09:04 am
 رمضان و قرآن

 رمضان و قرآن

09:04 am

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں کہ روزہ صبر ہے جس کی جزاء رب عزوجل ہے اور وہ اسی مہینے میں رکھ اجاتا ہے ۔ اس لیے اسے ماہ صبر کہتے ہیں ۔ مواسات کے معنی ہیں بھلائی کرنا ۔چونکہ اس مہینہ میں سارے مسلمانوں سے خاص کر اہل قرابت سے بھلائی کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے اسے ماہِ مُؤَاسات کہتے ہیںاس میں رزق کی فراخی بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی نعمتیں کھا لیتے ہیں اسی لیے اس کا نام ماہ وسعت رزق بھی ہے ۔ رمضان ایک بھٹی ہے کیسے کی بھٹی گندے لوہے کو صاف اور صاف لوہے کو مشین کا پرزہ بنا کر قیمتی کر دیتی ہے اور سونے کو زیور بناکر استعمال کے لائق کر دیتی ہے ایسے ہی رمضان المبارک گناہگاروں کو پاک کرتا اور نیک لوگوں کے درجے بڑھاتا ہے ۔رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرج کا ثواب ستر گنا ملتا ہے ۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو رمضان میں مرجاتا ہے اُس سے سوالات قبر بھی نہیں ہوتے ۔
 
اس مہینے میں شب قدر ہے ۔گزشتہ آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن رمضان میں آیا اور دوسری جگہ فرمایا: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ   ترجمہ کنزالایمان : بے شک ہم نے اِسے شب قدر میں اتارا۔ دونوں آیتوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان میں ہی ہے اور وہ غالباً ستائیسویں شب ہے کیونکہ لَیلَۃُ القَدر میں نو حروف ہوئے اور یہ لفظ سورۃ ودر میں تین بار آیا ہے جس سے ستائیس حاصل ہوئے معلوم ہوا کہ وہ ستائیسوں شب ہے۔ 
رمضان میں ابلیس کو قید کرلیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔جنت آراستہ کی جاتی ہے ۔ اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اس لیے اس دنوں میں نیکیوں کی زیادتی اور گناہوں کی کمی ہو جاتی ہے ۔جو لوگ گناہ کرتے بھی ہیں وہ نفس امّاریا شیطان کے بہکانے سے کرتے ہیں ۔قیامت میں رمضان وقرآن روزہ دار کی شفاعت کریں گے کہ رمضان تو کہے گا، مولیٰ عزوجل ! میں نے اسے دن میں کھانے پینے سے روکا تھا اور قرآن عرض کرے گا کہ یا رب عزوجل ! میں نے اسے رات میں تلاوت وتراویح کے ذریعے سونے سے روکا۔ حضور پرنور ،شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں ہر قیدی کو چھوڑ دیتے تھے اور ہر سائل کو عطا فرماتے تھے۔ رب عزوجل بھی رمضان میں جہنمیوں کو چھوڑتا ہے لہذا چاہیے کہ نیک کام کیے جائیں اور گناہوں سے بچا جائے۔قرآنِ کریم میں صِرف رَمَضان شریف ہی کانام لیا گیا اور اسی کے فضائل بیان ہوئے ۔ کسی دُوسرے مہینے کا نہ صَراحَتاً نام ہے نہ ایسے فضائل ۔ مہینوں میں صِرف ماہِ رَمَضان کا نام قُرآن شریف میں لیا گیا۔ عورتوں میں صِرف بی بی مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام قُرآن میں آیا ۔ صَحابہ میں صِرف حضرت سَیِدُنا زَید ابنِ حارِثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام قُرآن میں لیا گیا جس سے ان تینوں کی عَظمت معلوم ہوئی۔ رمضان المبارک کو یہ بڑی انواریت اور خصویت حاصل ہے کہ مہینوں میں اس کا نام فضیلت کے ساتھ قرآن میں آیا۔ رَمَضان شریف میں اِفطار اور سَحَری کے وقت دُعاء قَبول ہوتی ہے ۔ یعنی اِفطار کرتے وَقت اور سَحَری کھا کر ۔یہ مرتبہ کسی اور مہینے کو حاصِل نہیں۔رَمَضانُ الْمبارَک کے اِستِقبال کیلئے ساراسال جَنّت کو سجایا جاتا ہے ۔ چُنانچِہ حضرت سَیِدُنا عبدُاللہ ابنِ عُمَر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، سُرورِ قَلْب وسینہ ،فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے ، ''بے شک جَنّت اِبتِدائی سال سے آئندہ سال تک رَمَضانُ الْمبارَک کے لئے سجائی جاتی ہے اور فرمایا رَمَضان شریف کے پہلے دِن جَنّت کے دَرَختوں کے نیچے سے بڑی بڑی آنکھوں والی حُوروں پر ہَوا چلتی ہے اور وہ عَرض کرتی ہیں ،''اے پروردگار !عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں میں سے ایسے بندوں کو ہمارا شوہر بنا جن کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور جب وہ ہمیں دیکھیں تو اُن کی آنکھیں بھی ٹھنڈی ہوں۔  رمضان میں ہمیں اللہ عزوجل کی خوب خوب عبادت کرنی چاہیے اور ہر وہ کام کرنا چاہیے جس میں اللہ عزوجل اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا ہو ۔اگر اس پاکیزہ مہینے میں بھی کوئی اپنی بخشش نہ کروا سکا تو پھر کب کروائے گا ؟ ہمارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس مبارک مہینے کے آتے ہی عبادت الہی میں بہت زیادہ مگن ہو جایا کرتے تھے۔ چنانچہ ام المومنین حجرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔۔’’ جب ماہ رمضان آتا تو میرے سرتاج ،صاحب معراج صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ عزوجل کی عبادت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے اور سارا مہینہ اپنے بستر پر تشریف نہ لاتے۔سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔’’ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بڑھ کر سخی ہیں اور سخاوت کا دریا سب سے زیادہ اس وقت جوش پر ہوتا ۔جب رمضان میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام ملاقات کیلئے حاضر ہوتے،جبرئیل امین علیہ الصلوٰ ۃ والسلام (رمضان المبارک) کی ہر رات میں ملاقات کیلئے حاضر ہوتے اور رسول کریم ،رؤوف رحیم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم اس نے ساتھ قرآن عظیم کا دور فرماتے ۔پس رسول اللہ عزوجل صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ خیر کے معاملے میں سخاوت فرماتے۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔، جب ماہ رمضان تشریف لاتا تو حضور اکرم، شاہِ بنی آدم ،رسول محتشم ،شافع امم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا رنگ مبارک متغیر ہو جاتا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز کی کثرت فرماتے اور خوب گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے اور اللہ عزوجل کا خوف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر طاری رہتا ۔

تازہ ترین خبریں