09:11 am
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی

09:11 am

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی حراست میں 15سال ہو گئے ہیں۔ امریکہ سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی  ڈاکٹر صدیقی پر کسی کے قتل کا الزام نہیں بلکہ اقدام قتل کا کیس ہے۔ ڈاکٹر صدیقی مارچ2003ء سے امریکی قید میں ہے ۔ اس پر 2008ء میں مقدمہ چلایا گیا۔ 2010ء میںامریکی عدالت نے 86سال سزائے قید سنائی ۔ تین بچوں کی ماں ، پاکستانی سائنسدان کو پہلے سزا ہوئی، مقدمہ بعد میں چلا۔ کوئی حکومت رہائی کے لئے کچھ نہ کر سکی۔ آج ایک بار پھر ڈاکٹر صاحبہ کی ہمشیرہ نے اس طرف توجہ دلائی ہے۔ وہ اکیلی دردمندی سے اپنی قیدی بہن کی رہائی کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ شاید اس کا درد اور دکھ کوئی محسوس کرے۔ پاکستان نے مسلسل امریکہ کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا۔ جب کہ پاکستانی قیدی کی وطن واپسی کے لئے امریکہ کے ساتھ 1993ء میں طے پانے والا معاہدہ بھی اہم ہے۔ امریکی قانون کے مطابق ملزم ہی رہائی کے لئے امریکہ سے اپیل کر سکتا ہے۔ اب ڈاکٹر صاحبہ نے پاکستان واپسی کی اپیل دائر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جس کے بعد پیش رفت کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔ پاکستانی سینٹ میں اعظم خان سواتی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے یہ معاملہ سینٹ میں اٹھایا۔ جس پر وزیر خارجہ نے بیان دیا۔ یہ وہی روایتی بیان تھا جو گزشتہ برسوں میں دیئے گئے۔ ظاہر ہے کوئی بھی ان بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے سینٹ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ 
 
عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کئی سوالات کھڑے کئے۔مگر کوئی جواب نہ دے سکا۔  اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی کرنل جوزف نے نشے کی حالت میں ٹریفک سگنل توڑتے ہوئے عتیق بیگ نامی ایک پاکستانی شہری کو کچل کرقتل  اور اس کے دوست کو شدید زخمی کردیا ۔اس افسوسناک واقعہ میں چند اہم باتیں انتہائی توجہ طلب تھیں۔ 1 -  2010ء میں ریمنڈ ڈیوس نامی امریکی جاسوس نے 2 پاکستانی شہریوں کو لاہور میں اپنے پستول سے قتل کردیا تھا اور اس کی مدد کو آنے والی امریکی قونصل خانے کی گاڑی نے مزید ایک شہری کو کچل کر ہلاک کردیا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس  نے دی کنٹریکٹر کتاب لکھ کراس بات کا اعتراف کرلیا کہ وہ امریکی سفارتکار نہیں بلکہ ایک جاسوس تھااور اس نے تفصیل سے اپنی رہائی کیلئے ہماری اس وقت کی قومی قیادت کے کردار کو توہین آمیز طریقہ سے تفصیل کے ساتھ بیان کیا  اور جس سے یہ افسوسناک پہلو بھی سامنے آیا کہ ہمارے حکمرانوں کی نظر میں ملک کے وقار اور پاکستانی شہریوں کی زندگی کی کیا وقعت ہے2 -  پانچ سال قبل بھی فروری 2013ء میں اسی طرح کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب امریکی سفارتخانے کی ایک گاڑی نے اسلام آباد میں ٹریفک سگنل توڑ کر ایک پاکستانی سرکاری ملازم کو کچل کر شہید اور اس کے دوست کو شدید زخمی کردیا مگر کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی۔ ایک اور امریکی کرنل جوزف نے ایک اور پاکستانی کو شہید کردیا ۔ اس موقع پر ایک مرتبہ پھر سیاسی قیادت کی خاموشی انتہائی افسوسناک اور تشویشناک تھی ۔3 -  ڈاکٹر عافیہ کی طویل پرتشدد قید تنہائی کا جائزہ لیںکہ کس طرح  امریکیوں نے پاکستان کے قوانین کی اس قدر سنگین خلاف ورزی کی کہ 5 پاکستانیوںکی جانیں چلی گئیںمگر امریکی قاتل مکمل پروٹوکول کے ساتھ چھوڑ دئیے گئے کیونکہ ہمارے ملک میں قانون بہت کمزور ہے۔4 -  کوئی پاکستانی سفارتکار امریکہ میں ٹریفک سگنل توڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔ خدانخواستہ اگر کوئی امریکی کسی پاکستانی سفارتکار کی گاڑی سے اس طرح کچل کر مارا جائے کہ ٹریفک کا اشارہ بھی توڑا گیا ہو تو امریکی معاشرہ کا احتجاج اور امریکی میڈیا کے کردار کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔ مگر ہمارے معاشرے پر سکوت چھایا ہوا ہے؟ ۔5 -  جو لوگ سفارتی استثناء کی بات کررہے ہیں وہ جواب دیں کیاقاتل کو استثناء حاصل ہوتا ہے؟ عافیہ کوتو مکمل استثناء حاصل تھا، پاکستانی شہری ہونے کے باوجود اسے افغانستان سے امریکہ منتقل کرکے ایک جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ چلایا گیا تھا۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے عافیہ پر مقدمہ چل ہی نہیں سکتا تھا۔یہ معاملہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی باعزت وطن واپسی کا وسیلہ بن سکتا تھا۔ اس معاملے کو اس طرح حل کیا جاتا کہ عتیق بیگ کے لواحقین کو انصاف ملتا اور عافیہ کی وطن واپسی ہوجاتی۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں یہ موقع گنوا دیا گیا۔ 6 -  عافیہ کی وطن واپسی صرف ایک بہن کی رہائی کا نہیں بلکہ یہ عالمی برادری میں ملک کی عزت و وقار کی بحالی کا معاملہ ہے۔
عافیہ صدیقی کی بہن  نے ایک پاکستانی کی حیثیت سے صدر، وزیراعظم ،چیف جسٹس، آرمی چیف، سیاسی قائدین،اراکین پارلیمنٹ، صحافی برادری اور سول سوسائٹی سے انتہائی مودبانہ اپیل کی کہ خدارا ملک میں قانون کو اتنا مضبوط کریں کہ آئندہ کسی امریکی کو اس طرح کسی پاکستانی شہری کی جان لینے کی جرأت نہ ہوسکے اور عتیق بیگ کے اہلخانہ کو انصاف بھی مل جائے۔  اس حوالے سے حکمرانوں، ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری حکام کو ان کا قومی اور آئینی فریضہ یاد دلائیں اور عوام میں شعور اجاگر کریں کیونکہ آخر کار عوام کے مسائل ان کو ہی حل کرنا ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ہوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی مسلسل ڈاکٹر صاحبہ کی خیریت دریافت کر رہی ہیں۔ انہوں نے ہی ڈاکٹر صدیقی کا خط وزیراعظم  عمران خان کو پیش کیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈاکٹر صدیقی کی رہائی کے لئے حکومت سفارتی اقدامات کرنے لگی۔ حکومت نے اگر سنجیدگی دکھائی اور کسی ڈیل کا حصہ نہ بنی تو ڈاکٹر عافیہ سمیت سمندر پار قید دیگر بے یار و مددگار پاکستانیوں کی رہائی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی قیدی دیار غیر میں سڑ رہے ہیں۔ سینٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ امید ہے ان کی رہائی کے لئے عمران خان حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔ 

تازہ ترین خبریں