08:01 am
سارا کنٹرول آئی ایم ایف کے حوالے

سارا کنٹرول آئی ایم ایف کے حوالے

08:01 am

٭قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ، کوئی کام نہیں، تنخواہیں برقرارO ایک سال میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے، الیکشن کمیشن کا انکارO لاہور، داتا دربار دھماکہ، حملہ آور کا جوتا بھارتی نکلاO آصف زرداری، شہباز شریف کے خلاف نئے مقدماتO آئی ایم ایف ساری شرائط تسلیم، 750 ارب کے نئے ٹیکس، ڈالر آزاد، ساڑھے چھ ارب ڈالر کا قرضہ، بھاری سود، 3 سال میں واپسی O نوازشریف ریلی، 1500، مقدماتO شائع شدہ خبر: مریم اورنگزیب، یوسف رضا گیلانی، مولانا فضل الرحمان، مصدق ملک، راجہ پرویز اشرف کے پاس سندھ حکومت کی گاڑیاں۔
 
٭قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز بھی ہنگامہ، بلاول کی حکومت پر، مراد سعید کی آصف زرداری اور بلاول پر شدید نکتہ چینی، سپیکر کا گھیرائو، مخالفانہ نعرے، اسمبلی نہیں چلنے دیں گے، وغیرہ کے نعرے! ہاتھاپائی تک نوبت، ایوان میں کرسیاں نہیں ہوتیں ورنہ سوڈان اور آذر بائیجان کی طرح اسمبلی میں کرسیاں بھی چل سکتی تھیں۔ 1958ء میں سابق مشرق پاکستان کی اسمبلی میں اپوزیشن کی کرسی لگنے سے ڈپٹی سپیکر شمس الحق بلاک ہو گیا تھا۔ جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگانے کی وجوہ میں اس واقعہ کا خاص ذکر کیا تھا۔ ویسے کسی تعلیم، تجربہ، میرٹ اور سیاسی تربیت کے بغیر محض کروڑوں کا اخراجات کی بدولت اسمبلیوں میں آنے والوں سے آپس میں لڑائی جھگڑے کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں بھی کیا ہو رہا ہے؟ قوم کے یہ خادم ایک دوسرے کے خلاف ایسی ناقابل اشاعت باتیں کہتے ہیں کہ ذہن سن ہو جاتا ہے۔ تفصیل میں کیا جایا جائے؟ ستم یہ کہ آج اعلان آ جائے تمام ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں بھاری اضافہ کا بل آ گیا ہے تو اک دم ساری مخالفت چھوڑ کر تمام پارٹیوں کے تمام ارکان ایک دوسرے سے بغل گیر ہو جائیں گے۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، یوں شیروشکر ہو جائیں گے جیسے کبھی ایک دوسرے سے کوئی شکائت ہی نہیں تھی۔
٭سندھ حکومت کی 150 اعلیٰ گاڑیاں غائب ہیں۔ ظاہر ہے غائب کی گئی ہیں۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق یہ گاڑیاں صرف سندھ میں ہی ادھر ادھر نہیں ہوئیں۔ ریوڑیوں کی طرح یہ گاڑیاں پنجاب میں یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، مریم اورنگ زیب، مصدق ملک اور…اور مولانا فضل الرحمان کو بھی تحفے کے طور پر دی گئیں۔ اور بھی نام ہیں۔ قارئین! آپ خود اندازہ لگائیں کہ سندھ حکومت کے کس والی وارث کے احکام پر یہ ریوڑیاںبانٹی گئی ہوں گی!
 ٭حکومت نے بلدیاتی ادارے ختم کر کے انکا اربوںکا فنڈ روک لیا ہے وہ کسی خاص جگہ استعمال ہو جائے گا۔ اب بلدیاتی اداروں کا نظام افسروں جبکہ ارکان اسمبلی کی تحویل میں رہے گا۔ ان کے ووٹ ادھر ادھر نہیں کھسکیں گے! عوام کا کیا ہے! نہ پہلے بھی رُل رہے تھے اب بھی رُلتیے رہیںگے!
٭داتا دربار دھماکے کا ایک اور زخمی چل بسا، شہداء کی تعداد 12 ہوگئی۔ یہ خبر اہم ہے کہ خود کش حملہ ااور کے پائوں کا جوتا بھارتی برانڈ کا نکلا ہے۔ ملک بھر سے چھوٹے بڑے رہنمائوں کی مذمت آ چکی محمود اچکزئی کا کوئی بیان تا دم تحریر سامنے نہیں آیا! اس پر قارئین خود کوء رائے قائم کر لیں!۔ اس دھماکے کے تیسرے روز وزیراعلیٰ پنجاب میں ہسپتال میں زخمیو ںکی عیادت کے لئے پہنچ گئے۔ گورنر اور آئی جی پولیس پہلے دن ہی پہنچ گئے تھے۔ شائد وزیراعلیٰ کو اطلاع دیر سے ملی ہو؟
٭آصف زرداری اور شہباز شریف کے خلاف نئے مقدمے، نئے ریفرنس دائر ہو گئے ہیں کچھ یاد نہیں رہا کہ ان دونوں کے خلاف کس کس کیس میں کتنے ریفرنس آ چکے ہیں!! اب انہیں یہ بھی یقین نہیں رہا کہ ان کی موجودہ آزاد زندگی کب تک محفوظ ہے۔ گزشتہ روز ایک عدالت کے باہر آصف زرداری سے ایک  صحافی نے پوچھا کہ عید کہاں منائیں گے؟ جواب ملا کہ جج صاحب بتائیں گے۔ ایک سوال ہوا کہ نئے ریفرنس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جواب دیا کہ رمضان کی برکت ہے! پتہ نہیں آصف زرداری روزہ رکھتے ہیں یا نہیں مگر رمضان کی حرمت کے بارے میں یہ جملہ !! اپنے اوپر کسی سنگین جرم کے الزام کو رمضان کی برکت قرار دینا!  اس پر کیا لکھا جائے؟
