11:49 am
’’بیچارہ نظام‘‘

’’بیچارہ نظام‘‘

11:49 am

میرا نام نظام ہے اور میں بہت دیرسے دہائی دے رہا ہو ںکہ مجھے ان نقاب پوش ڈاکوئوں سے بچایا جائے
میرا نام نظام ہے اور میں بہت دیرسے دہائی دے رہا ہو ںکہ مجھے ان نقاب پوش ڈاکوئوں سے بچایا جائے جو میری شکل کا نقاب پہن کر میرا نام لے کر بار بار ملک لوٹنے آ جاتے ہیں اور عوام کو میرا نام لے کر ڈراتے ہیں کہ اگر ان کے ڈاکے، چوریاں، قبضے، فراڈ، جعلی اکائونٹ، جعلی دوائیاں، جعلی اشیاء اور قبضے کی زمین، بے تحاشہ غیر ملکی قرضے جو صرف اِن کا اکائونٹ میں جاتے ہیں، جعلی وعدے بے نقاب کئے گئے اور اس پر ان کی پکڑ دھکڑ ہوئی تو نظام فوت ہو جائے گا، میں اپنے ملک کے شہریوں کے سامنے اِن تمام بدعنوان عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں کہ میری تخلیق کے وقت تو یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ میری پناہ میں آنے والے ملک پاکستان میں اسلامی قوانین رائج کریں گے، عوام کے حقوق کی حفاظت کریں گے، ملک کی بہترین فلاح کے لئے کام کریں گے۔
 ملک میں ہرشہری کو ملازمت کے برابر کے حقوق حاصل ہوں گے، ان کی صحت کے لئے بہترین ہسپتال قائم کئے جائیں گے، روٹی، کپڑا مکان کے یکساں مواقع ملیں گے، امن و امان کی مثالی صورت پیدا کی جائے گی، ہر شہری کو اپنی مرضی کا کاروبار کرنے کی مکمل آزادی ہو گی، تحریر و تقریر پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔ اب اگر جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نہ توملکی قوانین پراسلامی قانون کو فوقیت حاصل ہے، نہ ہی عوام کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت دی جا رہی ہے، ملک کی فلاح کی بجائے اپنی اور اپنے خاندان کی دُنیاوی ولاح کیلئے لوٹ کھسوٹ کے ریکارڈ توڑے جا رہے ہیں، ہر شہری کو ملازمت کے مساوی اور قابلیت کی بنیاد پر نوکری کی ضمانت کے بجائے مختلف عوامی نمائندوں کو کوٹہ دے دیا جاتا ہے اور وہ اپنی من پسند افراد یا سکہ رائج الوقت کی صورت میں بہترین معاوضہ دے کر وہ ملازمتیں دی جاتی ہیں۔
جہاں تک صحت کے لئے ہسپتال قائم کرنے کا تعلق ہے تو تیس تیس سال تک حکومت کرنے والے اپنے علاج کے لئے دیار غیر کا رُخ کرتے ہیں حالانکہ انہیں تو مرنے کے لئے وسیع میدان میں چیلوں کوئوں کے لئے چھوڑ دینا چاہئے، روٹی کپڑا مکان تو اب صرف ان لوگوں کا حق رہ گیا ہے جو میرا نام لے لے کر شہریوں کو خوفزدہ کرتے ہیں کہ اگر ہماری بدعنوانیو ںکی طرف احتساب نے رُخ کیا تو بیچارہ نظام مَر جائے گا، امن و امان کی صورتِ حال یہ ہے کہ سندھ میں سینکڑوں وارداتیں روزانہ ہو رہی ہیں بلوچستان میں معصوم و بے گناہ لوگ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بے گناہ مارے جا رہے ہیں۔
