06:44 am
دینی مدارس کے معاملات  خوش اسلوبی سے حل

دینی مدارس کے معاملات خوش اسلوبی سے حل

06:44 am

بعد ازاں انہوں نے پریس کانفرنس میں بھی بہت واضح طور پر یہ بات کہی
(گزشتہ سے پیوستہ)
 بعد ازاں انہوں نے پریس کانفرنس میں بھی بہت واضح طور پر یہ بات کہی … ہم اس تحریر کے آخر میں وزیر تعلیم کی پریس کانفرنس او روزارت تعلیم کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کا پور امتن شامل کریں گے تاکہ اندازہ ہو کہ اجلاس کے دوران کتنے اہم امور پر پیش رفت ہوئی ،کتنے مثبت امور زیر بحث آئے لیکن اس کے باوجود بیرونی قوتوں کے ایماء پر سرگرم عمل سیکولر اور لادین لابی نے منفی پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ منفی چیزوں کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے اور اگر کسی معاملے میں منفی پہلو نہ بھی نکل رہا ہو تو اسے زبر دستی منفی رخ دیا جاتا ہے یہی کچھ مدارس کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس اجلاس اور ان مذاکرات میں برسوں سے تعطل اور التوا کا شکار دینی مدارس کے مسائل حل کیے گئے …بہت ہی خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی… بہت سے حل طلب امور کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا لیکن اس کے باوجو د ماحول ایسا بنایا جارہا ہے جیسے مدارس کی بساط لپیٹی جارہی ہو… جیسے مدارس کی مشکیں کسی جارہی ہوں …جیسے مدارس کو بند کرنے کا کوئی ایجنڈہ مسلط کیا جارہا ہو…بہرحال مجھے درد دل رکھنے والے محب وطن پاکستانیوں سے یہ کہنا ہے کہ ہم تفریق وتقسیم اور بگاڑ وفساد پیدا کرنے والے عناصر کے کسی خواب کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیں اور مثبت انداز سے ملک وملت کی بہتری کیلئے کردار ادا کریں ۔
 اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن  وزارت تعلیم کے تحت ہوگی اور پہلے جیسے 1860ء کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت وزارت صنعت کے تحت مدارس رجسٹر ڈ ہوتے تھے اب وزارت تعلیم کے زیر اہتمام رجسٹرڈ ہوں گے اور مدارس کی رجسٹریشن کے لیے کوئی نیا ضابطہ اور کوئی نیا فارم تیار نہیں کیا جائے گا بلکہ وہی فارم جس پر حکومت اور اتحا د تنظیمات مدارس کے مابین اتفاق ہوگیا تھااسی متفقہ فارم کی بنیاد پر مدارس کی رجسٹریشن کروائی جائے گی اور رجسٹریشن میں کسی قسم کے روڑے نہیں اٹکائے جائیں گے بلکہ سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ہر ممکن معاونت کی جائے گی ۔ ہم نے اس پہلو پر بھی توجہ مبذول کروائی کہ وفاقی وزارت تعلیم کا آفس تو اسلام آباد میں ہے مختلف علاقو ں کے مدارس کے ذمہ داران کے لیے اسلام آباد آمدورفت میں مشکل ہوگی اس پر وزارت تعلیم کے حکام نے واضح کیا کہ وزارت کے ریجنل آفس مختلف علاقوں میں پہلے سے موجود ہیں اور جہاں موجود نہیں ہوں گے اور ہم ضرورت سمجھیں گے وہاں ریجنل آفس قائم کردیں گے تاکہ مدارس کو رجسٹریشن میں آسانی ہو تاہم یہ فیصلہ بھی ہوا کہ اتنے انتظام کے باوجودبھی اگر کوئی مدرسہ خود کو رجسٹرڈ نہیں کروائے گا تو اسے بند کر دیا جائے گا ۔
اسی طرح مدارس کے بینک اکاؤنٹس کا معاملہ بھی زیرغور آیااور یہ طے پایا کہ تمام رجسٹرڈ مدارس کے بینک اکاؤنٹ کھولنے پر غیر اعلانیہ پابندی اٹھالی جائے گی اور مدارس کے اکاؤنٹ کھولے جائیں گے اور اگر کسی مدرسہ کو اکاؤنٹ کھلوانے میں کسی مشکل کا سامنا کرناپڑے گا تووزارت تعلیم اس کی معاونت کرے گی ۔
اسی طرح تقریبا دو عشروں کے بعد غیر ملکی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ نو برس اور کم ازکم جتنا اس کا تعلیمی دورانیہ ہوگا اور ادارہ درخواست کرے گا اتنے عرصے کا تعلیمی ویزہ یکبارگی دینے کا فیصلہ کیا گیا … ایک بہت اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ دینی مدارس سے کوائف کے حصول کی واحد مجاز اتھارٹی وزارت تعلیم ہوگی اور وزارت تعلیم کے علاوہ کسی ایجنسی ،کسی پولیس اہلکار اور کسی دوسرے ادارے کو کسی قسم کے کوائف کے حصول کے لیے براہ راست مدارس سے رجوع کا حق نہیں ہوگا بلکہ اگر کسی کو بھی کوائف کی ضرورت ہوگی تو وزارت تعلیم سے رجوع کرے گا اس فیصلے کی وجہ سے مدارس کو ہراساں کرنے ،علاقائی اور مسلکی بنیادوں پر بلیک میلنگ سمیت دیگر کئی مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔اجلاس کے دوران دینی مدارس میں میٹرک اور انٹر لیول کے عصری مضامین کو شامل کرنے اور ان کے امتحانات لینے نیز ڈگری جاری کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہ ہوسکااس حوالے سے عید کے بعد دوبارہ مذاکرات کا دور چلے گا۔ ہماری طرف سے دینی مدارس ومساجد کو یوٹیلٹی بلز میں رعایت دینے یا بالکل یوٹیلٹی بلز سے مستثنٰی قراردینے کی درخواست کی گئی لیکن جوابا یہ کہا گیا کہ فی الحال حکومتی خزانہ خالی ہے اس پر بعد میں غور کیاجائے گا۔ باقی جملہ امورخوش اسلوبی سے طے پائے۔

 

تازہ ترین خبریں