06:46 am
ماہ مبارک میں مہنگائی

ماہ مبارک میں مہنگائی

06:46 am

مختلف مذاہب اپنے ایام مقدس میں صارفین کے لئے خصوصی پیکیجز اور رعایتیوں کا اعلان کرتے ہیں۔ پچاس فی صد تک اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں چھوٹ دیتے ہیں
مختلف مذاہب اپنے ایام مقدس میں صارفین کے لئے خصوصی پیکیجز اور رعایتیوں کا اعلان کرتے ہیں۔ پچاس فی صد تک اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں چھوٹ دیتے ہیں۔ یہودیوں کا مقدس دن صبات جمعہ کے غروب آفتاب سے ہفتہ کے غروب آفتاب تک ہوتا ہے۔ ہفتہ کے دن یہودی تاجر قیمتوں میں کمی کر دیتے ہیں۔ عیسائیوں کا مقدس دن اتوار ہے۔ وہ اس مناسبت سے سنڈے مارکیٹ قائم کر کے قیمتوں میں خصوصی کمی کرتے ہیں۔ عیسائی حضرات کرسمس کے موقع پر خصوصی رعایت دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہندو تاجر بھی ہولی اور دیوالی کے موقع پر قیمتیں کم کر دیتے ہیں۔ مگر دنیا کے اس حصہ میں مسلم تاجر قمیتوں میں خصوصی کمی کے بجائے رمضان المبارک کے دوران خصوصی اضافہ کردیتے ہیں۔سبزیاں، پھل میوہ جات سمیت ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔ ضرورت کی ہر چیز کے دام بڑھا دیئے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک کو ہم نیکی کمانے کا مہینہ قرار دیتے ہیں، عملی طور پر ہمارے تاجر حضرات اسے پیسہ کمانے کا مہینہ بنا دیتے ہیں۔  ہر سال ماہ رمضان میں ہی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ روان سال حکومت نے اس اضافے کی بنیاد قائم کی۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ قیمتوں میں کمی یا اضافے کا سارا دارومدار پٹرول ڈیزل کے قیمتوں پر ہوتا ہے۔ پٹرول ڈیزل کی قمیت بڑھے تو ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
عمران خان کی حکومت کو 267دن ہو چکے ہیں۔ 18 اگست 2018سے 12مئی 2019 تک  اس حکومت نے متعدد بار پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ماہ مبارک کی آمد سے ایک روز پہلے پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا مطلب ماہ مبارک میں مہنگائی کی سونامی لانے کے متراف ثابت ہوا ہے۔ 12فی صد پٹرول اور 17فی صد ڈیزل کی قیمت بڑھتے  ہی صارفینکی کمر توڑ دی گئی۔عمران خان کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام کو فوری ریلیف دیں گے ۔ مگر یہ وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس ٹیم ہی نہیں ہے۔ لوگ کاغذی گھوڑے دوڑانے سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ مارکیٹ پر ذخیرہ اندوزوں کے بجائے حکومتی کنٹرول چاہتے ہیں تا کہ معیاری اور کوالٹی اشیاء مناسب نرخ پر دستیاب ہو سکیں۔ جب لوگ جان بچانے والی ادویات تک کو غیر معیاری اور جان لیوا بنا دیں تو دیگر سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ یہاں کوالٹی کنٹرول نام کا کوئی انتظام نظر نہیں آ رہا ہے۔ یا سرے سے یہ موجود ہی نہیں ۔ اگر ہے بھی تو فائلوں تک محدود ہو گا۔ بعض علاقوں میں اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ڈی ایم، وغیرہ بازاروں کی چیکنگ کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی جیسے ہفتہ وصولی ہم ہوتی ہے۔ جس مارکیٹ سے مرغ، انڈے، میوہ جات وغیرہ متعلقہ اہلکاروں کی گاڑیوں اور گھروں تک پہنچا دیئے جائیں وہ اس مارکیٹ کو کیا کنٹرول کریں گے۔ یہاں تک کہ بعض علاقوں میں سرکاری نرخ نامے ہی گراں فروشی کا موجب بنتے ہیں۔ کہیں بازاری قیمتوں سے سرکاری قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ محکمہ اور صارفین اور تقسیم کاری ناپید ہے۔ لوگ حیران ہوتے ہیں کہ سرکاری ریٹ لسٹ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے جاری ہوتی ہے یا گراں فروشی کو استحکام پہنچانے کے لئے۔ حکام لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے میں ناجائز منافع خوروں کی مدد کرتے ہیں۔
