہ جو اپنے والدین کے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں‘ کتنے ایسے ہیں کہ جو اپنی اولاد‘ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ کتنی ایسی بیبیاں ہیں کہ جو اپنے شوہروں‘ ساس اور سسر کے حقوق ادا کرنے والی ہیں؟
مولوی جب منبر و محراب سے ان حقوق کی پاسداری کا اسلامی حکم سنائے گا تو موم بتی مافیا اور ان کے حواریوں کو تکلیف تو  ہوگی‘ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ مولوی دین کے ٹھیکیدار نہیں بلکہ چوکیدار ہوتے ہیں‘ چوکیداروں سے ڈاکوئوں اور چوروں کی جنگ تو جاری رہے گی۔

تازہ ترین خبریں