پنجاب میں پولیس مقابلے زوروں پر ہیں اور قبضہ مافیا کسی بھی پراپرٹی وہ سرکاری ہو یا پرائیویٹ اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر اس پر تعمیر شروع کر دیتے ہیں، تحریر و تقریر کی کھلی خرید و فروخت جاری ہے اور دوسرے شعبوں کی طرح اِن بے لگام ضمیر فروشوں کو بھی پوچھنے والا کوئی نہیں سب سے پہلے یہی میری موت کی خبر لگاتے ہیں کہ نظام مَر رہا ہے جبکہ میں تو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اِن کی پھٹی ہوئی چپل سے ایکڑوں پر پھیلے فارم ہائوس چمکیلی گاڑیاں اور درآمد شدہ کپڑوں سے سجے ہوئے جہنم کے لئے تیار ہوتاہوا ایندھن دیکھ رہا ہوتا ہوں نظام انہوں نے دراصل اپنی خواہشات اپنے بڑھتے ہوئے لالچ، بھرے ہوئے بینک اکائونٹ، دنیا بھر لوٹ کھسوٹ سے خریدی گئی جائیدادوں کا نام رکھ دیا ہے چونکہ یہ چوری کے عادی ہیں اِس لئے میرا نام چرا کر اس کا ملمع اپنی خواہشات پر چڑھا دیا ہے۔
 اب تو مجھے ان سے سوال کرنا ہے کہ نظام تم لوگوں نے کِس چیز کا نام رکھا ہے جبکہ میرا نام تو انتہائی پاکیزہ اور ملک کو صحیح راستے پر چلانے والا ہے، میرا نام تو لوگوں بہترین خواہشات کا نام ہے میرا نام تو عوام کی خوشحالی، سکون، امن، تعلیم، صحت سچائی اور بہترین سیاست جو کہ ہر قسم کی گندگی سے پاک ہو، مجھے تولوگوں نے صدیوں کی تحقیق کے بعد تلاش کیا تھا اور میں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ملک لوٹنے والے، سازشوں کے انبار اپنے غلیظ ذہن میں چھپائے اور اپنے بچو ںکے لئے دوزخ کی کمائی کمانے والے میرے نام کو اِس طرح بدنام کریں گے کہ اگر ہمیں کرپشن سے روکا گیا، اگر لوٹی ہوئی کمائی ہم سے واپس مانگی گئی، اگر ملک دشمنی کی سازشوں پر ہم سے پوچھ گچھ کی گئی تو نظام خطرے میں پڑ جائے گا ۔
میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ مذہب کے نام پر بھی میری ہی زندگی کے بارے میں طرح طرح کے فقرے کہے جائیں گے، میں آج سرعام اِن تمام لوگوں سے لاتعلقی کا اعلان کر رہا ہوں اور عوام سے درخواست کر رہا ہوں کہ چور کوئی بھی ہو، کیسے ہی مرتبے پر فائز کیوں نہ رہا ہو، کتنے ہی بیچارے معصوم عوام اس کی چکنی چپڑی باتوں کے جال میں پھنس کر اسے ووٹ دے رہے ہوں اسے ہر گز ہر گز میری زندگی کا واسطہ بھی دے تو بھی اسے معاف نہ کریں اسے آنے والے وقتوں کے لئے عبرت کا نشان بنا دیں تا کہ میرا یعنی نظام کا واسطہ اپنی جھوٹ بولنے والی زبان سے نہ دے سکیں۔

 

تازہ ترین خبریں

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

صلح کا بیان دینا مہنگا پڑگیا، عہدے سے ہٹائے جانے کاامکان

صلح کا بیان دینا مہنگا پڑگیا، عہدے سے ہٹائے جانے کاامکان

کنیز اول اپنی جھوٹی رام لیلا میں روزانہ ایک نئے شگوفے کا اضافہ کرتی ہیں،فردوس عاشق اعوان

کنیز اول اپنی جھوٹی رام لیلا میں روزانہ ایک نئے شگوفے کا اضافہ کرتی ہیں،فردوس عاشق اعوان

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

 مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا

ڈرو اس وقت سے جب تمہارے پاس حکومت اور حکومتی  طاقت نہیں رہے گی،انشاءاللّہ فتح حق اور سچ کی ہوگی

ڈرو اس وقت سے جب تمہارے پاس حکومت اور حکومتی طاقت نہیں رہے گی،انشاءاللّہ فتح حق اور سچ کی ہوگی