 ماہ مبارک ہمیں غریب پروری، اخوت و ہمدردی کا درس دیتا ہے مگر اس ماہ میں ہی ایسے کام کئے جاتے ہیں جو دینی تعلیمات کے منافی ہوتے ہیں۔ لوگوں کی خدمت اور ان کو راحت پہنچانے کے بجائے انہیں تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ دین جائز منافع کمانے کی اجازت دیتا ہے مگر ناجائز منافع خوری سے صارف جو تکلیف پہنچتی ہے۔ اب جب کہ عوام کی قوت خرید ہی متاثر ہو رہی ہے۔ ابھی ابھی تعلیمی سیشن شروع ہو ا ہے۔ بچوں کی کتابوں، وردیوں، فیسوں پر ہزاروں روپے خرچ کرنا پڑے۔ جہاں تعلیم اور صحت حکومت کی ذمہ داری ہے، وہاں لوگ علم اور صحت سے محروم کر دیئے ہیں۔ تعلیم اور صحت کی مفت فراہمی کجا ، پیسے دے کر بھی اس میں بہتری نہیں لائی جاتی۔ تعلیمی سیشن کے ساتھ ہی ماہ مبارک وارد ہو گیا ہے۔ مگر یہاں لوگ تاجروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ چھوٹا دکاندار ریٹ آگے صارف کو منتقل کرتا ہے۔ وہ ہول سیل ڈیلرز کو قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ منڈی میں اب مال کولڈ سٹورز اور بڑے گوداموں سے آتا ہے۔ یہ سٹورز اور گودام کسی حکومتی اہلکار کی سرپرستی میں قائم ہیں۔ جو قانون کی پہنچ سے دور ہیں۔ قانون ان کو شکنجے میں نہیں لا سکتا کیوں کہ انہوں نے قانون کو خرید لیا ہوتا ہے۔ قانون کی یہ خرید و فروخت سیاسی پارٹیوں کو چندہ کے نام پر رشوت دینے سے شروع ہوتی ہے۔ جب تک سیاستدانوں کی یہ بھیک نما چندہ مہم جاری رہے گی تو عام انسان کی زندگی متاثر رہے گی کیوں کہ مالدار اور فیکٹری، گودام مالکان، بڑے ڈیلرز یہ سب اپنے ٹیکسوں اور کمیشن کی صورت میں صارف کو منتقل کر دیتے ہیں۔ عوام کی جیب ہی اس سے کٹتی ہے۔ یہ جیب کترے حکمت عملی اور دانائی کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔ گلی محلے کا چھوٹا دکاندار بلا وجہ بدنام ہوتا ہے۔ بڑے ڈیلر اس کے ساتھ بھی ہاتھ کر جاتے ہیں اور اسے عوام کی گالیوں اور لعنت ملامت کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ان حالات میں قیمتوں پر قابو پانے کے دعوے اور اعلانات ہوائی ثابت ہوتے ہیں۔ بازار میں یہی تیزی ہے کہ ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ منافع کما ئیں اورپھر عیاشی پر ضائع کر دیں۔  اگر بازاروں کے ریٹ جانے بغیر ہی من پسند سرکاری نرخ جاری کئے جائیں گے تو اس سے مہنگائی کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہے۔  شاید وہ چاہتے بھی یہی ہیں کہ ناجائز منافع کا انہیں بھی معقول حصہ ملتا رہے۔ کبھی جب قیمتوں کو مقرر کرنے سے پہلے  ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور دیگر شہروں کے بیوپاریوں اور ڈیلرز کے نرخ معلوم کئے جاتے۔ کسان سے بازار تک پہنچنے ، فیکٹری سے ڈیلر تک آنے والی اشیاء کی کوالٹی اور معیار  پر نظر رکھی جاتی۔اسی حساب سے ان اشیاء کے نرخ چیک کئے جاتے۔ مگر جب بند کمروں میں بیٹھ کر افسر لوگ قیمتیں مقرر کرنے لگیں گے تو یہ عوام کے مفاد اور صارف کی قوت خرید کے مطابق کیسے ہوں گی۔ عمران خان حکومت سمیت صوبائی و ریاستی حکومتیں بھی کوالٹی کنٹرول میں ناکامی اور قیمتوں کی من مانی  کی ذمہ دار ہیں۔ وہ پالیسی اور حکمت عملی پر نظر ثانی سے عوام کو کچھ ریلیف پہنچا سکتی ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں