09:07 am
دینی مدارس کے معاملات  خوش اسلوبی سے حل

دینی مدارس کے معاملات خوش اسلوبی سے حل

09:07 am

 اس موقع پر اجلاس کے ایجنڈاکے حساب سے تمام امور زیر بحث آئے ۔ہمیشہ کی طرح اپنی بساط بھر دینی مدارس کا مقدمہ بھرپور طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے ہم نے یہ مطالبہ کیا کہ دینی مدارس چونکہ وفاقی سطح کے ادارے ہیں ،ان کا نظام تعلیم ،نصا ب تعلیم اور نظام امتحان ملک گیر ہے اس لیے ان مدارس کے معاملات کو فیڈرل بورڈ اور دیگر اداروں کی طرح وفاقی اور مرکزی سطح پردیکھا جائے۔ اس مطالبہ کو تسلیم کرلیا گیا اور یہ بات طے پائی کہ دینی مدارس کے جملہ معاملات وفاقی وزارت تعلیم سے متعلق ہوں گے کسی صوبائی حکومت یا کسی مقامی ادارے کا دینی مدارس کے ساتھ کوئی واسطہ اورتعلق نہیں ہوگا ۔
 
یوں تو دینی مدارس کے بہت سے مسائل عرصے سے حل طلب اور زیر بحث ہیں لیکن گزشتہ دنوںاتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کی قیادت کی وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف سمیت دیگر حکومتی ذمہ دران سے ملاقاتوں کے بعد دینی مدارس کے مسائل اور دینی مدارس کے معاملات زیادہ نمایاں ہو کر زیر بحث آئے ۔ان ملاقاتوں میںدینی مدارس کے مسائل اور دینی مدارس سے وابستہ افراد کو در پیش مشکلات کے ازالے کی بات ہوئی او رپھر چند دنوں بعد ڈی جی آئی ایس پی آ ر کی پریس بریفنگ کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئیں ایسے نازک وقت میں جب ملک بھر میں تشویش واضطراب کی فضا ء تھی ہم نے دینی مدارس، ملک و قوم کے مفاد اور دینی مدارس کی ترجیحات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک محتاط اور متوازن موقف دیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد دینی مدارس کے ذمہ دران اور و فاق المدارس کے قائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد سب حضرات اور اداروںکی طرف سے راقم الحروف نے عرض کیا ’’ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں دینی مدارس سے متعلق جن تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے وہ نہایت مجمل ہیں جن کا صحیح مطلب بھی لیا جا سکتا ہے اور غلط بھی …محترم  چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر اعظم پاکستان سے ہمارے مذاکرات میں ہم سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مدارس کے بارے میں کسی حتمی اعلان سے پہلے اتحاد تنظیمات مدارس سے تفصیلات کے بارے میں مشورہ ہو گا جو ابھی باقی ہے اس سے پہلے اس قسم کے مجمل اعلان سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہمارا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے اور آج بھی ہے کہ ہم ایک طرف کسی بھی مثبت تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس کی آزادی اور حریت فکر و عمل اور نصاب و نظام کے بارے میں کسی ایسی مداخلت کو قطعاً قبول نہیں کر سکتے جو دینی مدارس کے مزاج و مذاق کے مطابق نہ ہو‘‘
اس فوری رد عمل کے بعد اتحادِ تنظیمات مدارس میںشامل تمام تنظیمات سے بھی رابطے ہوئے بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین کا ہنگامی اجلا س دارالعلوم کراچی میںحضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزارق اسکندر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا انوارالحق ،مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور راقم الحروف شریک ہوئے۔مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدینہ طیبہ میں تھے ان سے اور مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فون پر مشاورت ہوئی۔ اس اجلاس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے حوالے سے جو غلط تاثر پھیلا اور جن غلط فہمیوں نے جنم لیا ان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہی غلط فہمیوں کی بنا پر 2 مئی بروز جمعرات کو وزارت تعلیم میں ہونے والے اجلا س میں شرکت سے معذرت کی گئی اور اس کی وجہ یہ بیا ن کی گئی کہ اعتماد سازی کے بغیر اجلاس یا مذاکرات لاحاصل ہیں اور جب تک اعتماد کا ماحول نہیں بنتاتب تک مذاکرات یا کسی اجلاس میں شرکت نہیں کی جاسکتی ۔ اس دوران کئی سطحوں پر رابطے ہوئے اور بالآخر 6 مئی2019ء برو زپیر وزارت تعلیم میں اجلاس ہوا جس میں اتحادِ تنظیمات مدارس کے قائدین مولانا مفتی مـحمدرفیع عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمن، راقم الحروف محمد حنیف جالندھری ،مولانا ڈاکٹر یاسین ظفر، مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن ،قاضی نیاز حسین نقوی اورمولانا افضل حیدری شریک ہوئے جبکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، سیکرٹری وزارت تعلیم اور دیگر اعلی افسران شریک ہوئے ۔اس اجلاس میں شرکت کا فیصلہ بھی باہمی مشاورت سے ہوا اور اجلاس کے حوالے سے وفاق المدارس کے قائدین اور مولانا فضل الرحمن سے دوبارہ تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اسی طرـح دینی مداراس کے اس دیرینہ مطالبے کو بھی کو تسلیم کر لیا گیا کہ دینی مدارس کے جملہ معاملات وزارت تعلیم سے متعلق ہوں گے چونکہ اس سے قبل بار ہا یہ تلخ تجربہ ہوچکا کہ دینی مدارس کے معاملات کو کبھی وزارت داخلہ کا کرائسس مینجمنٹ سیل ڈیل کرتا تھا …کبھی دینی مدارس کے معاملات نیکٹا کے سپرد کردیے جاتے تھے …کبھی دینی مدارس کو وزارت داخلہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا… کبھی مذہبی ادارے ہونے کی نسبت سے وزارت مذہبی امور سے دینی مدارس کو نتھی کردیا جاتا تھا …ہمارا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا کہ دینی مدارس چونکہ تعلیمی ادارے ہیں اس لیے ان کے معاملات وزارتِ تعلیم سے متعلق ہونے چاہیں الحمداللہ مدتوں بعد ہمارا یہ مطالبہ مان لیا گیا اور دینی مدارس کے معاملات کو وزارت تعلیم کے سپر د کردیا گیا۔ اس فیصلے کی وجہ سے ایک تو دینی مدارس روز روز مختلف محکموں اور وزارتوں کے درمیا ن شٹل کاک نہیں بنے رہیں گے۔ ان کے معاملات ایک ہی وزارت دیکھے گی اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کو تعلیمی اداروں کی فہرست میں شامل کرکے تعلیمی اداروں کے طور پر ہینڈل کیا جائے کیا جائے گا اور دینی تعلیم کو بھی با ضابطہ طور پر تعلیم تسلیم کیا جائے گا اور جیسے پہلی مردم شمار ی میں پاکستان کا پرچم لہرانے والے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃاللہ علیہ کو ناخواندہ لکھا گیا تھا ایسے کسی کو دینی تعلیم کی نفی کی جرات نہیں ہوگی۔
 ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کی وجہ سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے پیش نظر بار بار اس کی وضاحت کی گئی خاص طور پر وفاقی وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ دینی مدارس کے معاملات وزارت تعلیم سے متعلق ہوں گے مدارس وزارت تعلیم کے ماتحت نہیں ہوں گے۔ہم مدارس کی معاونت کرنا چاہتے ہیں مدارس پر کنٹرول نہیں چاہتے ،نہ ہمارے بس میں ہے اور نہ ہی ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں