07:56 am
انہیں کام کرنے دیں

انہیں کام کرنے دیں

07:56 am

عمران خان کی حکومت کو دس ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیاہے۔ بقول خود ان کے انہیں جو نظام حکومت ورثے ملا ہے‘ اس میں کرپشن کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔ یہاں تک کہ خزانہ خالی تھا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ چنانچہ حکومت کو چلانے کے لئے سعودی عرب‘ یو اے ای ‘ اور چین سے مالی مدد لی گئی‘ جس کی وجہ سے تھوڑا بہت سہارا ملا ہے ‘ اب حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی ہے‘ ماضی کی حکومتیں بھی13مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی تھیں‘ قرضہ لیا تھا تاکہ گلشن کا کاروبار چل سکے ‘قرضہ ہر غریب ملک لیتا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور آمدنی کم ‘ اس لئے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے اور حکومت چلانے کے لئے قرضہ لیا جاتا ہے ‘پاکستان میں سابقہ حکومت نے قرضہ لیکر اس کو ترقیاتی کاموں میں موثر اندا ز میں استعمال کرنے کے بجائے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا تھا۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی‘عمران خان کی حکومت کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے پٹرول اور اس کی مصنوعات پر ٹیکس لگا کر آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کئے جارہے ہیں لیکن یہ حکمت عملی زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتی ‘اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں صنعت سازی کو فروغ دیا جائے اورسرمایہ کاروں کوا عتماد میں لے کر اور کچھ ترغیبات دے کر معیشت کی شرح نمو میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے ‘عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈال کر معیشت میں تھوڑی بہت بہتری آسکتی ہے‘ لیکن اس کے نتیجہ میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور افراط زرمیں بھی ‘ جو عوام کے لئے غیر معمولی مشکلات کا سبب بن رہا ہے ‘ جیسا کہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
 
موجودہ حالات میں حزب اختلاف کا کردار اور طریقہ کار انتہائی غلط ہے،  تنقید برائے تنقید کر کے پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات کو درست نہیں کیا جاسکتا ہے، ترقی اور عوام کی معاشی خوشحالی کے لئے ملک میں سیاسی اتفاق رائے بہت ضروری ہے جن ممالک میں سیاسی اتفاق رائے پایا جاتا ہے ‘ وہاں معاشی ترقی کی رفتار نہیں رک سکی ہے۔ جبکہ پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح عمران خان کی حکومت کو گرادیاجائے، بعد میں جو بھی نتیجہ نکلے گا دیکھا جائے گا ‘ یہ ایک طرح سے خودکشی کی سوچ ہے ‘ ملک کا نظم ونسق اتحاد واتفاق رائے سے چلتا ہے ۔ اس وقت حزب اختلاف  (مسلم لیگ ن اور پی پی پی )کرپشن سے متعلق مختلف کیسرز سے نجات حاصل کرنے کے لئے شور شرابا کررہے ہیں ‘ جس کے سبب ملک میں عدم استحکام پیدا ہورہا ہے۔ عدم استحکام کے اثرات ملک کے تمام شعبوں پر پڑرہے ہیں‘ لیکن حزب اختلاف کی کرپٹ مافیا کو پاکستان کی ترقی اور سیاسی استحکام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ اسکی تازہ مثال حزب اختلاف کے رہنما  شہباز شریف سے دی جاسکتی ہے جو اس وقت لندن میں ناجائز دولت سے خریدے ہوئے فلیٹس میں آرام فرمارہے ہیں اورباقاعدہ پریس کانفرنس کر کے موجودہ  حکومت پر تنقید کر کے اپنے آپ کو پاکستان کی سیاست میں زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ حالانکہ وہ اپنا علاج کرانے کے لئے لندن گئے تھے۔ کورٹ نے انہیں باہر جانے کی اجازت دی تھی ‘ لیکن علاج تو کجا وہ عیاشی کررہے ہیں جب بھی شہباز شریف کو حکومت کرپشن میں گرفتار کرتی ہے تو وہ فوراً بیمار ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے کینسر ہوگیاہے۔
چنانچہ حزب اختلاف کو چاہئے کہ وہ صبر کا راستہ اختیار کرے اور موجودہ حکومت کو کام کرنے دیاجائے، حکومت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے خود حزب اختلاف کا نقصان ہوگا‘ نیز جس قسم کی بوسیدہ جمہوریت چل رہی ہے وہ بھی نہیں چل سکے گی ۔یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ عمران خان کو حکومت چلانے کا تجربہ نہیں تھا، حکومت میں آنے سے قبل وہ حزب اختلاف کے لیڈر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کررہے تھے جس کی وجہ سے انہیں عوام میں پذیرآئی ملی تھی ،وہ اپنی ذات میں ایماندار واقع ہوئے ہیں ، ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے ۔ حزب اختلاف کی جانب سے ان پر جو کچڑ اچھالا جارہا ہے اس کا کوئی اساس نہیں ہے ، لیکن انہیں اب مسند اقتدار سنبھالے ہوئے دس ماہ ہوچکے ہیں اب انہیں حکومت چلانے کا سلیقہ آجانا چاہئے ،یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ ان کے پاس وزرا ء کی ٹیم موجود ہے ‘ نوکرشاہی بھی موجود ہے ‘ نیزپس پردہ ان کے پاس انتہائی عالم وفاضل افراد کی ٹیم موجود ہے جن کی مدد سے وہ حکومت چلانے اور کل پرزوں کو ٹھیک کرکے بہتری لاسکتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ صنعت کاروں اور تاجروں سے ملکر ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے گو مگو کی کیفیت کو دور کر کے ان کا اعتماد بحال کر کے کوئی صورت نکالیں تاکہ سرمایہ کاری کی آمد سے ملک میں روزگار کے نئے مواقعے پیدا ہوسکیں۔
 تبدیل شدہ حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی آسکتی ہے ،ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہے ، محب وطن افراد کے ذہنوں میں اس سلسلے میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور دعا کررہے ہیں کہ ہمارے سیاست دانوں کے دلوں میں ملک سے محبت کرنے کا جذبہ جاگزیں ہوسکے کیونکہ ملک ہے تو ہم ہیں قائد اعظم بانی پاکستان محمد علی جناح کے ان الفاظ کو یقین محکم ‘ اتحاد اور تنظیم کو سرمایہ حیات بناکر اور باہم ملکر ملک کو سماجی ومعاشی ترقی کی جانب گامزن کریں، تاکہ ملک کے موجودہ حالات بدل سکیں ، مایوسی کی فضا ٹوٹ سکے اور خوشحالی کے دور کا آغاز ہوسکے، ذراسوچئے۔

تازہ ترین خبریں