09:12 am
خوابوں کی تعبیر

خوابوں کی تعبیر

09:12 am

نہ کوئی دنیاکی حقیقتوں کوجانتاہے اورنہ ہی اپنے اردگردبکھرتی قوموں اورتباہ ہوتی ہوئی قوتوں کو دیکھتا ہے۔ عذاب کے فیصلوں اوراللہ کی جانب سے نصرت کے مظاہروں کودیکھنے کیلئے کسی تاریخ کی کتاب کھولنے یا عادوثمود کی بستیوں کامطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ ابھی کل کی باتیں ہیں۔میرے اللہ کافرمان ہے کہ جب ہم کسی قوم پرکوئی آفت نازل کرتے ہیں تووہ اس کی مادی توجیہات کرنے لگ جاتاہے۔کوئی سوچ سکتاتھا کہ دنیا کی ایک ایٹمی سپرطاقت جس کے پاس اس ساری د نیا کو کئی  مرتبہ تباہ کرنے کاسامان موجودہو، جس کی تسخیرخلاں تک ہو،جودنیامیں پچاس سے زیادہ کیمونسٹ تحریکوں کی برملامددکرتاہو،بے خانماں، بے سروساماں افغان مجاہدوں  نے صرف اپنے رب کے بتائے ہوئے حکم جہاد کے ذریعے اس کے چھ ٹکڑے کردیئے۔ؔ
 
