06:51 am
جمہوریت اور جمہور کی سیاست

جمہوریت اور جمہور کی سیاست

06:51 am

جب بھی اپوزیشن حکومت   کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کرتی رہی ہے   حکومت  کی جانب سے یہی کہا جاتا رہا
جب بھی اپوزیشن حکومت   کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کرتی رہی ہے   حکومت  کی جانب سے یہی کہا جاتا رہا کہ  جمہوریت کے خلاف سازش  ہے ۔  سسٹم کو ڈی ریل  کیا جا رہا ہے ۔ کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپوزیشن   دشمن کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے    کیونکہ ترقی کے عمل  میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔  لیکن یہ نکتہ  نہ تو کوئی سیاسی جماعت  واضح کر سکی  کہ جمہوریت کا مطلب  کیا  ہے اور جمہور کی سیاست کیا ہوتی ہے اور نہ ہی کسی برسراقتدار   جماعت کو یہ ادراک  ہوا کہ وہ جمہوریت کے بارے میں  خود جان سکے یا پھر عوام  پر واضح کر سکے ۔ حکومتیںا قتدار میں آتے ہی   واویلا شروع کردیتی ہیں   کہ سابقہ حکومت خزانہ  خالی کر گئی ہے   ملک کو قرضوں میں جکڑ گئے ہیں   کرپشن عام کر گئے   سرکاری ادارے نااہل   ہیں کام نہیں کرتے   مگر اپنا عرصہ  اقتدار جانے والوں کی طرز میں گذارنے کا فریضہ   بخوبی انجام دیتے رہے ۔  اقتدار سے باہر رہ کر سسٹم فرسودہ  ، گلاسڑا اور بیکار لگتا ہے  مگر جب  اقتدار میں   آتے ہیں تو اسی سسٹم کو فالو کرنے لگتے ہیں۔ ڈکٹیٹرز  نے شوری  کا نام  دیا تو شوری ہی چلتا رہا جو کسی طور بھی درست نہیں۔ ڈکٹیٹر  نے صوبائی اور قومی   اسمبلیوں میں  مخصوص  نشستوں کا اضافہ کیا اور نامزدگیوں   کے ذریعے اپنے من پسند  شرفاء کو ممبران کا درجہ دینے  کا سلسلہ شروع کیا  تو وہ بھی  بصد خوشی قبول کیا اور پورے  دل وجان  سے اس پر عمل پیرا بھی ہو رہے ہیں ۔ لیکن ڈکٹیٹرز نے بنیادی سطح پر  بلدیاتی بنیادوں پر انتخابات کروا کر   لوکل گورنمنٹ  کے نظام کی  ابتدا کی تو اسے عمدا  نافذ نہیں  ہونے دیا اور  نہ ہی بلدیاتی  انتخابات کروائے    کیونکہ یہ ہمارے  جمہوریت  پسند رہنمائوں  کو پسند نہیں ۔ ڈکٹیٹرز نے معزز ممبران اسمبلی کو ترقیاتی   گرانٹس دینے کا سلسلہ شروع کیا تو  اس پر پابندی سے عمل جاری رکھا گیا  بلکہ یہی طریقہ سینیٹرز کے لیے شروع کردیا گیا اگرچہ ان کا کوئی حلقہ انتخاب نہیں ہوتا۔
جب بھی کسی  ڈکٹیٹرنے کوئی اہم فیصلہ لیا تو یہی کہا گیا کہ اگر منتخب حکومت ہوتی تو ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ پارلیمنٹ  کو اعتماد میں لیے  بغیر کوئی جمہوری حکمران فیصلے نہیں لے سکتا ۔ مگر عملا   پارلیمنٹ   کو اکثر صورتوں میں نہ تو  حالات وواقعات کا تناظر معلوم ہوتا ہے  او رنہ ہی انہیں سرکاری بینچوں  کی جانب سے بتایا جاتا ہے اگرچہ انہیں اس سے دلچسپی بھی نہیں ہوتی کیونکہ بالعموم  انہیں حلقے کی  اور اپنی مصروفیات  بکثرت ہوتی ہیں۔
بجلی ۔ گیس ۔ پٹرول کی  قیمتیں حکومت  اپنی صوابدیدی  اورضرورت کے مطابق بڑھا  دیتی ہے مگر پارلیمنٹ  اس بارے میں نہ آگاہی رکھنا چاہتی ہے اور نہ ہی  معزز اراکین  کو اس سے دلچسپی ہوتی ہے ۔  وزیراعظم غیر ملکی دوروں   پر جائیں وہاں معاہدے ہوں  ایم او یو    ہوں  پارلیمنٹ کو  اس سے  سروکار نہيں ہوتا۔   ممبران کی تنخواہوں  اور مراعات کا بل ہو تو بالعموم اتفاق رائے سے  پاس ہو جاتا ہے  ۔ الیکٹورل  ریفارمز کیلئے  ایک عرصہ ہو ا کمیٹی بنی تھی کبھی اس کی میٹنگز  بھی ہوا کرتی تھیں  مگر وہ ابھی تک نہ تو مکمل ہو سکیں اور نہ ہی پارلیمنٹ کو دلچسپی  ہے کہ اس بار ے پوچھے۔ صوبوں میں ینگ ڈاکٹرز  واویلا کرتے رہتے ہیں کہ خدارا   ہمارا ایک سروس سٹرکچر   بنا دو ایک باضابطہ   میڈیکل سروس  بنا دو مگر ایمرجنسی  بنیادوں پر صورت حال  پر قابو پالیا جاتا ہے اور میڈیا کے ذریعے  بے بس  مریضوں کا رونا   رو کر ڈاکٹروں پر لعن  طعن  کردی جاتی ہے ۔  پیرا میڈیکل سٹاف کی  ہڑتال کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے مگر  مسئلے کا  دیر پا حل نہیں تلاش کیا جاتا ۔