٭قارئین کرام! آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی تفصیل اخبارات میں پڑھ لیں۔ اتنی سخت شرائط ملک کی تاریخ میں آج تک نہیں منوائی گئیں۔ حکومتی بزر جمہروں نے ’’یس سر، جی جناب!‘‘ کہتے ہوئے ہر حکم پر سر جھکا دیا ہے۔ چھ ارب 40 کروڑ ڈالر کا بھاری سود پر قرضہ تین سال میں ادا کرنا ہے! پہلی حکومتوں کے قرضے ہی ادا نہیں ہو رہے، نیا قرضہ کیسے ادا ہو گا؟ سوچ کر ذہن منجمد ہو رہا ہے! پرانا محاورہ ہے، ’غریب کی جورو سب کی بھابی‘۔ سادہ بات یہ کہ میرے، آپ کے ملک پر ایک دوسرے کی سخت مخالف سی پیک اور آئی ایم ایف نام کی دو ’’ایسٹ انڈیا کمپنیاں‘ سوار ہو گئی ہیں۔ ایک زمین پر دوسری نے مالیاتی نظام پر قبضہ کر لیا ہے۔ سی پیک کے معاہدہ کے بعد ملک میں چینی سمگلروں اور فراڈیوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ہر بڑے شہر میںغیر معمولی تعداد میںچینی باشندے دندنا رہے ہیں۔ ملتان میٹرو بس منصوبہ میں جعل سازی سے چینیوں کا اربوں کا گھپلا، پاکستان کی لڑکیوں کی انتہائی مذموم سمگلنگ اور…!! اور آخر کار گوادر پر 90 سال کے لئے قبضہ!! دوسری طرف سٹیٹ بنک، ایف بی آر اور پورا قومی خزانہ براہ راست آئی ایم ایف کے ماہرین کے کنٹرول میں! اور ملک کی سیاسی جماعتیں چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے ریلیاں نکال رہی ہیں۔ ایک سزا یافتہ قیدی کو جیل پہنچانے کی ریلی! نئے انتخابات کے لئے ملین برانڈ ریلیاں، چہرہ نمائی کے لئے ٹرین مارچ! اور کیا کیا کچھ ایسی باتوں پر علامہ اقبال کا کلام یاد آتا ہے کہ ’’یہ اُمّت…!! چلیں چھوڑیں۔
وزیراعظم نے راولپنڈی میں لال حویلی کے قلعے میں 200 بستروںکے زچہ بچہ ہسپتال کا افتتاح کیا۔ بتایا گیا ہے کہ شیخ رشید نے یہ ہسپتال بنوایا ہے، انہوں نے وزیراعظم کا خیر مقدم کیا۔ ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ شیخ رشید تو فارغ الزچگان اور فارغ البچگان ہیں، ان کا زچگان بچگان سے کیا تعلق ہے؟ میں کیا بتا سکتا ہوں؟کچھ تو ہو گا؟
٭ایک قاری نے دلچسپ سوال کیا ہے کہ تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی خواتین کر رہی ہیں، کیا مردوں پراعتبار نہیں رہا۔ بات درست ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی ترجمان فردوس عاشق اعوان ہیں۔ ن لیگ کی ترجمانی مریم اورنگزیب  کے پاس ہے اور پیپلزپارٹی کی ترجمانی شیری رحمان کر رہی ہیں۔ ممکن ہے ان پارٹیو ںکے پاس ان خواتین جیسی قابلیت والے مردحضرات موجود نہ ہوں جیسے ملک کے اندر خزانہ، سٹیٹ بینک اور ایف بی آر چلانے کے لئے کوئی قابل شخص موجود نہ تھا اس لئے کچھ لوگ درآمد کرنے پڑے۔ ویسے ان درآمدات میں اور نام بھی ہیں۔ ایوب خان کے دور میں ایم ایم احمد،محمد شعیب ، ڈاکٹر محبوب الحق، بعد میں ڈاکٹر عشرت، بیگم شمشاد احمد، یاسین انور ، سلیم رضا، حفیظ شیخ، معین احمد، شوکت عزیز اور اشرف وتھرا جیسی نادر ہستیاں درآمد کی جاتی رہیں۔ ان سب کا تعلق عالمی بنک، آئی ایم ایف یا امریکہ کے سٹی بنک سے رہا ہے۔ حفیظ شیخ آصف زرداری کے دور میں تین سال سے زیادہ وزیرخزانہ رہے اس وقت کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اب پیپلزپارٹی شور مچا رہی ہے۔
٭لاہور کی کوٹ لکھپت پولیس نے نوازشریف کو جیل تک پہنچانے والی ریلی کے 1500 نامعلوم افراد کے خلاف سخت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے ہیں۔ ان میں غیر قانونی طور پر گاڑیوںپر لائوڈ سپیکروں کا استعمال سڑکیں بند کرنے، پولیس کے ساتھ تصادم اور ایک ٹرین کو روک کر اس پر قبضہ کرنے کے الزامات ہیں۔ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس کی ایف آئی آر کھلی ہوتی ہے۔ حکومت یا پولیس کسی بھی ’ناپسندیدہ‘ شخص کو ایسی فہرست میں شامل کر کے گرفتار کر سکتی ہے چاہے اس کا کسی بھی واردات سے تعلق ہو یا نہ ہو!

تازہ ترین خبریں