کسی ایک محاذ پرشکست کے بعدقومیں متحد ہو جایاکرتیںہیں،انتقام کیلئے،اپنے آپ کو مزید طاقتور کرنے کیلئے،لیکن جومسلمان قوم جہاد سے منہ موڑلے توقدرت اس قوم کیلئے زوال ورسوائی کافیصلہ صادرکر دیتی ہے۔ان کونفرت،تعصب،بھوک، افلاس اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہونے کامزاچکھا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکہ 1901ء  سے چین،فلپائن،کوریا،ویت نام ،جنوبی امریکادنیاکے دیگر39ممالک سے ذلیل ورسواہو کر نکلاہے لیکن وہ طاقت کے پجاری جن کادل ہی نہیں مانتاکہ اس کائنا ت پر ایک اورحکمران طاقت ہے جس کایہ وعدہ ہے کہ اگرتم مجھ پریقین کروتوتم قلیل بھی ہوگے توزیادہ طاقت پر غالب آگے۔یہ لوگ پھربھی توجیہات کرتے ہیں لیکن آخرمیں انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ قدرت نے ہرانسان کے سینے میں ایک چھوٹاساایٹم بم’’دل‘‘کی شکل میں نصب کررکھا ہے۔یہ چھوٹاسالو تھڑاپہاڑوں سے ٹکراجانے کی ہمت رکھتاہے اگر اس میں صرف ایک رب کاخوف موجودہو،ساراباطل اس سے لرزاں اور خوفزدہ رہتاہے لیکن اگر اس میں دنیاکاخوف بٹھالیں توہردن رسوائی کی موت آپ کی منتظررہتی ہے۔جو مسلمان قوم جہادسے منہ موڑتی ہے توہردن رسوائی کی موت اس کی منتظررہتی ہے ۔ہم ایک جوہری قوت ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے اپنے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف دنیاکی تمام جوہری طاقتیں افغان طالبان سے مذاکرات کیلئے راستہ ڈھونڈرہی ہیں جنہوںنے صرف جہادکا سہارالیکراپنے وجو دکو منوایا ہے۔   
دہشت گردی،شرپسندی اورتخریب کاری پر قابو پانے کے دعوے بھی عجیب ہیں،ہرروزمیڈیاپران دہشت گردوں،شرپسندوں اورتخریب کاروں کوکچل دینے کے تبصرے اورتجزئیے سنتا ہوں توحیرت میں گم ہو جاتاہوں۔اس دنیاکے نقشے میں کوئی اقتدارکی کرسی پربیٹھاہواشخص کسی ایک ملک کی بھی نشاندہی کرسکتاہے جوفخر کے ساتھ یہ دعوی کرسکتاہوکہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے کی اہلیت رکھتاہے۔امریکاسے برطانیہ، پورا یورپ، عراق سے لیکرسری لنکاتک،بھارت سے لیکر افغانستان تک،سب حکومتیں بے بس ہیں، مجبور ہیں، لاچارہیں لیکن کوئی اس بے بسی اورکمزوری کوقبول نہیں کررہا بلکہ ایسے ہی تجزیوں اورتبصروں پرعملدرآمدکی بنا پراس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں لیکن ضربِ عضب اورردالفسادآپریشنزنے اپنی جانوں کی قربانیوں سے سرکرکے دکھادیا۔کوئی یہ ماننے کیلئے تیارنہیں کہ مقلب القلوب صرف ایک ذات پروردگارہے جودلوں کو بدلتا ہے، ان کومحبت سے بھردیتاہے لیکن امریکااور بھارت نے تونفرت سیکھی ہے لیکن دنیاکی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم میں یہ بلانازل ہوئی وہ اپنی پوری صلاحیت کے باوجوداس سے نہیں لڑسکی۔
امریکہ اورمغربی ممالک(جن کے گھٹنوں کو چھو کر ہمارے حکمران دن رات بھیک مانگ رہے ہیں ) جوجدیدٹیکنالوجی رکھنے کادعوی ٰکرتے ہیں جہاں ہزاروں افراد اپنی اس ٹیکنالوجی کی بدولت دہشت گردوں کی بو سونگھتے  رہتے ہیں جہاں کوئی شہری اپنے پڑوسی میں کسی لمبی داڑھی والے کودیکھ لیں توفوراپولیس کوآگاہ کر تے ہیں،باہرسے آنے والوں کوگھنٹوں ائیر پورٹ پرسیکورٹی کے نام پرذلیل کیاجاتاہے،کیا وہاں یہ سب ختم ہوگیا ؟ یاان کے شہران خطروںسے محفوظ ہوگئے ہیں؟ یاان کاخوف کم ہوگیا؟ہرگزنہیں،ہم توایک آتش فشاں کے دہانے پربیٹھے ہوئے ہیں۔ کیادنیاکے کسی خطے میں ایسا ہواہے؟ویتنام،لاس، فلسطین،سری لنکا،چلی، نکاراگوا، کمبوڈیا،کہاں کسی نے میڈیاپرایسی دوکانداری چمکائی ہے؟لیکن شایدیہ خودکوبہت طاقتوراوردانشورسمجھتے ہیں۔ درپردہ ہمارے کچھ سیاسی لیڈراوردشمن تویہی چاہتے ہیں کہ بلوچستان اورفاٹامیں جاری آپریشن ناکام ہوں، عوام کاخون اوربہے اور گھرانے ماتم کدہ بن جائیں اورلوگ اس آگ میں جھلس جائیں اورپھر مجبور ہو کر سرجھکاکران کی ہربات،ہرمطالبہ مان لیں۔ جوہری اثاثوں اورکشمیرسے دستبرداری اوربھارت کی غلامی اختیارکرلیں لیکن وقت نے یہ ثابت کیاہے کہ ایسا نہ کبھی پہلے ہوا تھا اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔
ایک دفعہ پھر کشمیریوں کے جہادنے بھارت کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور بھارت ایسے مشکل حالات میں پہلے کبھی نہیں پھنسا جہاں اس کااپنا الیکٹرانک اورپریس میڈیاکشمیرکو بھارت کے ہاتھوں سے نکلنے کی دہائی دے رہاہے جہاں اس کے اپنے سیاسی دانشور بھارت کوکشمیرسے گلو خلاصی کامشورہ دے رہے ہیں۔ یہاں ہمارے پالیسی سازوں کوایسی مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے کہ آئندہ اگربھارت نے اس مشکل سے نکلنے کیلئے یا کشمیر کے مسئلے کودبانے کیلئے پاکستان کے سا تھ محاذ کھولنے کی کوئی کوشش کی توہماری اسٹریٹجی  کیاہوگی؟دفاعی تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس دفعہ زمینی حقائق تو پاکستان کی افواج کے حق میں ہیں ۔
رب کریم کے سامنے اپنی عاجزی،بے بسی کی دعائیں اورجہاد سے منہ موڑنے پراستغفارکی ضرورت ہے۔جن کے دلوں میں امریکہ کاخوف اورہاتھوں میں کشکول ہے ان کے تکبر ٹوٹنے کاوقت آپہنچاہے۔کیا ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کاوقت آن پہنچاہے؟سنا ہے جب جہاز ڈوبنے کاوقت ہوتاہے توچوہے سب سے پہلے جہاز چھوڑتے ہیں لیکن اب توشاید ان چوہوں کامقدر بھی ہمیشہ کیلئے غرق ہوناٹھہر گیا ہے۔کیاخوابوں کی تعبیرکا وقت آن پہنچاہے؟
جب تک نہ جلے دیپ شہیدوں کے لہو سے
سنتے ہیں کہ جنت  میں چراغاں  نہیں ہوتا
 

تازہ ترین خبریں