 کہنے کو تو ہم برطانوی جمہوریت  کو  فالو کر رہے ہیں ۔ مگر ہماری جمہوریت  نے کبھی ہائوس آف کامن  کو فالو نہیں کیا  ۔  ہماری پارلیمنٹ   تو سیون سٹار بلڈنگ اور سیون سٹار  سہولیات  والا جمہوری   ہائوس ہے جبکہ  لندن ہائوس  آف کامن   تو ابھی تک وہی پرانے   صوفوں اور کرسیوں پر مشتمل ہے البتہ اسی جگہ بیٹھ کر  ممبران عوام کی بات کرتے ہیں جبکہ ہمارے نوے فیصد  سے  زائد معزز  اراکین  تو شاید کبھی  کسی قانون  سازی کے عمل میں حصہ نہیں   لیتے ۔ یوں تو  قانون سازی  کا عمل ایک عرصے سے  نہیں ہو رہا کیونکہ  معزز ایوان  تو بدقسمتی سے ڈی  بیٹنگ کلب ہی ہے ۔  پوائنٹ سکورنگ  ہو تی ہے اپنے اپنے سربراہان کی تعریفیں اوردوسروں کے بارے تنقید  تک    ہی پارلیمانی ڈی  بیٹ محدود  ہو کر رہ گئی ہے ۔  سسٹم کو بچانے  کیلئے سب ایک ہوتے ہیں مگر جن کے ووٹوں  سے اس ایوان میں آئے ان کی بات  تو کبھی نہیں ہوتی  ۔ اکانومی پر بات  ہو تو سوائے   الزامات  اور  کائونٹر الزامات  کے حاصل بحث   کچھ نہیں ہوتا۔  
موجودہ حکومت  کو اب دس ماہ ہو چلے  ہیں اقتدار میں آئے  ہوئے ۔  وہ جو سٹرکچرل   تبدیلیوں کی بات کیا کرتے تھے اور نظام  کویکسر بدلنے کے دعوے کیا کرتے  تھے وہ کہاں کھو گئے ؟ اس پرانے  نظام  کے  رکھوالوں کے ساتھ پھر اسی پرانے نظام کو مستحکم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔   وہ جو تبدیلی کی باتیں کیا کرتے تھے  اب سرکار کے سٹیٹ آف دی آرٹ   بڑے ہسپتال بھی  سرمایہ داروں  کو دے دینا چاہتے ہیں ۔ وہ جو ہیومن ریسورس  ہیں سرمایہ کاری  کرنے کے دعویدار   تھے  وہ بھی اب پرائیویٹ سیکٹر   ایجوکیشن   سسٹم کو زیادہ مستحکم  کرنے کا سوچ  رہے ہیں۔ پولیس  ریفارمز ۔ ڈس  پیوٹ  ریزولوشن اداروں  کے   قیام کی باتیں   تو کی گئیں مگر پولیس کی قربانیوں اور لگن نے ایک نئی سوچ دے  دہی ہے ۔
جمہوریت کی  سیاست پہلے  بھی تھی  جمہوریت کی سیاست  اب بھی   ہے ۔ اب بھی نمبرز گیم  کو قابو میں رکھنا ہے تو بہت سارے معاملات  بیک برنر پر ڈالنے  پڑ گئے ہیں ۔ جمہور کی سیاست نہ پہلے تھی  اور نہ اب   ہے شاید اس لیے   بھی کہ خود جمہور  کو نہیں ادراک   کہ وہ بھی اس سیاست   میں ایک اہم  پلیئر ہیں وہ اب  تک یہی  سمجھ رہے ہیں کہ(باقی صفحہ6بقیہ نمبر19)
  جمہوریت بڑے لوگوں کی گیم ہے   اور جمہوریت نے خود ایک  Gated ۔۔ کمیونٹی    ۔۔رہائشی ایریا  بنا لیا ہے   جہاں باہر لکھا ہے  ’’ عام آدمی کا داخلہ منع ہے ۔‘‘
     ہر آنے والے   دور میں اس گیٹڈ   رہائشی علاقے   میں چند نئے الاٹی گھر بنالیتے ہیں اور پھر سب مل جل کر محبت سے رہتے ہیں ایک دوسرے کے دکھوں  میں شریک بھی ہوتے ہیں ۔ گیٹ سے باہر  والوں کے لیے فطرانہ  اور زکوۃ  کی ادائیگی سے ثواب بھی کما لیتے ہیں ۔
    ہر آنے والا  کہتا ہے ٹیکس  نیٹ بڑھایا جائے  ۔ لیکن کیسے ؟   کیا انہیں   گیگا مال ، سینٹورس  ۔  صفا مال نظر نہیں  آ تے  ۔ کون ہیں جو وہاں محض تفریح  کے لیے ایک ہزار روپے کا فی کا ایک کپ پینے کے لیے    دس کلومیٹر  کا سفر کرتے ہیں ۔ کیا شہروں میں کروڑوں روپے  مالیت کی گاڑیوں  والے نظر نہیں آتے  مگر  زور چلتا ہے تو پھر ڈیزل 10 روپے بڑھا دو ۔  کن لوگوں کے بچے امریکی برطانوی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں ۔ لیکن یہ سب نظر نہیں آئیگا   کیونکہ نظام   بدلنے کے لیے اپنے  آپ کو بدلنا پڑتا ہے ۔  کسٹ اٹھانا پڑتا ہے  اور اس لئے کوئی تیار نہیں۔
اشفاق گوندل کالم


 

تازہ ترین خبریں